ایران نے برطانیہ کے فیئر فورڈ ایئر بیس پر مبینہ دہشت گرد حملے کی سازش میں ملوث ہونے کے الزامات کو سختی سے مسترد کر دیا۔
لندن میں واقع ایرانی سفارت خانے نے جاری کیے گئے بیان میں کہا ہے کہ بعض برطانوی شخصیات اور ذرائع ابلاغ کی جانب سے ایران کے خلاف بے بنیاد اور بدنیتی پر مبنی قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔
بیان میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ اس قسم کے الزامات برطانیہ میں ایران مخالف پروپیگنڈے کو ہوا دے سکتے ہیں۔
ایران نے اس معاملے پر مناسب قانونی اقدامات کرنے کا حق محفوظ رکھنے کا بھی اعلان کیا ہے۔
دوسری جانب برطانوی پولیس نے تاحال گرفتار افراد کا ایران سے کوئی تعلق ثابت ہونے کی تصدیق نہیں کی ہے۔
واضح رہے کہ ایران کا یہ ردِعمل برطانیہ کے جنوب مغربی علاقے گلوسٹر شائر میں واقع آر اے ایف فیئر فورڈ ایئر بیس کے قریب 5 مشتبہ افراد کی گرفتاری کے بعد سامنے آیا ہے۔
اس اڈے پر امریکی فوجی طیارے تعینات رہے ہیں، جنہیں ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں استعمال کیا گیا۔
علاوہ ازیں برطانوی وزیرِ خارجہ ایڈ ملی بینڈ نے گزشتہ روز اپنے بیان میں کہا ہے کہ برطانیہ کو یورپ اور دنیا کو درپیش تمام سیکیورٹی خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار رہنا ہو گا۔
انہوں نے ایران سے منسلک گروہوں کے خلاف کارروائی کا عندیہ دیا لیکن زیرِ تفتیش واقعے میں ایران کے ملوث ہونے کی تصدیق نہیں کی۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق برطانوی حکام اس معاملے میں مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کر رہے ہیں اور تفتیش میں ایران کے علاوہ روس کے ملوث ہونے کے امکانات پر بھی غور کر رہے ہیں۔