حکومتِ پاکستان نے لندن اسٹاک ایکسچینج میں 3 ارب ڈالر کے یورو بانڈز کے اجرا کو عالمی سرمایہ کاروں کے اعتماد اور معاشی بحالی کی تاریخی کامیابی قرار دیا ہے۔ تقریباً 6ارب ڈالر کی بولیاں، یعنی اجراسے دو گنا طلب، بلاشبہ ایک مثبت اشارہ ہیں۔ چند برس پہلے بیرونی ادائیگیوں کے بحران، ڈیفالٹ کے خدشے اور کمزور زرمبادلہ ذخائر سے دوچار ملک کا عالمی مالیاتی منڈیوں تک واپس پہنچنا معمولی پیش رفت نہیں۔ اس موقع پر وزیرِ اعظم شہباز شریف کی لندن اسٹاک ایکسچینج میں موجودگی نے اسے قومی فتح کے طور پر نمایاں کیا۔لیکن جشن، سرخیوں اور سفارتی تاثر سے آگے اصل سوال یہ ہے کہ قرض کس قیمت پر ملا، کہاں خرچ ہوگا، اور اسے واپس کرنے کیلئے ڈالرز کہاں سے آئینگے؟ کسی سنجیدہ معیشت کیلئے مالیاتی منڈی تک رسائی اہم ضرور ہے، مگر اس رسائی کی لاگت اور پائیداری اس سے زیادہ اہم ہیں۔
یہ یورو بانڈ دو حصوں پر مشتمل ہے: 1.75 ارب ڈالر ساڑھے پانچ سال کیلئے7. 5فیصد شرحِ سود پر، اور1.25ارب ڈالر دس سال کیلئے 7.9فیصد پر۔ ڈالر میں تقریباً آٹھ فیصد کی مقررہ شرح پر طویل مدتی قرض کسی مضبوط اور کم خطرے والی معیشت کی سند نہیں؛ یہ وہ بھاری قیمت ہے جو سرمایہ کار پاکستان کے سیاسی عدم استحکام، کمزور ٹیکس نظام، بیرونی قرضوں کے بوجھ، محدود برآمدات اور زرمبادلہ کے بار بار کے بحران کے بدلے طلب کرتے ہیں۔
حکومت اوور سبسکرپشن کو اعتماد کا ووٹ کہہ سکتی ہے، مگر زیادہ منافع دینے والے بانڈز میں بڑی طلب لازماً معاشی استحکام کا ثبوت نہیں ہوتی۔ عالمی فنڈز اور سرمایہ کار ہمدردی کی بنیاد پر نہیں، خطرے اور منافع کے حساب سے فیصلہ کرتے ہیں۔ جہاں خطرہ زیادہ ہو، وہاں مطلوبہ منافع بھی بلند ہوتا ہے۔ اس لحاظ سے اضافی شرحِ سود پاکستان کی ساکھ پر عائد ایک مالیاتی جرمانہ ہے۔ کامیابی کا پیمانہ صرف یہ نہیں کہ قرض مل گیا؛ پیمانہ یہ ہے کہ قرض کتنا سستا، کتنا قابلِ برداشت اور پیداواری صلاحیت کیلئے کتنا مفید ہے۔
پاکستان ابھی سرمایہ کاری کے قابل درجے، یعنی Investment Grade، میں شامل نہیں۔ اسی لیے نسبتاً مستحکم ملک کم شرح پر قرض لے لیتے ہیں، جبکہ پاکستان کو تقریباً آٹھ فیصد ادا کرنا پڑتا ہے۔ اسکا مطلب ہے کہ اصل زر کے علاوہ ہر سال بھاری سود بھی ڈالرز میں ادا ہوگا۔ اگر برآمدات، براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری اور ترسیلاتِ زر مطلوبہ رفتار سے نہ بڑھیں تو ادائیگی کیلئے یا ذخائر استعمال ہونگے یا پرانے قرض کی جگہ نیا اور شاید مہنگا قرض لینا پڑے گا۔
یہی قرض کا شیطانی چکر ہے:جسے ماہرین معاشیات (Debt servicing loop) کہتے ہیں کہ پرانا قرض اتارنےکیلئے نیا قرض، پھر اس کے سود کیلئےمزید قرض۔ سود کی ادائیگیاں پہلے ہی وفاقی آمدن کا تقریباً 40 فیصد سے زائد حصہ لے جاتی ہیں۔ نتیجتاً تعلیم، صحت، صاف پانی، روزگار، ترقیاتی منصوبوں اور موسمیاتی تبدیلی کے مقابلےکیلئے وسائل محدود رہ جاتے ہیں۔ ایسے میں مہنگے ڈالر قرض کا اضافہ آنے والی نسلوںکیلئے بوجھ بڑھاتا ہے۔
معاشی ٹیم یہ دلیل دے سکتی ہے کہ طویل مدتی بانڈز فوری ادائیگیوں کا دباؤ کم کرتے اور قلیل مدتی کمرشل قرضوں پر انحصار گھٹاتے ہیں۔ یہ دلیل جزوی طور پر درست ہے، مگر پائیداری صرف میعاد بڑھانے سے پیدا نہیں ہوتی۔ اصل معیار معیشت کی قرض واپس کرنے کی داخلی صلاحیت ہے۔ سرمایہ کاروں کی دلچسپی میں آئی ایم ایف پروگرام بھی اہم کردار ادا کرتا ہے، لیکن پاکستان کی ساکھ مستقل طور پر بیرونی نگرانی کے سہارے قائم نہیں رہ سکتی۔ حقیقی اعتماد تب ہوگا جب سرمایہ کار ہمارے ٹیکس نظام، سیاسی استحکام، قانون کی بالادستی اور برآمدی صلاحیت پر بھروسا کریں۔
سب سے اہم سوال یہ ہے کہ یہ قرض برائے ترقی ہے یا صرف قرض برائے بقا؟ کمرشل قرض تب سودمند ہوتا ہے جب اسے بندرگاہوں، ریل، لاجسٹکس، توانائی بچت، زرعی ویلیو ایڈیشن، آئی ٹی، ہائی ٹیک صنعت اور اسپیشل اکنامک زونز جیسے منصوبوں میں لگایا جائے، جو برآمدات بڑھائیں، درآمدات کا متبادل بنیں اور ڈالر کمائیں۔ اگر رقم پرانے قرضوں کی ادائیگی، بجٹ خسارہ چھپانے یا ذخائر کو وقتی طور پر سہارا دینے میں چلی جائے تو یہ اصلاح نہیں، صرف مہلت خریدنا ہے۔
ملک کو قرض مینجمنٹ سے آگے ایک واضح برآمدی صنعتی پالیسی درکار ہے۔ حکومت کی ضرورت سے زیادہ قرض گیری نجی شعبے کو بھی پیچھے دھکیلتی ہے: بینک صنعت کو طویل مدتی سستا قرض دینے کے بجائے سرکاری سیکیورٹیز کو ترجیح دیتے ہیں۔ بجلی اور گیس کے مہنگے نرخ، غیر یقینی ٹیکس پالیسی اور پیچیدہ بیوروکریسی پہلے ہی ٹیکسٹائل، انجینئرنگ اور مینوفیکچرنگ کے پھیلاؤ میں رکاوٹ ہیں۔ سستی توانائی، ون ونڈو سہولت اور پالیسی کا تسلسل ہی پاکستان کو ویتنام، بنگلہ دیش اور بھارت سے برآمدی مقابلے کے قابل بنا سکتے ہیں۔
اس قرض میں زرِ مبادلہ کا خطرہ بھی شامل ہے، کیونکہ بانڈ ڈالر میں جاری کیا گیا ہے۔ اگر اگلے پانچ یا دس برس میں روپے کی قدر مزید کم ہوئی تو اصل زر اور سود کی ادائیگی کا بوجھ ملکی کرنسی میں کہیں زیادہ بڑھ جائے گا۔ محض یہ کہنا کافی نہیں کہ رقم طویل مدت کیلئے حاصل ہوئی ہے۔ میعادِ قرض کے اختتام پر1.75اور1.25ارب ڈالر کی اصل رقم بھی درکار ہوگی۔ اگر اس وقت مارکیٹ کی شرحیں بلند ہوں یا آئی ایم ایف پروگرام موجود نہ ہو تو ری فنانسنگ مہنگی اور مشکل ثابت ہو سکتی ہے۔
حکومت کو سمجھنا چاہیے کہ سرمایہ کاروں کی اصل زبان تقریروں میں نہیں، مانگی گئی شرحِ سود میں بولتی ہے۔ 3ارب ڈالر کا اجراء ایک سنگِ میل ضرور، مگر مکمل معاشی فتح نہیں۔7.5اور 7.9فیصد کی بلند شرحیں بتاتی ہیں کہ معیشت کے بنیادی مسائل ابھی باقی ہیں۔ حقیقی کامیابی اس دن ہوگی جب ڈالرز نئے قرضوں سے نہیں بلکہ برآمدات، سرمایہ کاری اور صنعتی پیداوار سے آئیں گے۔ اس لیے مہنگے قرض پر جشن کے ساتھ احتساب اور احتیاط بھی لازم ہے؛ آج کی عارضی خوشی کل کی نسلوں کے لیے بھاری قیمت نہ بن جائے۔