• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان کا برآمدی شعبہ معاشی ترقی، روزگار کی فراہمی اور زرمبادلہ کے حصول کا اہم ذریعہ ہے۔ تاہم ملکی معیشت کے استحکام سے جڑے اس اہم صنعتی شعبے کی ترقی اور برآمدات بڑھانے کی کوششوں میں انرجی ٹیرف ایک بڑی رکاوٹ بنتا جا رہا ہے۔ بالخصوص بجلی کے نرخوں میں مسلسل تبدیلی اور غیر متوقع اضافی چارجز نے برآمدی صنعت کیلئے کاروباری منصوبہ بندی کو مشکل سے مشکل تر بنا دیا ہے۔ اس وجہ سے ویلیو ایڈڈ ٹیکسٹائل سیکٹر کو کاروباری لاگت میں مسلسل اضافے اور پالیسیوں میں غیر یقینی صورتحال کے باعث بنگلہ دیش، ویتنام، چین اور بھارت جیسے اہم علاقائی حریفوں کی جانب سے سخت مسابقت کا سامنا ہے۔ اس صورتحال میں بہتری کیلئے پاکستان ہوزری مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن، پاکستان ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن اور آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن کی جانب سے حکومت کیساتھ بار بار یہ مسئلہ اٹھایا گیا ہے لیکن تاحال اس حوالے سے کوئی مثبت پیشرفت سامنے نہیں آئی ہے۔ واضح رہے کہ اس وقت مسئلہ صرف یہ نہیں ہے کہ پاکستان میں بجلی خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں بہت مہنگی ہے بلکہ اس سے بھی بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اسکی قیمت میں کوئی استحکام نہیں ہے۔ برآمدی صنعتوں کیلئے یہ صورتحال اس لئے زیادہ تشویشناک ہو جاتی ہے کہ انہوں نے بین الاقوامی خریداروں کیساتھ معاہدے کئی ماہ پہلے طے کرنے ہوتے ہیں جس کیلئے برآمدی مصنوعات کی قیمتیں بھی پہلے سے طے کرنا ہوتی ہیں۔ اسلئے اگر برآمدی آرڈر ملنے کے بعد بجلی کی قیمت میں اضافہ ہوتاہے تو اس کا بوجھ برآمد کنندہ کو برداشت کرنا پڑتا ہے جس سے اسکی لاگت بڑھ جاتی ہے۔ اسلئے بجلی کی قیمت میں مسلسل اضافہ براہ راست صنعت کے منافع، مسابقت اور نئی سرمایہ کاری کی صلاحیت کو متاثر کرتاہے۔ اس طرح بجلی کی قیمت میں اضافے کی پالیسی ایک بنیادی معاشی تضاد کو ظاہر کرتی ہے کہ ایک طرف حکومت برآمدات میں نمایاں اضافہ چاہتی ہے جبکہ دوسری طرف برآمدی صنعتوں کو ایسے انرجی ٹیرف کا سامنا ہے جو قابل بھروسہ نہیں ہے۔ اسلئے برآمدی صنعتوں کیلئے پیداواری لاگت کا اندازہ لگا کر مستقبل کی منصوبہ بندی کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ یہ صورتحال اس وجہ سے مزید گھمبیر ہو جاتی ہے کہ عالمی منڈی میں پاکستانی ٹیکسٹائل مصنوعات کا مقابلہ ان ممالک سے ہے جہاں کی برآمدی صنعتوں کو نہ صرف پاکستان کے مقابلے میں کم قیمت پر توانائی، ٹیکس، لاجسٹکس اور دیگر بنیادی سہولیات حاصل ہیں بلکہ انہیں ان عوامل پر اخراجات کے حوالے سے نسبتاً زیادہ قابل پیش گوئی ماحول میسر ہے۔ ایسے میں مقامی صنعت کیلئے صرف پیداوار کا معیار بہتر بنانا کافی نہیں ہے بلکہ اسے لاگت کے اعتبار سے بھی مسابقتی رہنا ہوتا ہے۔ اس ماحول میں بھی ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز حکومت سے کوئی سبسڈی نہیں مانگ رہے بلکہ انرجی ٹیرف کے تعین کا ایک شفاف، مسابقتی اور قابل بھروسہ نظام چاہتے ہیں۔ حکومت کیلئے اس فرق کو سمجھنا ضروری ہے کہ مستقل سبسڈی کسی صنعت کو طویل مدت میں مسابقتی نہیں بناتی لیکن ایک منصفانہ اور قابل پیش گوئی انرجی ٹیرف لازمی طور پر صنعتی ترقی کیلئے سودمند ثابت ہو سکتا ہے۔ اس ایک سہولت کی بدولت نہ صرف صنعتوں کیلئے اپنے مستقبل کے اخراجات کا اندازہ لگانا ممکن ہو سکے گا بلکہ وہ اسکی بنیاد پر زیادہ اعتماد کیساتھ بڑی تعداد میں برآمدی آرڈرز حاصل کرنے کے علاوہ نئی سرمایہ کاری کے فیصلے بھی کر سکیں گے۔یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ بار بار انرجی ٹیرف میں تبدیلی کا ایک نقصان یہ ہو رہا ہے کہ برآمدی صنعتوں کو اپنی مشینری، ٹیکنالوجی، پیداواری صلاحیت اور برآمدی توسیع پر سرمایہ کاری کے بجائے توانائی کے متبادل انتظامات پر سرمایہ خرچ کرنا پڑ رہا ہے۔ بجلی کی قیمت اور فراہمی غیر یقینی ہونے کی وجہ سےصنعتیں باامر مجبوری کیپٹیو پاور، سولر اور دیگر متبادل ذرائع پر منتقل ہو رہی ہیں۔ یہ سرمایہ کاری بعض حالات میں ضروری ہو سکتی ہے لیکن جب کاروبار کو اپنی بنیادی پیداواری ضروریات کے بجائے توانائی کے بحران سے نمٹنے کیلئے اربوں روپے مختص کرنا پڑیں تو نئی مشینری، آٹومیشن، تحقیق، مصنوعات میں تنوع اور نئی منڈیوں تک رسائی کیلئے دستیاب سرمایہ کم ہو جاتا ہے۔ اسکے اثرات صرف بڑے ٹیکسٹائل یونٹس تک محدود نہیں ہیں بلکہ بڑی کمپنیوں کیساتھ ساتھ ہزاروں چھوٹے اور درمیانے درجے کے وینڈرز، پروسیسرز، ٹرانسپورٹرز، پیکیجنگ یونٹس اور مختلف سروس فراہم کرنیوالے بھی متاثر ہو رہے ہیں کیونکہ وہ براہ راست برآمدی صنعتوں کیساتھ منسلک ہیں۔ اس سے بڑے صنعتی یونٹس کی پیداواری لاگت بڑھنے کیساتھ ساتھ پوری سپلائی چین متاثر ہو رہی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ برآمدی صنعتوں کے تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد توانائی کے شعبے کی مجموعی مالی ضروریات کو سامنے رکھ کر ایسی مستقل، کاروبار دوست اور مؤثر پالیسیاں تشکیل دے جن سے پیداواری لاگت میں کمی، مسابقت میں بہتری اور پاکستان کے برآمدی شعبے کی پائیدار ترقی یقینی بنائی جا سکے۔

تازہ ترین