بحرالکاہل میں طاقت ور ال نینو تشکیل پا رہا ہے اور دن بہ دن مزید مضبوط ہو رہا جس کے عالمی موسم پر نمایاں اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے۔
امریکی قومی ادارہ برائے بحری و فضائی تحقیق کے مطابق سمندری درجۂ حرارت معمول سے 2 ڈگری سینٹی گریڈ بڑھ چکا ہے جس سے موجودہ ال نینو انتہائی طاقت ور سطح پر پہنچ گیا ہے۔
جون 2026ء میں شروع ہونے والے ال نینو کے 2027ء کے آغاز میں عروج پر پہنچنے کا امکان ہے جبکہ مارچ سے مئی 2027ء تک یہ برقرار رہ سکتا ہے۔
سپر ال نینو کے باعث مشرقی افریقا، جنوبی امریکا اور امریکا کے جنوبی علاقوں میں معمول سے زیادہ بارشوں، جبکہ جنوبی ایشیاء، جنوب مشرقی ایشیاء، آسٹریلیا اور جنوبی افریقا میں خشک سالی کا امکان ہے۔
مشرقی افریقا میں شدید بارش سے سیلاب کا خطرہ بھی بڑھ گیا ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق بھارت میں جون سے ستمبر تک بارش معمول سے 15 فیصد کم رہی جبکہ انڈونیشیا اور آسٹریلیا میں جنگلات کی آگ کا خطرہ بڑھنے کا خدشہ ہے۔
عالمی خوراک پروگرام کے مطابق ال نینو 2027ء کے اختتام تک مزید 49 ملین افراد کو شدید غذائی قلت میں مبتلا کر سکتا ہے جبکہ مکئی، چاول اور دیگر بارش پر انحصار کرنے والی فصلیں خطرے میں ہیں۔
عالمی موسمیاتی ادارے کے مطابق ستمبر سے نومبر تک دنیا کے بیشتر علاقوں میں معمول سے زیادہ گرمی متوقع ہے اور 2030ء تک گرمی کا عالمی ریکارڈ ٹوٹنے کا امکان 86 فیصد تک بڑھ گیا ہے۔
ال نینو شمالی امریکا میں بیشتر علاقوں میں برف باری کم کر سکتا ہے جبکہ امریکا کے جنوبی حصوں میں زیادہ برف پڑ سکتی ہے، بحیرۂ اوقیانوس میں بھی سمندری طوفانوں کی سرگرمی معمول سے کم رہنے کا امکان ہے۔
عرب میڈیا کی رپورٹ میں شامل کی گئی ماہرین کی رائے کے مطابق ال نینو کی شدت ہمیشہ اس کے علاقائی اثرات کی شدت کا براہِ راست تعین نہیں کرتی کیونکہ بحیرۂ ہند اور بحیرۂ اوقیانوس کی صورتِحال بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔