رواں سال کا سپر ال نینو دنیا بھر میں غیر معمولی گرمی کا باعث بن رہا ہے جس کے نتیجے میں فروری 2027ء تک دنیا بھر میں گرمی سے ہونے والی اموات میں تقریباً 4 لاکھ 51 ہزار کا اضافہ ہو سکتا ہے۔
عالمی تحقیقاتی ادارے کلائمیٹ امپیکٹ لیب کی رپورٹ کے مطابق سپر ال نینو کے باعث معمول کے مقابلے میں انتہائی گرم دنوں کی تعداد 44 فیصد تک بڑھنے کا امکان ہے۔
محققین نے 24,378 علاقوں کے درجۂ حرارت، مقامی موسمی حالات اور آبادی کی حساسیت کا جائزہ لے کر اموات کا تخمینہ لگایا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس سپر ال نینو کے سب سے زیادہ اثرات ترقی پذیر ممالک پر پڑ سکتے ہیں، نائجیریا میں تقریباً 31,400، انڈونیشیا میں 19,300 اور سوڈان میں 17,600 اضافی اموات کا خدشہ ہے جبکہ ساحلی خطے میں نائجیریا، نائجر، چاڈ اور سوڈان سمیت مختلف علاقوں میں مجموعی طور پر 66,800 اضافی اموات کا اندازہ لگایا گیا ہے۔
فلپائن، ویتنام، تھائی لینڈ اور کمبوڈیا میں مجموعی طور پر مزید 19,400 اموات کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
موجودہ سپر ال نینو اگر آئندہ سال تک جاری رہا تو بھارت اور پاکستان سمیت شمالی دیگر علاقوں میں بھی شدید گرمی کے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلی نے ال نینو کے اثرات کو مزید شدید کر دیا ہے، شدید گرمی کے علاوہ بارشوں کے معمول میں تبدیلی، خشک سالی، سیلاب، جنگلات میں آگ اور زرعی پیداوار کے متاثر ہونے کے خدشات بھی موجود ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اموات کا 4 لاکھ 51 ہزار کا تخمینہ قطعی نہیں، بعض ماہرین نے اسے محتاط اندازہ قرار دیا ہے جبکہ کچھ نے مختلف خطوں میں اموات کی تقسیم پر تحفظات ظاہر کیے ہیں تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے مہینوں میں شدید گرمی اور دیگر موسمی اثرات سے انسانی جانوں، معیشت اور بنیادی ڈھانچے کو نمایاں نقصان پہنچنے کا خدشہ موجود ہے۔