• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

یوں لگتا ہے جیسے پاکستانی حکمران عالمی حالات سے بے خبر ہیں یا پھر انہیں اپنے شہریوں کی زندگیوں کی پروا نہیں۔ آج کل زیر بحث موضوعات میں نئے صوبے،بلدیاتی انتخابات، اسلام آباد کی انتظامی حیثیت،صدر زرداری اور میاں نواز شریف کی بیرون ملک روانگی، نام نہاد اینٹی کرپشن مہم،اور اس نوعیت کے دیگر موضوعات شامل ہیں لیکن دنیا میں ایک خطرناک موسمیاتی تبدیلی وقوع پذیر ہونے جا رہی ہے جسکے براہ راست اثرات پاکستان پر مرتب ہوں گے اسکی تیاری تو دور کی بات اس پر بات ہی نہیں ہو رہی۔ چند ماہ قبل سیم نالوں کی تباہی کے اثرات ابھی باقی ہیں،پنڈی اسلام آباد میں اربن فلڈنگ معمول بنتی جارہی ہے،لوگوں کے کاروبار تباہ ہو رہے ہیں لیکن حکومتی سطح پر اسکا سامنا کرنے کے آثار تک دکھائی نہیں دے رہے۔دنیا ایک ایسے موسمیاتی خطرے کے سامنے کھڑی ہے جسے محض موسم کی ایک خبر سمجھ کر نظر انداز کرنا خطرناک ہوگا۔ ایل نینو دراصل بحرالکاہل کے سمندری درجہ حرارت اور ہواؤں کے قدرتی نظام میں بڑی تبدیلی کا نام ہے۔ سمندر کے ایک وسیع حصے میں غیر معمولی گرمی پیدا ہوتی ہے تو اسکے اثرات صرف بحرالکاہل تک محدود نہیں رہتے بلکہ عالمی فضائی تحرک، بارشوں، درجہ حرارت اور موسموں کے معمولات متاثر ہوتے ہیں۔ جسکے نتیجے میں کہیں خشک سالی، کہیں شدید بارشیں، کہیں سیلاب اور کہیں غیر معمولی گرمی کا سامنا ہوسکتا ہے۔ ایل نینو کا اثر دنیا کے تمام علاقوں پر یکساں نہیں ہوتا۔ بعض خطوں میں معمول سے زیادہ بارشیں اور سیلاب آسکتے ہیں، جبکہ دوسرے علاقوں میں خشک سالی اور پانی کی قلت پیدا ہوسکتی ہے۔ اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام UNEP نے بھی 2026ء میں دنیا کو بڑھتے ہوئے درجہ حرارت اور ایل نینو کے ممکنہ امتزاج کے بارے میں متنبہ کیا ہے۔

پاکستان کے لئے اصل خطرہ

پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جہاں موسمیاتی خطرات پہلے ہی معیشت، زراعت اور انسانی زندگی کو متاثر کررہے ہیں۔ شدید گرمی، غیر معمولی بارش، سیلاب، خشک سالی، پانی کی قلت اور گلیشیرز سے متعلق خطرات ہمارے سامنے موجود ہیں۔ پانی کا بحران :پاکستان کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم ایک ہی وقت میں سیلابی پانی سے تباہ بھی ہوتے ہیں اور پانی کی قلت کا شکار بھی۔بارش کا بہت سا پانی ذخیرہ کیے بغیر سمندر میں چلا جاتا ہے، جبکہ چند ماہ بعد زراعت، صنعت اور گھریلو استعمال کے لیے پانی کم پڑنے لگتا ہے۔ زیرزمین پانی کے ذخائر پر بھی مسلسل دباؤ بڑھ رہا ہے۔اگر ایل نینو کے نتیجے میں بعض علاقوں میں مون سون کمزور پڑتا ہے تو یہ مسئلہ مزید سنگین ہوسکتا ہے۔ زراعت متاثر ہوگی، آبپاشی کا دباؤ بڑھے گا اور خوراک کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ پیدا ہوگا۔گرمی اور موسم کی شدت :شدید گرمی پاکستان کیلئے پہلے ہی ایک بڑا خطرہ بن چکی ہے۔ اگر عالمی درجہ حرارت کے بلند رجحان کیساتھ طاقتور ایل نینو بھی شامل ہوجائے تو ہیٹ ویوز کی شدت، دورانیہ اور انسانی صحت پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔اس کا جواب صرف یہ نہیں کہ گرمی آنے پر اسکول بند کردیئے جائیں۔ ہمیں ہیٹ ویو سے نمٹنے کیلئے مستقل منصوبہ بندی کی ضرورت ہے،اسی طرح اسپتالوں میںہنگامی حالت کا سامنا کرنیکی قبل از وقت تیاری، شہروں شجر کاری، صاف پانی کی دستیابی اور معاشرے غریب طبقات کے تحفظ کا نظام بنانا ہوگا۔

اب کیا کرنا ہوگا؟

سب سے پہلے حکومت کو ’’قومی ایل نینو و موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کا پیشگی منصوبہ‘‘ بنانا چاہئے۔ محکمہ موسمیات، NDMA، صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز، آبپاشی، زراعت، صحت اور ضلعی انتظامیہ کو ایک مشترکہ نظام کے تحت کام کرنا ہوگا۔ دوسرا، پیشگی اطلاعاتی نظام کو محض موبائل پیغام تک محدود رکھنے کے بجائے ’’'پیشگی حفاظتی اقدامات کا نظام بنانا ہوگا۔ خطرے کی اطلاع ملتے ہی لوگوں کی منتقلی، خوراک اور ادویات کا ذخیرہ، ریسکیو ٹیموں کی تعیناتی اور حساس علاقوں میں انتظامی اقدامات شروع ہوجانے چاہئیں۔تیسرا، پانی ذخیرہ کرنیکی قومی پالیسی ضروری ہے۔ بڑے منصوبوں کیساتھ چھوٹے ڈیم، بارشی تالاب، اور زیرزمین پانی کی بحالی پر توجہ دینا ہوگی۔چوتھا، زراعت میں پانی کا ضیاع ختم کرنا ہوگا۔ ڈرپ ایریگیشن کی حوصلہ افزائی کرنا ہوگی، کم پانی والی فصلوں کی منصوبہ بندی کرنا ہوگی۔پانچواں، شہروں میں قدرتی نالوں اور پانی کے راستوں کو محفوظ کرنا ہوگا۔ تجاوزات کیخلاف سیاسی مصلحت سے بالاتر ہوکر کارروائی کرنا ہوگی۔ سیلابی پانی کو دشمن سمجھنے کے بجائے اسے ذخیرہ کرنے اور زیرزمین پانی کو دوبارہ قابل استعمال کرنیکا نظام بنانا ہوگا۔اور سب سے بڑھ کر جنگلات، پہاڑی علاقوں اور دریائی نظام کا تحفظ کرنا ہوگا۔ ماحولیاتی تحفظ اب محض درخت لگانے کی مہم نہیں بلکہ قومی سلامتی کا مسئلہ بن چکا ہے۔اب وقت صرف وارننگ جاری کرنیکا نہیں، وارننگ کو عمل میں بدلنے کا ہے۔اگر ہمیں معلوم ہے کہ شدید گرمی آسکتی ہے تواسپتال آج تیار کیے جائیں۔ اگر سیلاب کا خطرہ ہے تو نکاسی آب کے راستے آج صاف کیے جائیں۔ اگر پانی کی قلت کا خدشہ ہے تو ذخائر آج بنائے جائیں۔ اگر مون سون غیر یقینی ہے تو کسان کو آج معلومات دی جائیں۔اگلی بارش کے بعد خیمے لگانا انتظام نہیںبارش سے پہلے جانیں بچانے کی منصوبہ بندی انتظام ہے۔ پاکستان موسم کو کنٹرول نہیں کرسکتا، ایل نینو کو روک نہیں سکتا، لیکن اسکے نتیجے میں ہونے والے نقصان کو بہت حد تک کم کرسکتا ہے۔ ہمارے پاس سائنس ہے، موسمیاتی ماہرین ہیں، ادارے ہیں، وسائل ہیں۔ ضرورت صرف سیاسی عزم اور ادارہ جاتی سنجیدگی کی ہے۔ہمیں ہر بحران کے بعد امدادی پیکیج کا اعلان کرنیوالی ریاست سے آگے بڑھ کر بحران سے پہلے تیاری کرنیوالی ریاست بننا ہوگا۔ کل اگر پانی کم پڑ گیا تو ذخیرہ بنانے کا وقت گزر چکا ہوگا، اور اگر سیلاب آگیا تو بند باندھنے کا وقت بھی۔ فیصلہ آج کرنا ہوگا۔ آنیوالے موسم کا اصل سوال یہ نہیں کہ ایل نینو کتنا طاقتور ہوگا۔ اصل سوال یہ ہے کہ پاکستان اسکے مقابلے میں کتنا تیار ہوگا۔

تازہ ترین