• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان کی سیاست میں بعض اوقات اصل کہانی وہ نہیں ہوتی جو پریس کانفرنسوں، جلسوں اور ٹوئٹس میں دکھائی دیتی ہے، بلکہ اصل کہانی ان رابطوں میں چھپی ہوتی ہے جو پردے کے پیچھے جاری رہتے ہیں۔ گزشتہ پانچ چھ ہفتوں کے دوران حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کی قیادت کے درمیان ہونیوالے متعدد رابطوں اور ملاقاتوں نے اب کم از کم ایک بات خاصی واضح کر دی ہے کہ ریاستی اور حکومتی حلقوں میں پی ٹی آئی کی احتجاج، مارچ، دھرنے اور سڑکیں بند کرنیوالی سیاست کے بارے میں برداشت ختم ہو چکی ہے۔ میری معلومات کے مطابق، ان ہفتوں میں ایک اہم حکومتی شخصیت، جنہیں مقتدر حلقوں کے قریب سمجھا جاتا ہے، اور پی ٹی آئی کی قیادت کے درمیان چھ سات کے قریب ملاقاتیں ہوئیں۔ ان رابطوں میں صرف موجودہ مارچ کی تاریخ یا انتظامی معاملات زیر بحث نہیں رہے بلکہ بنیادی سوال یہ رہا کہ حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان آئندہ سیاسی کشمکش کی نوعیت کیا ہوگی۔ اب جو پیغام سامنے آ رہا ہے، وہ نسبتاً سادہ ہے... اگر پی ٹی آئی اپنی سیاست کو احتجاجی مارچ، اسلام آباد کی طرف پیش قدمی، دھرنے، لاک ڈاؤن یا ایسے احتجاج میں تبدیل کرتی ہے جسکے دوران تصادم اور تشدد کا خطرہ پیدا ہو، تو اس طرزِ سیاست کو پہلے کی طرح برداشت نہیں کیا جائیگا۔ یہاں ایک اہم فرق سمجھنا ضروری ہے۔ اختلافِ رائے، حکومت پر تنقید، پارلیمانی سیاست، جلسے اور سیاسی سرگرمی ایک الگ چیز ہیں۔ جبکہ ریاستی اداروں کے نقطۂ نظر سے سڑکوں کی بندش، دارالحکومت کی ناکہ بندی یا ایسا احتجاج جس میں تصادم کا امکان پیدا ہو، بالکل مختلف معاملہ ہے۔ حالیہ دنوں میں وفاقی دارالحکومت اور پنجاب کے بعض علاقوں میں سکیورٹی انتظامات اور رینجرز کی تعیناتی بھی اسی سخت ماحول کی عکاسی کرتی ہے۔ اس بار ایک اور غیر معمولی پہلو خیبر پختونخوا کا ہے۔ ماضی میں پی ٹی آئی کیلئے یہ صوبہ ایک ایسے سیاسی اور انتظامی مرکز کی حیثیت رکھتا رہا ہے جہاں سے کارکنوں کو متحرک کرکے اسلام آباد کی طرف لانا نسبتاً آسان سمجھا جاتا تھا۔ لیکن اس بار صورت حال مختلف دکھائی دی۔ صوبائی حکومت کی موجودگی کے باوجود پولیس اور انتظامیہ کے معاملے میں پی ٹی آئی کو وہ عملی سہولت حاصل نہیں ہوئی جس کی اسے توقع رہی ہوگی۔ میرے ذرائع کے مطابق، صوبے میں پی ٹی آئی کے بعض ارکانِ اسمبلی، وزرا اور مقامی تنظیموں پر بھی دباؤ رہا، جبکہ بعض مقامات پر گرفتاریوں اور چھاپوں کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔ ان دعوؤں کی مکمل آزادانہ تصدیق ایک الگ معاملہ ہے، لیکن سیاسی طور پر اہم بات یہ ہے کہ پی ٹی آئی نے پہلی مرتبہ یہ محسوس کیا کہ صرف صوبائی حکومت کا اقتدار میں ہونا اس بات کی ضمانت نہیں کہ ریاستی مشینری احتجاجی سیاست کیلئے اس کے ساتھ چلے گی۔ بلکہ اب تو معاملہ صوبائی ریاستی مشینری کی طرف سے بھی ایسا احتجاج روکنے کا سامنے آیا ہے۔ یہی وہ تبدیلی ہے جس نے موجودہ صورتحال کو ماضی کے مقابلے میں مختلف بنا دیا ہے اور تحریک انصاف کی پریشانی بڑھا دی ہے۔ 25 ستمبر کو پی ٹی آئی نے بالآخر 27 ستمبر کے مارچ کو مؤخر کرکے 4 اکتوبر کو پشاور سے مارچ شروع کرنے کا اعلان کیا۔ لیکن تاریخ کی تبدیلی شاید اصل سوال نہیں ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا مارچ صرف مؤخر ہوا ہے یا پی ٹی آئی اور حکومت کے درمیان کسی بڑے سیاسی سمجھوتے کی طرف بھی کوئی راستہ نکل سکتا ہے؟ پسِ پردہ رابطوں سے جو تصویر بنتی ہے، اس میں پی ٹی آئی کے سامنے ایک ممکنہ راستہ رکھا گیا ہے۔ اس راستے کی بنیاد یہ ہوگی کہ پارٹی مستقبل میں احتجاجی مارچ، دھرنے، سڑکوں کی بندش اور تصادم کی طرف لے جانے والی کالزسے مکمل گریز کرے۔ اگر ایسا کوئی واضح سیاسی عزم سامنے آتا ہے تو پھر عمران خان سے ملاقاتوں، ان کی صحت اور علاج سے متعلق معاملات، ہسپتال منتقلی اور دیگر انسانی و انتظامی معاملات میں نسبتاً نرمی کی گنجائش پیدا ہوسکتی ہے۔بشریٰ بی بی کے معاملے میں بھی بعض سہولتوں پر غور کی بات سامنے آتی ہے، جن میں بنی گالہ کو سب جیل قرار دے کر منتقلی کا امکان شامل ہے۔ اسی طرح ملاقاتوں کی بحالی بھی زیر بحث آسکتی ہے۔ تاہم اس پورے تصور کے ساتھ ایک بنیادی شرط جڑی ہوئی ہے کہ ان سہولتوں کو دوبارہ سیاسی محاذ آرائی کیلئے استعمال نہ کیا جائے۔ یہی دراصل موجودہ کشمکش کا مرکزی نکتہ ہے۔ ریاستی اور حکومتی حلقوں کا تاثر یہ ہے کہ عمران خان سے ملاقاتیں یا جیل سے ان کا سیاسی پیغام باہر آنا اگر دوبارہ فوری طور پر احتجاجی تحریک، مارچ یا سڑکوں پر تصادم میں تبدیل ہوتا ہے تو پھر ایسی سہولتوں کا مقصد ہی ختم ہو جاتا ہے۔ دوسری طرف پی ٹی آئی کیلئے بنیادی سوال یہ ہے کہ اگر احتجاجی سیاست کو محدود کر دیا جائے تو عمران خان کی رہائی اور پارٹی کے سیاسی مطالبات کیلئے دباؤ کیسے برقرار رکھا جائے؟ یہ ایک آسان سوال نہیں۔ پی ٹی آئی کے سامنے دوسرا راستہ وہی ہے جسے اس کے بعض حلقے مزاحمت یا فیصلہ کن احتجاج سمجھتے ہیں۔ مگر ریاستی حلقوں کی موجودہ پوزیشن اس بارے میں بھی واضح دکھائی دیتی ہے کہ 9 مئی جیسے واقعات کے قریب پہنچنے والی کسی بھی صورتحال کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد ریاست اور پی ٹی آئی کے تعلقات پہلے ہی شدید کشیدگی کا شکار رہے ہیں۔ اس لیے موجودہ سکیورٹی پالیسی کو اسی پس منظر سے الگ کرکے دیکھنا مشکل ہے۔ اس پورے معاملے میں سب سے اہم سوال شاید یہ نہیں کہ 4 اکتوبر کو مارچ ہوگا یا نہیں۔ اہم سوال یہ ہے کہ پاکستان کی سیاست میں احتجاجی سڑک اور پارلیمانی سیاست کے درمیان حد کہاں قائم ہوگی۔ اگر پی ٹی آئی یہ سمجھتی ہے کہ وہ اپنی سیاسی جدوجہد کو پارلیمان، عدالتوں، سیاسی مذاکرات، جلسوں اور منظم مگر پرامن سیاسی سرگرمی تک محدود رکھ سکتی ہے تو حکومت کے ساتھ مذاکرات کیلئے ایک نئی گنجائش پیدا ہوسکتی ہے۔ اگر حکومت بھی اس کے جواب میں سیاسی اور قانونی دائرے کے اندر رہتے ہوئے سہولتوں اور مذاکرات کا راستہ کھولتی ہے تو شاید موجودہ کشیدگی کو کسی نئے سیاسی فارمولے میں تبدیل کیا جاسکے۔ لیکن اگر دونوں جانب سے دوبارہ طاقت کا امتحان ہی اصل سیاست بن گیا تو پھر تاریخیں بدلنے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ 27 ستمبر کے بجائے 4 اکتوبر، یا 4 کے بجائے 5 اکتوبر، صرف کیلنڈر کی تبدیلی ہوگی۔ بنیادی تنازع اپنی جگہ موجود رہے گا۔ اس وقت دستیاب اشارے یہی بتاتے ہیں کہ ریاستی حلقوں نے پی ٹی آئی کیلئے ایک لکیر کھینچ دی ہے۔ اس لکیر کے ایک طرف سیاسی سرگرمی، مذاکرات اور ممکنہ سہولتیں ہیں، جبکہ دوسری طرف مارچ، دھرنا، سڑکوں کی بندش اور تصادم کی سیاست ہے۔ اب فیصلہ پی ٹی آئی کو کرنا ہے کہ وہ اپنی سیاسی جدوجہد کو کس راستے پر لے جانا چاہتی ہے۔ اور شاید یہی آنیوالے دنوں کی اصل خبر ہوگی۔

تازہ ترین