احتجاج کا حق ہر شہری اور سیاسی جماعت کا آئینی و جمہوری حق ہے لیکن جب احتجاج کے باعث شہر، شاہراہیں، موٹرویز اور بندرگاہوں سے جڑے راستے مسلسل بند ہونے لگیں تو اس کے اثرات صرف سیاست تک محدود نہیں رہتے ہیں بلکہ معیشت، صنعت اور بالخصوص برآمدی شعبہ بھی اس سے متاثر ہوتا ہے۔ خاص طور پر پاکستان کی برآمدات میں سب سے زیادہ حصہ ڈالنے والی ٹیکسٹائل انڈسٹری کیلئے سڑکوں کی بندش اور مال بردار گاڑیوں و کنٹینرز کی پکڑ دھکڑ اب محض وقتی انتظامی مسئلہ نہیں رہی بلکہ ایک مستقل کاروباری خطرے کی شکل اختیار کرتی جا رہی ہے۔
یہ صورتحال اس وجہ سے بھی زیادہ تشویشناک ہے کہ پاکستان کے ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز پہلے ہی عالمی منڈی میں سخت مسابقت، توانائی کی بلند قیمتوں، کاروباری لاگت، پالیسی میں غیر یقینی اور بین الاقوامی خریداروں کی بڑھتی ہوئی ماحولیاتی و پائیداری کی شرائط جیسے چیلنجز سے دوچار ہیں۔ ایسے میں اگر برآمدی آرڈرز کی ترسیل احتجاج یا انتظامی مسائل کی وجہ سے غیر یقینی کا شکار رہے گی تو ان کیلئے عالمی مارکیٹ میں اپنی مسابقت برقرار رکھنا مزید مشکل ہو جاتا ہے۔ان حالات میں برآمدی مال کی ترسیل میں تاخیر سے ایکسپورٹرز کو مالی اور انتظامی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ تاہم اصل چیلنج اس سے کہیں بڑا ہے کیونکہ برآمدی تجارت ایک مقررہ شیڈول کے تحت چلتی ہے۔ خریدار کے ساتھ آرڈر طے ہونے سے لے کر پیداوار، پیکنگ، کنٹینر کی دستیابی، پورٹ پر کسٹمز کلیئرنس اور جہاز کی روانگی تک ہر مرحلہ وقت پر مکمل ہونا ضروری ہوتا ہے۔ ایسے میں اگر ان میں سے کسی ایک مرحلے پر غیر متوقع رکاوٹ پیدا ہو جائے تو پوری سپلائی چین متاثر ہوتی ہے۔اس کا ثبوت یہ ہے کہ حال ہی میں ہونے والی گڈز ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن کی ہڑتال کے باعث ایکسپورٹرز کو برآمدی مال کی ترسیل نہ ہونے سے یومیہ کروڑوں روپے کے نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ اس وقت بھی وفاقی دارالحکومت میں مختلف سیاسی جماعتوں اور تنظیموں کے احتجاج روکنے کیلئے برآمدی مال کیلئے استعمال ہونے والے کنٹینرز کو راستوں کی بندش کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے ۔
یہ صورتحال ٹیکسٹائل ایکسپورٹر کیلئے کئی سطحوں پر نقصان کا باعث بنتی ہے۔ سب سے پہلا نقصان وقت کا ہے۔ بین الاقوامی شپنگ میں جہاز کسی ایک کنٹینر کا انتظار نہیں کرتا ہے۔ اگر ایکسپورٹر مقررہ وقت میں اپنا کنٹینر ٹرمینل تک نہ پہنچا سکے تو اسے اگلی دستیاب شپ پر انحصار کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس تاخیر کے ساتھ اضافی لاگت، نئی بکنگ اور بعض اوقات خریدار کے ساتھ دوبارہ شیڈولنگ کی ضرورت پیدا ہو جاتی ہے۔
دوسرا بڑا مسئلہ ڈیمرج اور ڈیٹینشن چارجز ہیں۔ بندرگاہ تک رسائی میں رکاوٹ یا کنٹینر کی بروقت نقل و حرکت نہ ہونے سے شپنگ کمپنیوں اور متعلقہ ٹرمینلز کے اضافی چارجز ایکسپورٹر کے اخراجات بڑھا سکتے ہیں۔ ایک ایسی صنعت جو پہلے ہی توانائی اور مالیاتی اخراجات کے دباؤ میں ہو اس کیلئے اچانک پیدا ہونے والی یہ اضافی لاگت معمولی نہیں ہوتی۔
تیسرا مسئلہ عالمی خریداروں کا اعتماد ہے۔ بیرون ملک خریدار کیلئے پاکستانی کمپنی کی مصنوعات کا معیار اہم ہے لیکن اس کے ساتھ بروقت ترسیل بھی اتنی ہی اہم ہوتی ہے۔ اگر ایک خریدار کو بار بار یہ خدشہ رہے کہ احتجاج، سڑکوں کی بندش یا ٹرانسپورٹ کی عدم دستیابی کے باعث اس کا مال وقت پر نہیں پہنچے گا تو وہ اپنی سپلائی چین میں متبادل ملک یا سپلائر تلاش کرنے کو ترجیح دے گا۔ یہاں ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ ٹیکسٹائل انڈسٹری صرف تیار شدہ مصنوعات برآمد نہیں کرتی ہے بلکہ اس کی پیداوار کیلئے مختلف اقسام کا خام مال، مشینری، کیمیکلز، اسپیئر پارٹس اور دیگر صنعتی سامان بھی درکار ہوتا ہےاور جب بندرگاہوں سے فیکٹریوں تک درآمدی کارگو کی نقل و حرکت رکتی ہے تو اس کے اثرات مستقبل میں ملنے والے برآمدی آرڈرز کی تعداد پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ اس سے پہلے بھی فروری 2025 میں صوبہ سندھ میں ہونے والے احتجاج کے دوران فیصل آباد سمیت پنجاب کی ٹیکسٹائل ملوں سے کراچی پورٹ جانے والے برآمدی کنٹینرز کئی دن تک راستوں میں پھنسے رہے تھے۔ بعض حالات میں کنٹینر کی نقل و حمل کی لاگت میں بھی نمایاں اضافہ ہوا اور بندرگاہ پر جہاز برآمدی کارگو کے بغیر روانہ ہونے کی صورتحال پیدا ہوئی۔ اس دوران نہ صرف تیار شدہ برآمدی مال متاثر ہوا بلکہ درآمدی سامان کی تاخیر نے ٹیکسٹائل ملوں کے پیداواری عمل کو بھی متاثر کیا۔ یہ مسئلہ اس لیے بھی زیادہ اہم ہے کہ پاکستان کی ٹیکسٹائل صنعت پہلے ہی عالمی مسابقت کے دباؤ میں ہے۔ بنگلہ دیش، ویتنام، چین اور بھارت جیسے ممالک کے ساتھ مقابلے میں پاکستانی ایکسپورٹر کو قیمت، معیار، توانائی، ترسیل اور وقت،سبھی محاذوں پر خود کو ثابت کرنا پڑتا ہے۔ اگر ان عوامل میں سے ایک، یعنی قابلِ اعتماد لاجسٹکس، مسلسل غیر یقینی کا شکار رہے تو کاروباری فیصلے مزید مشکل ہو جاتے ہیں۔
اس صورتحال میں قومی سطح پر یہ اتفاق رائے ضروری ہے کہ احتجاج کے دوران بھی ضروری معاشی اور برآمدی سامان کی بروقت ترسیل کو برقرار رکھنے کیلئے راستے کھلے رکھے جائیں۔ یہ کوئی ایسا مطالبہ یا خواہش نہیں ہے جس کی اس سے پہلے دنیا میں کوئی مثال نہ ہو بلکہ دنیا کے زیادہ تر مہذب ممالک میں ہڑتال یا احتجاج کے باوجود بعض ضروری سروسز اور اہم سپلائی چینز میں رکاوٹیں نہیں ڈالی جاتی ہیں۔ اس لئے اپنے معاشی مستقبل کو غیر یقینی سے بچانے کیلئے پاکستان میں بھی برآمدی کارگو، صنعتی خام مال اور خراب ہونے والی اشیا کی نقل و حرکت کیلئے ایک واضح ترجیحی نظام وضع کیا جانا ضروری ہے۔ حکومت کو محض احتجاج ختم کرانے کے بعد معاملات معمول پر لانے کے بجائے مستقل انتظامی طریقۂ کار پر توجہ دینا ہو گی۔