دنیا کے نقشے پر کچھ ملک گھر ہوتے ہیں اور کچھ راستے۔ گھر کے دروازے بند بھی کر دیے جائیں تو آدمی اندر رہ سکتا ہے، مگر راستے اپنے دروازے بند نہیں کر سکتے۔ ان پر قافلے بھی گزرتے ہیں، لشکر بھی، دوست بھی آتے ہیں اور دشمن بھی۔ پاکستان شاید ایسا ہی ایک راستہ ہے۔ ایک طرف چین کی طویل رفاقت، دوسری طرف امریکہ کی معاشی اور عالمی طاقت، ایک جانب ایران کی سرحد، دوسری جانب سعودی عرب سے دفاعی تعلق، اور کہیں قریب ترکیہ کا بڑھتا ہوا اشتراک۔ یوں لگتا ہے جیسے پاکستان ایک ایسے چوراہے پر کھڑا ہے جہاں ہر راستہ اسے بلاتا بھی ہے اور خبردار بھی کرتا ہے۔
آنے والے چند ماہ اسی لیے عام مہینے نہیں۔امریکہ سے مجوزہ دس ارب ڈالر کی مالی سہولت کا فیصلہ ہونا ہے۔ پاکستان چین کے ساتھ تیس ارب یوآن کے موجودہ مالی تبادلے کو آئندہ تجدید کے وقت بڑھانا چاہتا ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی بھی ایک نئے مرحلے میں داخل ہوچکی ہے۔ بظاہر یہ تین الگ خبریں ہیں، مگر تاریخ اکثر الگ الگ خبروں کو ایک ہی صفحے پر لکھ دیتی ہے۔ سوال یہ نہیں کہ پاکستان کو دس ارب ڈالر ملتے ہیں یا نہیں، سوال یہ ہے کہ اس رقم کے پیچھے بدلتی ہوئی دنیا پاکستان سے کیا توقع رکھتی ہے۔
ایران اس سوال کو اور مشکل بنا رہا ہے۔ امریکہ نے ایرانی ہوا بازی کے شعبے پر نئی اور وسیع پابندیاں عائد کی ہیں۔ ترکیہ اور عمان تک ایرانی پروازوں کے معاملے میں امریکی دباؤ کے اثرات پہنچے ہیں۔ ایران کےگرد معاشی گھیرا تنگ ہوتا ہے تو پاکستان اسے دور کھڑے کسی ملک کا مسئلہ سمجھ کر نظرانداز نہیں کرسکتا۔ ہمسائے کی دیوار میں آگ لگے تو اپنے صحن میں دھواں آنے کیلئے ویزا نہیں لیتا۔
دوسری طرف سعودی عرب ہے، جسکے ساتھ پاکستان کے دفاعی روابط گہرے ہوئے ہیں، اور ترکیہ بھی اس نئے دفاعی تعاون میں اہم فریق بن چکا ہے۔ یوں پاکستان ایک عجیب منظر کے درمیان ہے۔سعودیہ اور ترکیہ کے تمام ظاہری ،باطنی دشمن پاکستان کو اب کسی اور نظر سے دیکھ رہے ہیں۔چین کو بھی اس تصویر سے الگ نہیں کیا جاسکتا۔ چین ایران کا اہم معاشی شریک ہے، پاکستان کا سب سے اہم تزویراتی دوست بھی، اور ایک ایسی عالمی طاقت بھی جو امریکی بالادستی کے مقابل ایک مختلف عالمی بندوبست کی بات کرتی ہے۔ پاکستان کی معیشت، بنیادی ڈھانچے اور زر مبادلہ کے معاملات میں چین کی اہمیت بہت بڑھ چکی ہے۔ مگر پاکستان امریکہ سے بھی منہ نہیں موڑ سکتا۔ عالمی مالیاتی نظام، تجارت، سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی اور سفارتکاری کے کئی دروازوں پر اب بھی امریکی اثر نمایاں ہے۔ بات یہ ہے کہ دو کشتیوں میں پاؤں رکھنے والا ہمیشہ نہیں ڈوبتا، اگر دونوں کشتیاں ایک ہی سمت جارہی ہوں۔ مشکل اس دن شروع ہوتی ہے جب کشتیاں مخالف سمتوں میں چل پڑیں۔آنیوالے مہینوں کا اصل سوال یہی ہے کہ یہ کشتیاں کتنی دور جاتی ہیں۔پاکستان کو اس مقام پر غیر جانب داری سے زیادہ ’’فعال توازن‘‘ درکار ہے۔ فعال توازن کا مطلب ہر شخص کو خوش کرنا نہیں۔ وہ شخص جو سارے گاؤں کو خوش رکھنے نکلے، شام تک اپنے گھر والوں کو ناراض کر بیٹھتا ہے۔ ریاست کی دانائی یہ ہے کہ اسے معلوم ہو اس کا گھر کہاں ہے۔ پاکستان کا گھر اس کے اپنے قومی مفاد میں ہے۔ اسے امریکہ سے تجارت اور سرمایہ کاری چاہیے، چین سے گہری معاشی اور تزویراتی رفاقت چاہیے، سعودی عرب کے ساتھ دفاعی تعلق چاہیے، ترکیہ کے ساتھ تعاون چاہیے اور ایران کے ساتھ امن چاہیے۔ ان میں سے کوئی خواہش بذات خود دوسری کی دشمن نہیں، لیکن بڑی طاقتوں کی کشمکش انہیں ایک دوسرے کا مخالف بنا سکتی ہے۔اسی لیے دس ارب ڈالر کی امریکی مالی سہولت صرف رقم نہیں ہوگی۔ کبھی کبھی رقم کے نوٹ پر وہ سوال بھی لکھا ہوتا ہے جو بینک نہیں پوچھتا، تاریخ پوچھتی ہے۔ چین کیساتھ مالی تبادلے میں اضافہ بھی محض زر مبادلہ کا معاملہ نہیں ۔ ایران اور امریکہ کے مذاکرات صرف تہران اور واشنگٹن کی کہانی نہیں ۔ ان سب کے بیچ کہیں پاکستان کھڑا ہے۔پاکستان کی مشکل یہ نہیں کہ اس کے دوست کم ہیں۔ اسکی مشکل یہ ہے کہ اسکے دوست ایک دوسرے کے دوست نہیں۔ اور ایسے وقت میں دوستی سے زیادہ دانش کی ضرورت ہوتی ہے۔ پہاڑ ہوا کو روک نہیں سکتا، مگر اپنی جگہ چھوڑ بھی نہیں دیتا۔ شاید ریاستوں کو بھی بعض موسموں میں پہاڑ ہونا پڑتا ہے۔ آنیوالے چند ماہ شاید یہ طے نہ کریں کہ پاکستان کس کا دوست ہے۔ وہ اس سے زیادہ اہم سوال کا جواب دے سکتے ہیں: بدلتی ہوئی دنیا میں پاکستان کے پاس اپنے فیصلے خود کرنے کی کتنی جگہ باقی ہے۔یہی معاملات موجودہ حکومت کے دورانیہ کا تعین کرسکتے ہیں۔اسٹیبلشمنٹ کے فیصلے بھی غالباً اس کے ساتھ جڑے ہیں۔