عصرِحاضر کے کیلنڈر پر یکم اکتوبرکی تاریخ ایک ایسے عظیم ملک کے قومی دن کے طور پر منسوب ہے جس نے گزشتہ سات دہائیوں میں اپنی معاشی ، صنعتی، سائنسی ، عسکری اور سفارتی قوت سے عالمی نظام پردھاک بٹھا دی ہے، یہ ہمارے عظیم پڑوسی دوست ملک عوامی جمہوریہ چین کا قومی دن ہے، جہاں یکم سے سات اکتوبر تک گولڈن ویک کے تحت قومی تہوارمنانے کا سلسلہ جوش و خروش سے شروع ہوگیاہے۔اس دوران چین کے طول و عرض میں قومی پرچم، روشنیوں، پھولوں اور مختلف سجاوٹ کے ذریعے قومی دن کا ماحول پیدا کیا جاتا ہے، عوام کی بڑی تعداد اپنے آبائی علاقوں، سیاحتی مقامات اور ملک کے مختلف شہروں کا رخ کرتی ہے، بیرون ملک مقیم چینی باشندے بھی اپنا قومی دن منانے میں کسی سے پیچھے نہیں رہتے۔ہزاروں سالہ قدیم تاریخ کے حامل چین کی جدید تاریخ کو سمجھنے کیلئے ہمیں تقریباً ایک صدی پیچھے جھانکناہوگا ، جب بیسویں صدی کے اوائل میں ہزاروں سال سے قائم چینی بادشاہت آخری سانس لے رہی تھی، چین کے آخری شاہی خاندان چنگ کے محل کے باہرعوامی انقلاب دستک دے رہا تھااور بادشاہت سے چھٹکارا پاکر 1912ء میں جمہوری چین متعارف ہوا،اگرچہ یہ پیش رفت ہزاروں سال پرانے فرسودہ شاہی نظام سے جدید قومی ریاست کی طرف ایک اہم تاریخی قدم تھا، تاہم چینی عوام کی اصل منزل ابھی دور تھی اور آخرکار چیئرمین ماؤزے تنگ کی زیرقیادت چینی عوام نے سیاسی عدم استحکام، داخلی کشمکش ، اندرونی مشکلات اور خانہ جنگی پر قابو پاتے ہوئے یکم اکتوبر 1949ء کو عوامی جمہوریہ چین کے قیام کا اعلان کردیا۔میری نظر میں یکم اکتوبرچین کے روائتی قومی دن تک ہی محدود نہیں بلکہ دنیا کی دوسری بڑی معاشی طاقت کی جدید تاریخ میں عظیم الشان جدوجہدکی یاد بھی ہے جس میں ہزاروں سالہ قدیم شاہی چین، 1912 کا جمہوریہ چین اور 1949 میں عوامی جمہوریہ چین کے ادوار نمایاں ہیں۔بطور تاریخ کے طالبعلم یہاں میں یہ حقیقت بھی اجاگر کرنا چاہوں گا کہ عوامی جمہوریہ چین کے قیام کےوقت ہمارے خطے میں ہندی چینی بھائی بھائی کا نعرہ گونجا کرتا تھا ، ابتدائی برسوں میں دونوں پڑوسی ممالک کے تعلقات سردمہری کا شکار تھے، تاہم پاکستان کا شمار اُن ممالک میں کیا جاتا ہے جنہوں نے عوامی جمہوریہ چین کو نہ صرف تسلیم کیا بلکہ اقوام متحدہ میں اس کی مستقل نشست کے حصول میں بھی کلیدی کردار ادا کیا، پی آئی اے وہ واحد غیرملکی ایئرلائن تھی جو چینی فضاؤں میں اُڑان بھرا کرتی تھی، وقت گزرنے کیساتھ دونوں پڑوسی ممالک کے مابین اقتصادی،دفاعی، تجارتی،سائنسی، تعلیمی اور سفارتی تعاون مسلسل بڑھتا چلا گیااور آج سات دہائیوں بعد دونوں ممالک ایک دوسرے کو آئرن برادرز قرار دیتے ہیں جنکی سمندر سے گہری، ہمالیہ سے اونچی اور شہد سے میٹھی دوستی رہتی دنیاتک کیلئے اپنی مثال آپ ہے۔ چین کی جدید تاریخ کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ اسے شاہی ادوار میں بیرونی سامراجی طاقتوں کی جانب سے جارحیت کا بھی نشانہ بنایا گیاجسکے نتیجے میں چین کے بعض علاقوں پر غیرملکی تسلط قائم ہوگیا، ہانگ کانگ برطانوی شکنجے میں چلا گیا جبکہ مکاؤ پر پرتگال نے قبضہ جمالیا، تاہم عوامی جمہوریہ چین کی سمجھداراور دوراندیش قیادت نے مذکورہ تنازعات کو طاقت کے استعمال کے ذریعے حل کرنے کی بجائےسفارتکاری اور مذاکرات کا راستہ اختیار کیا جسکے تحت یکم جولائی 1997کو چین نے ہانگ کانگ پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرلیا،بعد ازاں ڈائیلاگ کی میز پر دو سال بعد مکاؤ بھی پرتگال سے واپس لے لیا گیا،آج یکم اکتوبر کو اِن دونوں علاقوں میں بسنے والے بھی اپنے چینی ہم وطنوں کے شانہ بشانہ قومی دن کا تہوار زوروشور سے منانے میں مصروف ہیں۔میں سمجھتا ہوں کہ ایک ہفتے پر محیط گولڈن ویک تعطیلات کے اِس پورےچینی نظام کی ایک خاص بات سرکاری چھٹیوں کی ایڈجسٹمنٹ ہے،قومی تہوار منانے کیلئے روٹین کی ہفتہ وار تعطیلات کوسرکاری سطح پر کام کے دِنوں سے تبدیل کیا جاتا ہے، رواں برس یکم سے سات اکتوبر تک قومی دن کی تعطیلات کی وجہ سے کام کا حرج نہ ہواورقومی ترقی کے سفر کی رفتار سست نہ ہو، حکومت نے20 ستمبربروز اتوار اور 10 اکتوبربروز ہفتہ کو ورکنگ ڈے مقررکرتے ہوئے یہ امر یقینی بنایاہے کہ مذکورہ تاریخوں میں ویک اینڈ ہونے کے باوجود تمام سرکاری و نجی ادارے کھلے رہیں، آسان الفاظ میں قومی جشن بھی بھرپورانداز میں منایا جائے، دوستوں اور فیملی کے ساتھ بہترین وقت بھی گزارا جائے، سفر اور تفریح کیلئے بھی سہولیات میسر ہوں، مگر کام کے سالانہ ایام کا حساب بھی پورا رکھا جائے۔ بلاشبہ آج کا چین اکیسویں صدی کی دوسری بڑی معیشت ہے جوصنعت، تجارت، ٹیکنالوجی، انفراسٹرکچر اور ڈیفنس کے شعبوں میں اپنا لوہا منوانے میں کامیاب ہے، ترقی و خوشحالی کےاس انتھک سفر میں چینی قوم نے کئی دہائیوں تک بہترین کارکردگی، طویل المدت منصوبہ بندی اور قومی ترجیحات پر توجہ دی ہے۔آج عمومی طور پر چین کی بے مثال ترقی کو بڑی فیکٹریوں، جدید ٹیکنالوجی، برآمدات یا اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری سے پرکھنے کی کوشش کی جاتی ہے، تاہم میں سمجھتا ہوں کہ چین کو دنیا کی بڑی معاشی قوت میں ڈھالنے کے پیچھےریاستی سطح پر ایک ایسا زبردست معاشرتی نظم و ضبط ہے جسکی ایک جھلک ہم حالیہ گولڈن ویک کے دوران دیکھ سکتے ہیں۔ چین میں قومی تہوار اجتماعی جذبے کے ساتھ منائے جاتے ہیں مگر معمول کی ذمہ داریوں کو بھی منظم طریقے سےپورا کرنے کیلئے کام کے دنوں کا حساب بھی کم نہیں ہونے دیاجاتا۔ میری نظر میں یکم اکتوبر کا قومی دن اگر ایک طرف ہمارے دوست پڑوسی کی عظیم الشان کامیابی کی یاد دلاتا ہےتوہمیں یہ سبق بھی دیتاہے کہ دنیا میں کوئی قوم بغیر چھٹی کے دن رات مسلسل کام کرنے سے عظیم نہیں بنتی اور نہ ہی وہ قوم ترقی کے سفر میں آگے بڑھتی ہے جہاں کے شہریوں کیلئےہر ماہ سرکاری تعطیلات کا ہی اعلان ہوتا رہے، قومیں صرف اُس وقت ترقی کرتی ہیں جب وہ اپنے آرام، تعطیلات، قومی تقریبات اور کام کے ایام کو نظم و ضبط کے ساتھ مرتب کرتی ہیں۔