اقوامِ متحدہ میں امریکی سفیر مائیک والٹز نے دعویٰ کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی نئی جنگ بندی تجویز اس لیے مسترد کی کیونکہ تہران نے مذاکرات دوبارہ شروع کرنے سے قبل بہت زیادہ رعایتیں مانگ لی تھیں۔
مائیک والٹز کے مطابق ایران نے مذاکرات کی بحالی کے لیے امریکی بحری ناکہ بندی ختم کرنے، پابندیاں اٹھانے اور اربوں ڈالرز کے منجمد اثاثوں تک رسائی دینے کے مطالبات کیے تھے۔
مائیک والٹز نے دعویٰ کیا ہے کہ ٹرمپ کو ایران کے وعدوں پر اعتماد نہیں ہے۔
یاد رہے کہ صدر ٹرمپ نے بھی ایرانی قیادت کی تجویز مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایران یہ معاہدہ اس لیے چاہتا ہے کیونکہ ایران بری طرح نقصان اٹھا رہا ہے۔
ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے امریکی الزامات کو پرانے اور غیر ثابت شدہ الزامات قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے ایران کے حقوق کا احترام ضروری ہے۔
ایرانی تجویز میں منجمد اثاثوں کی واپسی، ایرانی تیل پر پابندیاں ختم کرنے اور آبنائے ہرمز میں امریکی بحری ناکہ بندی ختم کرنے کا مطالبہ شامل تھا۔
عباس عراقچی نے کہا ہے کہ سفارت کاری کی اُمید اب بھی موجود ہے تاہم گزشتہ 2 سال کے امریکی رویے کے باعث موجودہ امریکی انتظامیہ کے ساتھ دوبارہ مذاکرات میں واپسی کی کوئی واضح وجہ نظر نہیں آتی۔
صدر ٹرمپ نے ایران کی نئی تجاویز کو مسترد کرنے کے باوجود کہا ہے کہ مذاکرات آئندہ ہفتے دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں، ایران معاہدہ چاہتا ہے لیکن وہ ایسا معاہدہ ہے جس پر امریکا شاید ایک سال قبل رضا مند ہو جاتا۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق واشنگٹن اور تہران کے درمیان بالواسطہ مذاکرات آج سے شروع ہو سکتے ہیں جبکہ ٹرمپ نے ایران کے خلاف دوبارہ مکمل فضائی حملوں کا امکان بھی ظاہر کیا ہے۔