گزشتہ ہفتے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے مبینہ خفیہ دورہ یو اے ای کی خبریں عالمی میڈیا میں زیر بحث رہیں۔ اس دورے کے حوالے سے اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر اور اماراتی وزارت خارجہ کی جانب سے باضابطہ کوئی اعلان سامنے نہیں آیا جسکے باعث قیاس آرائیوں کا سلسلہ جاری رہا۔ ابھی اسرائیلی وزیراعظم کے خفیہ دورہ یو اے ای پر قیاس آرائیاں جاری تھیں کہ دونوں ممالک کے حوالے سے ایک اور واقعے نے پوری دنیا میں تشویش کی لہر دوڑادی۔ اس حوالے سے اسرائیلی وزیراعظم کی جانب سے یہ دعویٰ سامنے آیا کہ عمان سے تعلق رکھنے والے فلائی دبئی کے معاون پائلٹ نے مبینہ طور پر بھارت سے تعلق رکھنے والے پائلٹ پر چاقو سے حملہ کرکے طیارے کو ہائی جیک کرنے کی کوشش کی تاکہ اسرائیل میں نائن الیون طرز کا حملہ کیا جاسکے۔ یاد رہے کہ فلائی دبئی کا یہ طیارہ دبئی سے اسرائیل کے شہر تل ابیب جارہا تھا، طیارے میں 170 مسافر سوار تھے جن میں بڑی تعداد اسرائیلیوں کی تھی۔ ڈھائی گھنٹے کی معمول کی فلائٹ کے بعد طیارہ جب سعودی عرب کی فضائی حدود میں داخل ہوا تو مبینہ طور پر معاون پائلٹ نے پائلٹ پر چاقو سے حملہ کرکے طیارے کو ہائی جیک کرنے کی کوشش کی تاہم مسافروں اور عملے نے کاک پٹ تک رسائی حاصل کی اور طیارے میں موجود اضافی پائلٹوں کی مدد سے اِسے سعودی عرب کے شہر تبوک میں ہنگامی طور پر اتارا گیا۔ واقعہ کے بعد اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے بھارتی پائلٹ سے وڈیو کال پر بات کی اور اسے ہیرو قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس نے نائن الیون جیسے سانحہ کو رونما ہونے سے روک دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ عمان سے تعلق رکھنے والا فلائی دبئی کا معاون پائلٹ ماضی میں اسلامی شدت پسندی کی جانب راغب ہوا تھا اور وہ شدت پسندی سے مغلوب ہوکر طیارے کو ہائی جیک کرکے تمام مسافروں سمیت اسے تباہ کرنے کا ارادہ رکھتا تھا۔ اسرائیلی وزیراعظم نے خبردار کیا کہ فلائی دبئی واقعہ کے پیچھے کوئی بھی طاقت ملوث ہوئی تو اسے بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔ شاید ان کا اشارہ ایران کی طرف تھا۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے بھی اپنے پائلٹ کو ویڈیو کال کرکے اس کی خیریت دریافت کی اور اس کی بہادری پر خراج تحسین پیش کیا۔
گوکہ تفتیش کار اس واقعہ کی تحقیقات کررہے ہیں کہ جو خبریں منظر عام پر لائی جارہی ہیں، ان میں کتنی صداقت ہے۔ اس حوالے سے یو اے ای حکام کا کہنا ہے کہ واقعہ کی تحقیقات کا آغاز کردیا گیا ہے کہ آیا یہ واقعہ کسی دہشت گردی کے مقصد سے منسلک تھا یا نہیں۔ دوسری طرف اسرائیلی حکام نے بیرون ملک سے اسرائیل آنے والی تمام پروازوں کے پائلٹوں کی شناخت اور سیکورٹی جانچ مزید سخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اسرائیل پہلے ہی انتہائی سخت فضائی سیکورٹی کیلئے جانا جاتا ہے۔ ایسے میں ہوائی سفر اب صرف ایوی ایشن سیفٹی کا نہیں رہا بلکہ فضائی حدود کی نگرانی اورہنگامی ردعمل قومی سلامتی کے معاملات میں تبدیل ہورہے ہیں۔ صورتحال کے پیش نظر فلائی دبئی نے دبئی اور تل ابیب کے درمیان پروازیں عارضی طور پر معطل کردی ہیں۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ واقعہ کا ایران سے تعلق ابھی تک ثابت نہیں ہوا ہے تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ سخت بیان سامنے آیا ہے کہ اگر اماراتی طیارے کو تباہ کرنے کی سازش میں ایران کے ملوث ہونے کے شواہد ملے تو ایران کو اس کی بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔ دوسری طرف سوشل اور عالمی میڈیا اسے ٹرمپ، نیتن یاہو خفیہ منصوبہ اور ایک False Flag قرار دے رہا ہے تاکہ ایران کو انتہا پسند ملک قرار دے کر امریکی اور اسرائیلی حملے کی راہ ہموار اور ٹرمپ، نیتن یاہو کی گرتی مقبولیت کو سہارا دیا جاسکے۔ یاد رہے کہ امریکہ میں مڈٹرم الیکشن نومبر اور اسرائیل میں عام انتخابات رواں ماہ ہونے جارہے ہیں اور یہ بات خارج از امکان نہیں کہ فلائی دبئی واقعہ کسی خاص منصوبے اور مذموم مقاصد کے حصول کیلئے رچایا گیا ہو۔
مشرق وسطیٰ کی سیاست میں سازش کا لفظ بہت عام ہے۔ ایک خفیہ ملاقات، ایک غیر معمولی پرواز، ایک سکیورٹی واقعہ اور چند نامعلوم تفصیلات مل کر ڈرامائی کہانی کو جنم دیتے ہیں مگر حقیقت اسکے برعکس ہوتی ہے۔ فلائی دبئی واقعہ میں بھی False Flag کے امکان کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ بھارت اکثر پاکستان کے خلاف اسی طرز کے False Flag کا ڈرامہ رچاتا رہتا ہے۔ حالیہ واقعہ سے یہ سبق ملتا ہے کہ کسی False Flag واقعہ کی منصوبہ بندی کرکے کسی بھی ملک یا مذہب کو انتہا پسندی اور دہشت گردی سے جوڑا جاسکتا ہے اور اس ملک پر پابندیاں بھی عائد کی جاسکتی ہیں۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ فلائی دبئی واقعہ میں پاکستان کا نام کہیں نہیں لیا گیا، بالفرض اگر عمانی پائلٹ کی جگہ پاکستانی پائلٹ ہوتا تو پاکستان کو دہشت گرد اور انتہا پسند ملک قرار دے کر اس پر پابندی کا مطالبہ کیا جاچکا ہوتا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا کسی واقعہ کی مکمل تحقیقات سے پہلے ہی اس کے کرداروں کو ہیرو اور ولن قرار دینا مناسب ہے؟ دہشت گردی یا ہائی جیکنگ جیسے سنگین الزامات کے معاملے میں جذبات سے زیادہ شواہد اہم ہوتے ہیں۔ کسی شخص کے خلاف الزام، اس کی قومیت یا اس کے مبینہ نظریات کو بنیاد بناکر ایک مکمل سیاسی بیانیہ قائم کردینا خطرناک ثابت ہوسکتاہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے تک میڈیا، حکومتیں اور سیاسی رہنما ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔ کسی واقعہ کو نائن الیون سے تشبیہ دینا، کسی ملک کو موردِ الزام ٹھہرانا یا کسی فرد کو دہشت گرد قرار دینا ناقابل قبول ہے۔ آج کی دنیا میں سب سے خطرناک صرف طیارے کا ہائی جیک ہونا نہیں بلکہ غلط معلومات کے ذریعے پوری دنیا کے ذہن کو ہائی جیک کرلینا بھی ہے جس کے خطرناک نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔