رات کے پونے ایک بجے انگلستان کے دیہی علاقوں میں زندگی اپنا دروازہ بند کر چکی ہوتی ہے۔یہ وہ پہر ہے جب سڑکیں سانس روک لیتی ہیں، جب کھیت اندھیرے کی چادر اوڑھ کر سو جاتے ہیں، جب دور کسی اکیلی گاڑی کی روشنی لمحہ بھر کو تاریکی کا سینہ چیرتی ہے اور پھر اسی تاریکی میں دفن ہو جاتی ہے۔ گلوسٹرشائر کی مٹی میں بھی ستائیس ستمبر کی رات ایسا ہی سکوت تھا۔ مگر فیئر فورڈ کے قریب اس سکوت کی ریڑھ ٹوٹ گئی۔فیئر فورڈ۔ وہ نام جو نقشے پر ایک ہوائی اڈہ ہے، مگر تاریخ کے حافظے میں ایک علامت ہے۔ وہی اڈہ جس کی ہواؤں میں امریکی بمبار طیاروں کی گھن گرج محفوظ ہے، جہاں سے اڑنے والے پرزوں پر ایران کے خلاف لکھی گئی حکمتِ عملیوں کی گرد جمی ہے۔ اسی اڈے کی جانب تین سفید گاڑیاں دیکھی گئیں۔ چہرے ڈھکے ہوئے تھے، رفتار میں عجلت تھی، نیت میں پردہ تھا۔ کسی نے پولیس کو خبر کی اور پھر وہ ہوا جو انگلستان کے دیہی سکوت میں کبھی کبھار ہوتا ہے - مسلح سائے، بندوقوں کی سرگوشی، اور نیلی بتیوں کا وہ رقص جو رات کو دن بنا دیتا ہے۔ پانچ نوجوان گرفتار ہوئے۔پتہ چلا، وہ پانچوں غیر ملکی نہیں، برطانوی شہری تھے۔ پتہ چلا، ان کی گاڑیوں سے بارود نہیں، پٹرول ملا ہے۔ پتہ چلا، پولیس کے اپنے الفاظ میں، وہاں کوئی تیار دھماکہ خیز آلہ سرے سے تھا ہی نہیں۔ اور پھر وہ ہوا جس کی توقع ایک دہشت گردی کی کہانی میں نہیں ہوتی - تفتیش کے بعد پانچوں کو سخت شرائط کے ساتھ ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔ جو کہانی آگ سے شروع ہوئی تھی، وہ دھوئیں کے بغیر ختم ہونے لگی۔کچھ ذہن یہ سوچنے پر مجبور ہوئے کہ کیا کوئی تیسری آنکھ اس منظر کو دیکھ رہی تھی؟ کوئی ایسا ہاتھ جو ایران اور برطانیہ کو براہِ راست ٹکرانا چاہتا ہو؟ اس کا مقصد ایران کا حملہ کروانا نہیں، ایران کے نام پر حملہ کروانا تھا۔ ایسا حملہ جسے دیکھتے ہی دنیا کی زبان پر ایک ہی نام آئے اور اس مقصد کے لیے فیئر فورڈ سے بہتر اسٹیج کیا ہو سکتا تھا؟ ایک ایسا اڈہ جو پہلے ہی ایران کے خلاف استعمال ہو چکا ہو۔ اگر وہاں ٹائر جلتے، دیواریں گرتیں، کیمرے جلتی ہوئی گاڑیوں کی فوٹیج دکھاتے، تو باقی کہانی تصویریں خود سنا دیتیں۔ برطانیہ کہتا، ہماری سرزمین پر حملہ ہوا ہے۔ امریکہ کہتا، ہمارے اڈے پر ایران نے جواب دیا ہے۔ اور ایک ایسا ملک جو ابھی تک جنگ کے کمرے سے باہر کھڑا تھا، اچانک اس کمرے کے عین بیچ میں کھڑا نظر آتا۔اور اس رات کی سب سے عجیب بات یہ ہوئی کہ ان پانچ میں سے ایک نے خود ہنگامی خدمات کو فون کیا تھا۔سوچئے۔ رات کے پون بجے، ایک ویران سڑک، ایک خفیہ منصوبہ، اور ایک فون کال۔اگر وہ واقعی کسی بھیانک سازش کا حصہ تھا، تو اس نے پولیس کو خود کیوں بلایا؟ کیا وہ آخری لمحے میں ڈر گیا تھا؟ کیا اسے احساس ہو گیا تھا کہ اسے جس چھوٹے سے جرم، جس معمولی نگرانی، جس تھوڑے سے پیسے کا لالچ دے کر لایا گیا ہے، وہ دراصل ایک عالمی تصادم کا ایندھن ہے؟ کیا وہ یہ سمجھ بیٹھا تھا کہ اس کے ہاتھ میں پٹرول کا ڈبہ نہیں، دو ملکوں کے درمیان جنگ کا شعلہ تھما دیا گیا ہے؟ یا اس فون کال کی کوئی بالکل سادہ، بالکل انسانی وضاحت ہے جو تفتیش مکمل ہونے پر سامنے آ جائے گی؟شاید تاریخ میں کبھی کبھار ایسا لمحہ آتا ہے جب ایک عام آدمی کا ضمیر، اس کا خوف، اس کا دھڑکتا ہوا دل، کسی بڑی طاقت کے لکھے ہوئے اسکرپٹ کو پھاڑ دیتا ہے۔ شاید فیئر فورڈ کی رات بھی ایسا ہی لمحہ تھا۔ ایک فون کال نے وقت کو آگے پیچھے کر دیا۔ پولیس وقت سے پہلے پہنچ گئی۔ لوگ زندہ گرفتار ہو گئے۔ گاڑیاں ثبوت کے طور پر محفوظ ہو گئیں اور وہ تباہی وقوع پذیر نہ ہو سکی جس کے بعد سوال یہ نہ ہوتا کہ حملہ کس نے کیا، بلکہ اعلان یہ ہوتا کہ حملہ کس نے کروایا۔اس خیال کو سمجھنے کیلئے ہمیں دور جانے کی ضرورت نہیں۔ صحرا کی دوسری جانب دیکھیے۔ سعودی عرب کی فضاؤں میں جب ڈرون گرے، مکہ کے جنوب میں جب آگ لگی، تو ایران نے ذمہ داری قبول نہ کی، حوثیوں نے تردید کر دی۔ مگر آگ تو لگی تھی۔ دھواں تو اٹھا تھا۔ جنگوں کی تاریخ میں ایسے حملے ہمیشہ ہوئے ہیں جن کا مقصد فتح نہیں، دو، دوسروں کو لڑانا ہوتا ہے۔ وہ تیر جو کمان سے نکلتا ہے، مگر نشانہ کسی اور کا دل ہوتا ہے۔اسی لیے برطانیہ میں اس ممکنہ دہشت گردی پر امریکی وزیرِ خارجہ نے کسی غیر ملکی کردار کا ذکر کیا، برطانوی وزیرِ اعظم نے ایران کے ملوث ہونے کے مضبوط اشاروںکی بات کی، مگر ثبوت کی میز خالی رہی۔ اشارے تھے، ثبوت نہیں تھا۔ شور تھا، سچ نہیں تھا۔اس کہانی کا راز تین سفید گاڑیوں میں نہیں۔ اس کا راز پٹرول کے ڈبوں میں نہیں۔ اس کا راز ڈھکے ہوئے چہروں میں بھی نہیں۔اس کا راز اس فون کال میں ہے جو کی گئی، یا کروائی گئی۔لگتا ہے اس راز میں ان طاقتوں کی کہانی چھپی ہے جو انسانوں کو مہرے بنا کر شطرنج کھیلتی ہیں۔ اور اس راز میں ہماری کہانی چھپی ہے - ہم جو ہر جلتی ہوئی تصویر کو سچ سمجھ لیتے ہیں، ہر طے شدہ بیانیے کو تاریخ سمجھ لیتے ہیں۔فیئر فورڈ کی رات ہمیں یاد دلاتی ہے کہ سچ کبھی کبھی بارود سے نہیں، ایک فون کال سے بچتا ہے۔ اور جنگیں کبھی کبھی سرحدوں پر نہیں، ہماری جلد بازی میں شروع ہوتی ہیں۔