• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ہماری پنجاب یونیورسٹی، اس قدیم مادر علمی کے موجودہ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد علی شاہ صاحب حیاتیاتی شعبے کے ماہر تعلیم اوربہترین منتظم ہیں۔آپ نہ صرف یہ کہ اس یونیورسٹی کے طالب علم رہ چکے ہیں بلکہ یونیورسٹی آف ویلز یوکے اور یونیورسٹی آف مسوری یو ایس سے بھی اپنی ڈاکٹریٹ اور اعلی ڈگریاں حاصل کر چکے ہیں۔ پنجاب یونیورسٹی میں وائس چانسلر کی ذمہ داری پر فائز ہونے کے بعد شاہ صاحب نے نہ صرف یہ کہ یونیورسٹی کو نئی راہوں پر گامزن کر دیا ہے بلکہ وراثتی خرابیوں کو دور کرنے کیلئے بھی کوششیں کر رہے ہیں۔ اس وقت پنجاب یونیورسٹی میں انیس فیکلٹیز کے ساتھ دس کالجز اورایک سو پچاس ڈپارٹمنٹس کام کر رہے ہیں، الحاق شدہ پانچ سو تیرہ کالجز ان کے علاوہ ہیں، یونیورسٹی میں اس وقت طلبہ کی تعداد چون ہزار سے تجاوز کر چکی ہے اور ریگولراساتذہ کی تعداد تیرہ سوہے۔ یونیورسٹی کی مین لائبریری طلباء کیلئے کسی نعمت سے کم نہیں۔ ہمارے پروفیسر ڈاکٹر ہارون عثمانی نے اس حوالے سے کامیاب کاوشیں کیں۔ حال ہی میں یونیورسٹی نے چائنا کی اوہان یونیورسٹی سے مل کر چاول کی ایک نئی ہائبرڈ قسم متعارف کرائی جس سے امید کی جا رہی ہے کہ ہماری فی ایکڑ پیداوار چار گنا بڑھ کر ایک سو چالیس من تک پہنچ جائے گی۔ اس تحقیقی و تخلیقی کام کے ساتھ طلباء میں غیر نصابی سرگرمیوں کو بڑھانےکیلئے کوشاں رہتے ہیں۔ نوجوانوں کو کھیلوں میں کارکردگی بہتر بنانے کے مواقع مہیا کیے جا رہے ہیں۔ اس مقصد کے تحت انہوں نے شعبہ صحافت کے جواں سال پروفیسر ڈاکٹر شبیر سرور کو تدریس کے ساتھ ساتھ کھیلوں کو فروغ دینے کیلئے اسپورٹس ڈائریکٹر کی ذمہ داری تفویض کی تویہ اسی کا ثمر ہے کہ پنجاب یونیورسٹی کھیلوں میں ملک کی نمبر ون یونیورسٹی قرار پائی ہے۔ اسکے کھلاڑی اندرون اور بیرون ملک اپنی اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے یونیورسٹی کے ساتھ ساتھ ملک و قوم کا نام روشن کر رہے ہیں۔ ایشین روئنگ چیمپئن شپ میں پنجاب یونیورسٹی ہیلے کالج کے ہونہار طالب علم زرک خان نے دو گولڈ میڈل جیتے۔ اس طرح عبدالرحمٰن اور گوہر ایوب نے بھی یونیورسٹی کو میڈل جتوائے۔ حال ہی میں یونیورسٹی طالبات نے بیرون ملک کھیلتے ہوئے اٹھارہ لاکھ کے نقد انعامات حاصل کیے۔ البتہ اس درویش کو ایک شکایت ضرور ہے کہ اتنے وسائل ہوتے ہوئے یونیورسٹی اسپورٹس کمپلیکس میں تاحال ایئر کنڈیشننگ کی سہولت میسر نہیں۔ شدید گرمی میں طلباء و طالبات کے پسینے چھوٹے ہوتے ہیں۔ ان نصابی و غیر نصابی سرگرمیوں کو پروموٹ کرنے کے علاوہ درویش کو جناب وائس چانسلر کے جس اقدام سے بہت خوشی ہوئی ہے وہ ان کا یونیورسٹی میں کرپشن مافیا کو مضبوط ہاتھ ڈالنا ہے، درویش کی زندگی کا حاصل ہے کہ رکاوٹیں اسی کی راہ میں ڈالی جاتی ہیں جو کام کرتا ہے۔ اگر کوئی افسری انجوائےکرنے والا معاملات سٹیٹس کو کی مطابقت میں چلنے دے تو کسی کوکوئی پرابلم نہیں ہوگی۔ چاروں اطراف سے آل رائٹ کی آوازیں آئیں گی لیکن اگر آپ سٹیٹس کو کے سرکل کو توڑتے ہوئے افکار تازہ کے ساتھ، قدامت و سہل پسندی کے بالمقابل جدت کی حدت سے نئی علمی و فکری ترقی کے علمبردار ہیں اور صدق دل سے یہ چاہتے ہیں کہ آپ کی یونیورسٹی کا شمار دنیا کی سو عظیم ترین یونیورسٹیوں میں ہو تو پھر یقین رکھیے سٹیٹس کو کی سہولیات سے مستفید ہونے والی بلائیں آپ کا راستہ روکنےکیلئے حسب توفیق اپناکیچڑلیے ضرور نکلیں گی۔ یہ کیچڑ آپ پر گرا پائیں یا ناکام رہیں البتہ ایسی کاوش ضرور کریں گی۔ کچھ ایسی ہی بلاؤں کا سامنا ان دنوں ہمارےوائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد علی شاہ کو کرنا پڑا ہے۔ کرپشن مافیا کا اولین پڑاو ہاؤسنگ سکیموں یا پلاٹوں کی لین دین یا لوٹ کھسوٹ میں ہوتاہے۔ کس قدر ظلم کی بات ہےکہ جو اساتذہ اپنی ریٹائرمنٹ پر زندگی بھر کی جمع پونجی سے گھر بنانے کے متمنی ہوں، پتا چلے کہ ان کا پلاٹ ہی پراپرٹی مافیا نے دبا رکھا ہے تو ان پر کیا گزرے گی۔ جناب وائس چانسلر، شکر و احسان کا استحقاق رکھتے ہیں کہ انہوں نے نتائج یا احتجاجی دھمکیوں کو خاطر میں لائے بغیر کرپشن مافیا پر کڑا ہاتھ ڈالتے ہوئے ایسی کرتوتوں کا نہ صرف سدباب کیا بلکہ ان کے بہکاوے میں آ کر جو ملازمین بددلی کے ساتھ احتجاج میں نکلے سچائی ان پر واضح کرتے ہوئے انکی آنکھیں کھول دیں۔اس حوالے سے ہمارے ایجوکیشن منسٹر، رانا سکندر حیا ت کا کردار بھی قابل تعریف ہے انہوں نےکہا ہے کہ جناب وائس چانسلر نے کرپشن مافیا کے خلاف جو اقدامات کیے ہیں ہم سب ان کیساتھ ہیں، امید ہے اس اعتماد کے ساتھ پنجاب یونیورسٹی آنے والے دنوں میں عالمی سطح پر اپنی رینکنگ سنوارنے میں کامیاب ہو پائے گی۔

تازہ ترین