• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کراچی صرف پاکستان کا سب سے بڑا شہر ہی نہیں بلکہ ملکی معیشت کیلئے ریڑھ کی ہڈی اور معاشی سرگرمیوں کا اہم ترین مرکز بھی ہے۔ کراچی کی بندرگاہیں ملکی تجارت کیلئے مرکزی حیثیت رکھتی ہیں، پاکستان کی صنعت، تجارت، بینکاری، برآمدات، درآمدات اور کاروباری سرگرمیوں کا ایک بڑا حصہ کراچی سے وابستہ ہے اور شہر کے صنعتی علاقوں میں ہزاروں صنعتیں پاکستان بھر سے آئے لاکھوں افراد کے روزگار کا ذریعہ بھی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کراچی میں امن و امان کی صورتحال محض ایک شہری یا انتظامی مسئلہ نہیں بلکہ اسکے اثرات براہ راست ملکی معیشت پر مرتب ہوتے ہیں۔ یہ شہر قومی خزانے میں 60 فیصد سے زائد ریونیو کی صورت میں ادا کرتا ہے۔ 2.5 کروڑ سے زائد آبادی والے اس شہر میں امن و امان کے قیام کیلئے پاکستان رینجرز سندھ کا کردار ہمیشہ سے اہم رہا ہے جس نے پولیس کے ساتھ مشترکہ سیکورٹی حکمت عملی سے شہر کے سکیورٹی ماحول کو بہتر بنانے میں اپنا کردار ادا کیا ہے اور اس حکمت عملی کے نتیجے میں بھتہ خوری اور ٹارگٹ کلنگ جیسے جرائم میں کمی سے شہریوں اور کاروباری طبقے کا اعتماد بحال ہوا ہے۔ اسی پس منظر میں ڈی جی رینجرز سندھ میجر جنرل محمد شمریز خان کا تقریباً دو سالہ دور خصوصی اہمیت کا حامل ہے جنہوں نے نومبر 2024 میں سندھ رینجرز کی کمان ایسے وقت سنبھالی جب کراچی میں امن و امان کی صورتحال بالخصوص اسٹریٹ کرائم کے حوالے سے شہریوں اور کاروباری برادری میں تشویش پائی جاتی تھی۔

میجر جنرل شمریز خان کے دور کی نمایاں خصوصیت سکیورٹی معاملات کے ساتھ ساتھ کاروباری برادری سے براہِ راست رابطہ بھی رہی۔ کراچی میں تعیناتی کے دوران شمریز خان سے میرا اچھا انٹرکشن رہا اور میں نے انہیں ہمیشہ خوش مزاج، متحرک اور لوگوں کے مسائل بغور سننے اور سمجھنے والا پایا۔ شہر میں امن و امان سے متعلق جب بھی کسی مسئلے کی جانب ان کی توجہ دلائی گئی تو انہوں نے اسے محض رسمی طور پر سننے کے بجائے اس پر عملی توجہ دی، یہی وجہ ہے کہ بزنس کمیونٹی کیساتھ انکا رابطہ محض رسمی ملاقاتوں یا تصویری نشستوں تک محدود نہیں رہا بلکہ کاروباری طبقے کو درپیش سکیورٹی مسائل کے حل کیلئے عملی اقدامات بھی کئے گئے، اس طرح بزنس کمیونٹی نے انکے دور میں خود کو زیادہ محفوظ محسوس کیا۔ شمریز خان نے اپنے دور میں سائٹ ایسوسی ایشن سمیت دیگر صنعتی علاقوں کا دورہ کیا اور صنعتکاروں سے ملاقات میں صنعتی علاقوں کی سکیورٹی کو اولین ترجیح دی۔ انکے دور میں سکیورٹی کو صرف سڑکوں اور چیک پوسٹوں تک محدود رکھنے کے بجائے کاروباری اور صنعتی سرگرمیوں کے تحفظ کو بھی اہمیت دی گئی، اسکے ساتھ ساتھ رینجرز اور پولیس کی مشترکہ سکیورٹی حکمت عملی میں کاروباری برادری اور غیر ملکی شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنایا گیا۔ گزشتہ دنوں بزنس کمیونٹی کو جب یہ خبر سننے کو ملی کہ میجر جنرل شمریز خان عنقریب پاک فوج میں اپنی نئی ذمہ داریاں سنبھالنے کیلئے کراچی سے رخصت ہورہے ہیں تو بزنس کمیونٹی کو خوشی کیساتھ ساتھ انکے جانے پر افسوس بھی ہوا۔ اپنی روانگی سے قبل جنرل شمریز خان نے کراچی کے بزنس مینوں کو الوداعی ملاقات کیلئے مدعو کیا جس میں، میں بھی موجود تھا۔ دوران گفتگو میں نے جنرل شمریز خان سے کہا کہ کراچی کے مسائل کو قریب سے دیکھنے اور سمجھنے کے بعد اب آپ اسلام آباد میں شہر کا مقدمہ زیادہ موثر انداز میں پیش کرسکتے ہیں، کراچی جیسے معاشی مرکز کو آج بھی پانی، ٹرانسپورٹ، انفراسٹرکچر، سڑکوں، سیوریج اور دیگر بنیادی شہری سہولتوں کے حوالے سے متعدد چیلنجز درپیش ہیں، ایک ایسا شہر جو ملکی معیشت میں غیر معمولی کردار ادا کررہا ہے، اسکے شہریوں کو بنیادی سہولتوں کیلئے پانی کے ٹینکروں، سیکورٹی اور متبادل انتظامات پر انحصار کرنا پڑتا ہے، یہ صورتحال یقیناََ توجہ کی مستحق ہے۔ اپنے الوداعی خطاب میں میجر جنرل شمریز خان نے کہا کہ وہ کراچی کے مسائل سمجھتے ہیں اور انکے حل کیلئے پوری کوششیں بروئے کار لائیں گے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ بزنس کمیونٹی کے ساتھ جو تعلق انہوں نے اپنے دور میں قائم کیا ہے، وہ کراچی سے روانگی کے بعد بھی برقرار رہے گا۔

سندھ رینجرز کو یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ 2013 میں جب کراچی کے حالات بہت خراب تھے اور بوری بند لاشیں ملنا روز کا معمول بن گئی تھیں، وزیراعظم نواز شریف کی ہدایت پر ’’کراچی آپریشن‘‘ کا آغاز کیا گیا جس میں سندھ رینجرز نے کلیدی کردار ادا کیا اور چند ہی سالوں میں کراچی کی رونقیں دوبارہ بحال ہوگئیں۔ کراچی آپریشن جب شروع کیا گیا تو اُس وقت میجر جنرل رضوان اختر سندھ رینجرز کی قیادت کررہے تھے، آپریشن کے دوران ہی 2014 میں وہ ڈی جی آئی ایس آئی تعینات ہوئے اور ان کے بعد ڈی جی رینجرز سندھ میجر جنرل بلال اختر نے آپریشن جاری رکھا اور وہ 2016 میں ترقی پاکر پاکستان آرمی کے چیف آف جنرل اسٹاف تعینات ہوئے۔ شمریز خان کو بھی پاک فوج کے حساس ادارے آئی ایس آئی میں اہم ذمہ داری سونپی گئی ہے جس سے انکے تجربے اور اہمیت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ ڈی جی رینجرز سے ملاقات کے بعد جب میں باہر آیا تو عمارت کے احاطے میں یادگارِ شہدا دیوار پر نظر پڑی جس پر 155سے زائد ان رینجرز افسران اور اہلکاروں کے نام درج تھے جنہوں نے کراچی میں قیام امن کیلئے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کئے۔ ان ناموں کو دیکھ کر احساس ہوا کہ شہر میں امن کی قیمت ان جوانوں کی قربانیوں میں پوشیدہ ہے۔ امید ہے کہ نئے ڈی جی رینجرز سندھ اپنے پیشرو کی روایت کو آگے بڑھائیں گے اور بزنس کمیونٹی کیساتھ براہِ راست اور موثر رابطہ برقرار رکھیں گے۔ کراچی کے کاروباری حلقوںکے مسائل کو سمجھنا، انکی نشاندہی کرنا اور متعلقہ اداروں کے ساتھ ملکر انکے حل کی کوششیں کرنا شہر کے معاشی استحکام کیلئے نہایت ضروری ہے۔ کراچی کا امن صرف اسکے شہریوں کی ضرورت نہیں بلکہ یہ پاکستان کی معیشت کی ضرورت ہے۔

تازہ ترین