• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

انگلینڈ کا سفر چاہے کسی بھی مقصد کے تحت ہو، درویش اسے ’’اسٹڈی ٹور‘‘ یا مطالعاتی دورے کی حیثیت دے دیتا ہے۔ ہمیشہ سے یہ کوشش رہتی ہے کہ یہاں کے تاریخی مقامات، لائبریریوں، آرٹ گیلریوں، چرچز، ریسرچ سینٹرز، کنگڈم اور ڈیمو کر یسی کے نمائندہ اداروں، ادبی و ثقافتی مراکز کیساتھ ساتھ جدید تعمیر و ترقی اور تفریحی مراکز کا بھی مشاہدہ کیا جائے، تاکہ گریٹ برٹن اور اس خطے کے عظیم الشان ماضی و حال کو سمجھنے کی کوشش کی جا سکے۔ اربن لائف کیساتھ ساتھ یہاں کی رورل لائف کا جائزہ بھی اس سٹڈی ٹور یا مطالعاتی سفر کا حصہ رہتا ہے۔یہ وہ خطہ ہے جس نے ایک زمانے میں سیاسی اعتبار سے ایسی سلطنت قائم کی جس پر سورج غروب نہیں ہوتا تھا ۔ علمی، فکری، سائنسی، ادبی اور تہذیبی حوالوں سے بھی اس نے دنیا پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ یہاں کا علمی و ادبی ورثہ پوری دنیا کی فکری اور ادبی ترقی پر اثرانداز ہوا۔اپنے پچھلے وزٹ میں یہ ناچیزانگلینڈ کی فطری خوبصورتی، بالخصوص انسانی حسن سے اس قدر متاثر ہوا کہ’’ جنگ‘‘ کیلئے یہاں سے بھیجے جانے والے پہلے کالم کا عنوان تھا’’حسیناؤں کے دیش میں‘‘ کالم شائع ہوا تو کئی احباب نے فون پر اعتراضات اٹھائے،کہا گیا کہ آپ کی حسن پرستی یا خوبصورتی کیلئے دیوانگی اس قدر بڑھی ہوئی کیوں ہے؟ گریٹ بریٹن سے علم و فن کی جو آبیاری ہوئی، دنیا کو تہذیب و فکر کے میدان میں جو کچھ ملا، اس پر بھی توجہ مبذول کرائیے۔ درویش نے اس مفت مشورے کے بعد کے کالم کا عنوان رکھا ’’سولائزیشن اور ڈیموکریسی کے گہوارے میں‘‘۔ حالیہ وزٹ میں قدرت نے ناچیز کو یہاں کی رورل یا ولیج لائف کو بھی قریب سے دیکھنے کا موقع فراہم کیا۔کل ہی محترمہ ڈاکٹر خلعت النساء اور عزیزم ڈاکٹر ہارون خان کے ہمراہ عظیم برطانوی دانشور، ادیب، شاعر اور ڈرامہ نگار ولیم شیکسپیئر کی جنم بھومی Stratford-upon-Avon وزٹ کرنے کا موقع ملا۔شیکسپیئر دنیا کے عظیم ترین ادیبوں میں شمار ہوتا ہے۔ انکی زندگی کا بیشتر ادبی سفر لندن سے وابستہ رہا، مگر انکی جڑیں اسی چھوٹے سے خوبصورت شہر Stratford-upon-Avon میںپیوست ہیں۔ یہاں آکر یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کسی عالمی شہرت یافتہ ادیب کے نہیں بلکہ ایک ایسے انسان کے نقشِ قدم تلاش کر رہے ہیں جو اسی شہر کی گلیوں میں کھیلتا، پڑھتا، جوان ہوتا، محبت یا شادی کرتا اور پھر دنیا کے عظیم ترین ادیبوں میں شمار ہونے کے بعد اسی سرزمین کی طرف واپس لوٹتا دکھتا ہے۔یہاں شیکسپیئر کا Birthplace محفوظ ہے، جہاں وہ 23اپریل 1564ء میں پیدا ہوا۔ اس کے بچپن، خاندان اور ابتدائی زندگی سے متعلق یادیں بھی اسی شہر میں ہیں۔ اسکا تاریخی اسکول روم بھی ملاحظہ کیا۔یہاں شیکسپیئر کی یادگاروںکے ساتھ اسکی محبت ،شریک حیات Anne Hathaway کا گھر بھی محفوظ رکھا گیا ہے۔ اسکے گردونواح کے باغات اور سبزہ زار بھی اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں۔شیکسپیئر کی کامیابی کے بعد خریدے گئے انکے آخری گھر New Place کی اصل عمارت اگرچہ اب موجود نہیں، لیکن اس جگہ کو یادگار اور آثارقدیمہ کی صورت میں محفوظ رکھا گیا ہے۔ یوں ایک شخص کی زندگی کے مختلف مراحل،پیدائش، بچپن، تعلیم، شادی، خاندان، کامیابی اور آخری ایام،ایک ہی شہر میں ایک دوسرے سے جڑے نظر آتے ہیں۔انگریزوں نے Stratford-upon-Avon میں شیکسپیئر سے متعلق تمام یادگاروں کو بہت خوبصورتی اور اہتمام سے محفوظ کر رکھا ہے۔البتہ درویش کو ایک بات کھٹکی بھی۔ یہاں تقریباً ہر تاریخی مقام کے ساتھ ٹکٹ سسٹم ہے۔ بعض مقامات پر داخلہ، واکنگ ٹور، میوزیم اور یادگاروں کے مشاہدےکیلئے بھی باقاعدہ ٹکٹ درکار ہوتا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ انگریزوں نے اپنے تاریخی ورثے کو محفوظ رکھنے کے ساتھ ساتھ اسے آمدنی کا ذریعہ بنانے کے نت نئے طریقے بھی تلاش کر رکھے ہیں۔

اس سفر کا سب سے زیادہ متاثر کرنے والا مقام Holy Trinity Church تھا۔اسی چرچ میں شیکسپیئر کا بپتسمہ 26 اپریل 1564ء کو ہوا اور پھر 23 اپریل 1616ء کو وفات کے بعد یہیں ان کی تدفین ہوئی۔ چرچ کے تاریخی ریکارڈ میں ان کی بپتسمہ اور تدفین کے اندراجات آج بھی محفوظ ہیں۔شیکسپیئر کی قبر کوئی بلند و بالا مقبرہ نہیں۔ فرش پر ایک سادہ سی جگہ نشان زدہ ہے۔ قریب ہی ان کے حوالے سے تختی موجود ہے۔ دنیا کے عظیم ترین ادیب کی آخری آرام گاہ کو دیکھ کر ایک لمحے کیلئے انسان ٹھٹھک جاتا ہے۔ جس شخص کے قلم نے بادشاہوں، شہزادوں، جرنیلوں، عاشقوں، قاتلوں، فلسفیوں اور عام انسانوں کے کرداروں کو صدیوں کیلئے زندہ کر دیا، وہ خود ایک سادہ سی قبر میں آسودۂ خاک ہے۔یہاں یہ خیال بھی آیا کہ انسان کی اصل عظمت اس کے مادی عروج میں نہیں، اس کے کام اور فکر کے زندہ رہنے میں ہے۔شیکسپیئر کو گزرے چار صدیاں ہونے کو ہیں، مگر دنیا آج بھی Hamlet، Macbeth، Othello، King Lear اور Romeo and Juliet کے ذریعے انسانی فطرت، محبت، اقتدار، حسد، جرم، ضمیر اور المیے کو سمجھنے کی کوشش کرتی ہے۔درویش شیکسپیئر کی قبر کے سامنے کھڑا سوچ رہا تھا:کیا عظمت بڑے محل میں رہنے کا نام ہے؟ کیا بڑے مقبرے کا نام ہے؟ کیا دولت، اقتدار اور شہرت ہی انسان کو بڑا بناتے ہیں؟شیکسپیئر کی قبر اس سوال کا خاموش جواب دیتی ہے.... ایک سادہ سی قبر مگر اس قبر میں وہ شخص سو رہا ہے جس کا قلم چار صدیوں بعد بھی دنیا بھر کے انسانوں سے مخاطب ہے۔شاید انسان کی اصل زندگی اس کی سانسوں کے رک جانے کے بعد شروع ہوتی ہے،جب اس کے فکرو فن اور شبد اس کی ذات سے آگے نکل کر آنیوالی نسلوں کا حصہ بن جاتے ہیں۔،شیکسپیئر کی قبر پر کھڑے ہوکر درویش کو محسوس ہوا کہ انسان فنا ہوتا ہے، مگر اس کا کام اسے صدیوں تک امر بناتاہے۔

تازہ ترین