• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پانی گھریلو صارفین اور صنعتوں کیلئے نہایت اہمیت رکھتا ہے۔ کراچی کے شہری پانی کی عدم دستیابی کی وجہ سے ٹینکروں سے مہنگا پانی خریدنے پر مجبور ہیں جبکہ صنعتیں کراچی سے دوسرے صوبے منتقل ہورہی ہیں۔ فروری 2024ءکے الیکشن کی انتخابی مہم کے دوران میرے حلقے NA-241 ڈیفنس، کلفٹن اور اس سے ملحقہ آبادی کے مکینوں نے سب سے زیادہ پانی کی عدم فراہمی کی شکایات کی تھیں اور میں نے اُن سے وعدہ کیا تھا کہ انشاء اللہ اپنے حلقے کے عوام کو پانی کی فراہمی میری اولین ترجیح ہوگی۔ الیکشن میں کامیابی کے فوراً بعد میں نے ڈملوٹی سے براہ راست ڈیفنس کلفٹن تک 10 ملین گیلن یومیہ پانی کی سپلائی کیلئے خصوصی پائپ لائن کے پروجیکٹ پر کام شروع کیا جسکی اس وقت لاگت 10ارب روپے تھی جو اب بڑھ کر 14 ارب روپے ہوگئی ہے۔

مجھے خوشی ہے کہ گزشتہ دنوں کراچی واٹر کارپوریشن نے 24انچ قطر 36کلومیٹر طویل ڈملوٹی پائپ لائن، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹریشن پلانٹ کا منصوبہ سرکاری ادارے فرنٹیر ورکس آرگنائزیشن (FWO) کو دیا۔ اس سلسلے میں 12 ستمبر کو کراچی واٹر کارپوریشن کے ہیڈ آفس میں معاہدے پر دستخط کی تقریب منعقد ہوئی جس میں میرے علاوہ میئر کراچی مرتضیٰ وہاب، FWO کے بریگیڈیئر (ر) عدنان اختر علی اور کلفٹن کنٹونمنٹ بورڈ (CBC) کے اسٹیشن کمانڈر بریگیڈیئر عمران اصغر بھی موجود تھے۔

ڈی ایچ اے کو اس وقت یومیہ 15ملین گیلن پانی کی ضرورت ہے لیکن اسے صرف 5 ملین گیلن یومیہ پانی فراہم کیا جارہا ہے۔ ڈملوٹی منصوبے سے ڈی ایچ اے، کلفٹن اور دیگر ملحقہ علاقوں کو اضافی 10 ملین گیلن یومیہ پانی فراہم کیا جائے گا جس سے علاقہ مکینوں کو ٹینکرز مافیا سے نجات مل جائے گی جو میرا ایک خواب تھا۔ میرا دوسرا ہدف کراچی کو پانی فراہمی کا منصوبہ K4ہے۔

2.5 کروڑ آبادی کے شہر کراچی میں پانی کی یومیہ طلب 1200ملین گیلن ہے جس میں سے کراچی کو بمشکل آدھا 550ملین گیلن یومیہ پانی سپلائی کیا جارہا ہے اور اس طرح شہر کو 650ملین گیلن یومیہ پانی کی کمی کا سامنا ہے جو 650ملین گیلن یومیہ پانی کے منصوبے K4سے پورا کیا جائے گا اور میں اس معاملے کو قائمہ کمیٹی برائے اکنامک افیر کے چیئرمین کی حیثیت سے وفاقی سطح پر اٹھارہا ہوں۔ ڈی ایچ اے اور کلفٹن کنٹونمنٹ بورڈ (CBC) کے درمیان Buyback معاہدے کے تحت ڈملوٹی منصوبے کے تحت علاقہ مکینوں کو 70پیسے فی گیلن کے حساب سے پانی خریدا اور فراہم کیا جائے گا جبکہ ڈی ایچ اے میں ٹینکر کے پانی کی قیمت 4روپے فی گیلن پڑتی ہے۔ واٹر کارپوریشن کے 6000گیلن ٹینکر کی قیمت 10,000 روپے ہے جبکہ 6000گیلن کے پرائیویٹ ٹینکر کی قیمت 25000روپے ہے جو ناقابل برداشت ہے۔ اس طرح فی گھر تقریباً 50ہزار سے ایک لاکھ روپے ماہانہ پانی ٹینکرز سے خریدا جاتا ہے۔ ڈملوٹی منصوبے کیلئے حکومت سندھ نے کراچی واٹر کارپوریشن کو 14.23ارب روپے کا بلاسود قرضہ فراہم کردیا ہے جو 10سال میں واپس کیا جائے گا۔

منصوبے کے سنگ بنیاد کی تقریب منگل 29ستمبر کو ہوئی جس میں میرے علاوہ صوبائی وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ، میئر کراچی مرتضیٰ وہاب، FWO کے بریگیڈیئر (ر) عدنان اختر علی، کلفٹن کنٹونمنٹ بورڈ (CBC) کے اسٹیشن کمانڈر بریگیڈیئر عمران اصغر اور واٹر بورڈ کے ایم ڈی اور COO بھی موجود تھے۔ اس موقع پر میں پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ اور میئر کراچی مرتضیٰ وہاب کا تہہ دل سے مشکور ہوں کہ انہوں نے میرے حلقے کے اس منصوبے میں حائل تمام رکاوٹوں کو نہ صرف دور کیا بلکہ کابینہ نے منصوبے کیلئے نظرثانی لاگت کی منظوری بھی دی۔

ڈملوٹی پروجیکٹ کے سلسلے میں ڈی ایچ اے کو ڈملوٹی سے پانی کی سپلائی کیلئے ڈیفنس سوسائٹی ریذیڈنٹس ایسوسی ایشن (DSRA) نے اپنے ممبران کیساتھ DSRA کے صدر شرف الدین میمن کی رہائش گاہ پر ایک اہم میٹنگ رکھی جس میں مجھے، میئر کراچی مرتضیٰ وہاب اور وزیراعلیٰ سندھ کے مشیر نجمی عالم نے اس پروجیکٹ پر ممبران کے تحفظات دور کئے۔ ممبران کا خدشہ تھا کہ ڈملوٹی کے 16کنوؤں میں سے 4کنوؤں کو منہدم کردیا گیا ہے جبکہ باقی کنویں خشک ہوچکے ہیں۔ میں نے انہیں بتایا کہ ڈملوٹی پروجیکٹ کا پانی ڈملوٹی کنوؤں سے نہیں بلکہ کینجھر جھیل سے ڈملوٹی کے راستے عائشہ مسجد ڈیفنس تک لایا جائے گا اور قیوم آباد فلٹریشن پلانٹ سے ڈی ایچ اے، کلفٹن اور ملحقہ آبادیوں کو سپلائی کیا جائے گا۔

سنگ بنیاد تقریب میں، میں نے اپنی تقریر میں تجویز دی کہ پروجیکٹ میں شفافیت اور گورننس کیلئے علاقے کے معززین کی ایک کمیٹی بنائی جائے گی جو ہر ماہ پروجیکٹ کی کارکردگی کی مانیٹرنگ کرے گی۔ FWO کے بریگیڈیئر (ر) عدنان اختر علی نے مجھے بتایا کہ ڈملوٹی ڈی ایچ اے واٹر پائپ لائن منصوبہ 15ماہ یعنی دسمبر 2027ءتک مکمل کرلیا جائے گا۔ ڈملوٹی منصوبہ ٹینکر فری ڈی ایچ اے کے خواب کی تعبیر اور ڈی ایچ اے، کلفٹن کے رہائشیوں سے کئے گئے وعدے کی تکمیل ہے جس پر میں اللہ کا شکر گزار ہوں۔

تازہ ترین