• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

فکری دہشت گردی عملی دہشت گردی سے زیادہ خطرناک ہے، طاہر اشرفی

فائل فوٹو
فائل فوٹو

چیئرمین پاکستان علماء کونسل حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا ہے کہ فکری دہشت گردی عملی دہشت گردی سے زیادہ خطرناک ہے۔

جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ میں منعقدہ عالمی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ فکری دہشت گردی کے سدباب کے لیے علماء، مشائخ، جامعات، مدارس، مذہبی قوتوں اور حکومتوں کو ہنگامی اقدامات کرنا ہوں گے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ حرمین شریفین یا ارضِ حرمین کی سلامتی پر حملہ پوری امتِ مسلمہ کے لیے ناقابلِ قبول ہے۔ حرمین شریفین کے دفاع کے لیے سعودیہ کے ساتھ ہیں۔

طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ اسلام اور جہاد کے نام پر نوجوانوں کو گمراہ کرنے والی قوتوں کا بلاخوف و مصلحت فکری مقابلہ کرنا ہوگا، مسلم نوجوانوں کو اسلام اور جہاد کے نام پر گمراہ کرنے والوں نے مسلم دنیا کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم 45 سال سےحالتِ جنگ میں ہیں اور آج تک ایک لاکھ پاکستانی دہشت گردی کا نشانہ بن چکے ہیں۔ ان تمام قوتوں کا راستہ روکنا ہوگا جو مذہب، اسلام اور جہاد کے نام پر نوجوانوں کو گمراہ کرتے ہیں۔

چیئرمین پاکستان علماء کونسل نے کہا کہ اسلام امن، اعتدال، عدل اور انسانی حرمت کا دین ہے، دہشت گردی، انتہاپسندی اور بے گناہ انسانوں کے قتل کا اسلامی تعلیمات سے کوئی تعلق نہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ فکری انحراف کا مقابلہ صرف سیکیورٹی اقدامات سے نہیں بلکہ تعلیم، علم، مکالمے سے کرنا ہوگا۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ حوثی تنظیم یمن میں بے گناہ انسانوں کو قتل کرتی ہے۔جس طرح فلسطینیوں قتل ناقابلِ قبول ہے، اسی طرح یمن میں بے گناہ انسانوں کا خون بہانا بھی قابلِ مذمت ہے۔

طاہر محمود اشرفی کا کہنا تھا کہ حوثی اسلام اور فلسطین کا نام لیتے ہیں لیکن اسرائیلی جہازوں کو راستہ اور سعودی جہازوں کو نشانہ بناتے ہیں۔ 

کانفرنس سے امام کعبہ، مختلف اسلامی ممالک کے علماء، مفتیانِ کرام اور ممتاز اسلامی شخصیات نے بھی خطاب کیا۔

قومی خبریں سے مزید