• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ان دنوں موضوعات کی اسقدر بہتات ہےکہ سمجھ نہیں آ رہی ترجیح کسے دی جائے۔ انگلینڈ کے سٹڈی ٹور کی دلچسپیوں کو یا تیزی سے بدلتے عالمی حالات و واقعات کو، اس وقت سعودی عرب کو اپنی ہمسائیگی میں شیعہ حوثی باغیوں کی صورت جو چیلنج درپیش ہے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اس سے کس خوبصورتی و کامیابی کے ساتھ نبرد آزما ہیں اور بالآخر کیسے سرخرو ہوں گے؟، ایرانی اسلامی انقلاب کافیوچر میں کیا بننے والا ہے یا یہ کیا رخ اختیار کرتا ہے؟، حماس نے 7 اکتوبر یوم کپور پر اسرائیل کے اندر گھس کر، جو القدس فلڈ بپا کیا، درویش نے دو برس قبل عین اس موقع پر فیوچر کے واقعات کی جو تصویر کشی کی، چاہتا ہے وہ اقتباسات پیش کرے، مگر یہ اسلوب جناب ارشاد حقانی کو ہی زیب دیتا تھا۔

آج کے عالمی تجزیوں میں فلائی دبئی چھایا ہوا ہے، جس کے کو پائلٹ حمام الحمامی کی مبینہ جہادی کاوش کا نام بھی دیا جا رہا ہے، جسکے وقوع پذیر ہونے کی صورت جو المیہ دنیا کے سامنے آتا، اس کی بربادی نائن الیون جیسی ہوسکتی تھی، کیونکہ اب تک سامنے آنے والے شواہد کے مطابق اس عرب مسلمان پائلٹ نے نہ صرف یہ کہ دبئی سے تل ابیب کیلئے جانے والی فلائٹ، جس میں175 مسافر تھے جن کی بھاری تعداد یہود پر مشتمل تھی،سب کاکا کریا کرم کر دینا لیکن اگر وہ اپنی مرضی و خواہش کے مطابق جہاز پر پورا کنٹرول حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتا تو تل ابیب میں بڑی تباہی لاتا، جس سے مسلم یہود منافرت کی ایک نئی داستان رقم ہوجانا تھی۔ وہ مسلم ممالک جو اسرائیل کو تسلیم کر تے ہوئے اس سے معمول کے تجارتی و سیاحتی تعلقات قائم کرچکے ہیں ان کے اسرائیل کے ساتھ بڑھتے ہوئے تجارتی و سیاحتی اورثقافتی و تہذیبی تعلقاتآنِ واحد میں ریورس ہو جانے تھے۔

فلائی دبئی کی اس تمام صورتحال کو نیتن یاہو اور نریندر مودی کا گھڑا ہوا فالس فلیگ آپریشن قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ یہ سارا ڈراما یہود و ہنود کی مشترکہ سازش ہےلیکن ایشو یہ ہے کہ اس عرب مسلمان کو پائلٹ حمامی کی ذہنی ساخت و افتادطبع کے متعلق جو حقائق عالمی میڈیا میں آ رہے ہیں، انہیں کیسے مروڑا جا ئے؟ گارڈین کی رپورٹ کے مطابق 29 سالہ حمام الحمامی پہلے عمان ایئر سے وابستہ تھا، وہاں سے 2024 میں اس کے شدت پسندانہ خیالات اور ایکسٹریمسٹ میٹیریل سامنے آنے کے بعد فلائنگ ڈیوٹی سے ہٹا کر ڈیسک رول میں منتقل کر دیا گیا۔

اس کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے القاعدہ کے معروف جہادی ایمن الظواہری، جو صدر انور سادات کے قاتلوں میں تھا، اور ایک امریکی ایئر بیس پر حملہ آور ہونے والے اردن کے جہادی خلیل ابو ملل البلوی، جس نے 9 امریکی مارے تھے، کی تصاویرکے ساتھ پسندیدگی بھی سامنے آئی ہے۔ سی این این کی رپورٹ کے مطابق حمام الحمامی پیدا تو عرب امارات میں ہوا، لیکن اس کا باپ عمانی اور ماں شامی ہے، ماضی کی شام اسرائیل منافرت واضح ہے۔ روایتی ایرانی اسلامی مائنڈسیٹ کے زیر اثر اس کے ایسے نظریات بھی واضح ہوئے ہیں کہ اسلام کے تینوں مقدس مقامات مکہ، مدینہ اور بیت المقدس ناجائز قبضے میں ہیں جنہیں بازیاب کروانا ہے۔

اے بی سی نیوز کے مطابق 2021 اور 22 کے دوران اس کے ڈیلیٹڈ ایکس اکاؤنٹس سے تین ہزار کے قریب پوسٹیں سامنے آئی ہیں جن کے مطابق حمام الحمامی شدیدانتہاپسند رجحان کا حامل، خواتین کےکمتر ہونے، عورتوں مردوں کے اختلاط، حتیٰ کہ Workplace پر بھی اکٹھے کام کرنے کا مخالف ہے۔ اپنی ہونے والی بیوی کیلئے بھی اس نے جو شرائط رکھیں ان میں بھی اس نوع کی بندشیں ہیں۔ حجاب، نقاب یا پردے کے حوالے سے سخت گیرسوچ کا حامل ہے۔

رائٹر اور الجزیرہ کی رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ متحدہ عرب امارات کے اٹارنی جنرل حمد سیف الشمسی نے بیان جاری کیاہے کہ فلائی دبئی جہاز کے کاک پٹ میں ایمرجنسی کریش ایکس موجود تھا جو کہ ایمرجنسی کیلئے استعمال ہوتا ہے۔ اسی سے اس نے اپنے ہندو پائلٹ سمت مچھار پر حملہ کیا، خود اس انڈین پائلٹ کا بیان ہے کہ حمام نے نماز پڑھنے کی اجازت مانگی جب میں دوسری طرف متوجہ ہوا تو اس نے پیچھے سے کریش ایکس اٹھاتے ہوئے اس پر حملہ کر دیا اور جہاز کا پورا کنٹرول خود سنبھالنے کی کوشش کی۔ اسی دوران جہاز چونتیس ہزار فٹ کی بلندی سے سترہ ہزار فٹ تک نیچے چلا گیا۔ اسی تگ ودو میں وہ زخمی ہونے کے باوجود جہاز کا دروازہ کھولنے میں کامیاب ہو گیا،جسکے بعد مسافروں اور عملے نے حملہ آور کو قابو کر لیا۔ خوش قسمتی سے فلائٹ کو تل ابیب سے دبئی واپس لانے کیلئے دو پائلٹ کاک پٹ سے باہر مسافروں میں موجود تھے، سو ان کی مدد سے جہاز کو بہ حفاظت سعودی عرب کے تبوک ایئرپورٹ پر اتار لیا گیا۔ حمامی سے سعودیوں نے باز پرس کرنے کے بعد اسے عرب اماراتی حکام کے حوالے کر دیا ہے جہاں اس سے پوری تفتیش کی جا رہی ہے، ہر دو اسلامی ممالک کے ذمہ داران نے اس کی جنونی ذہنیت کا اعتراف کیا ہے، اس کے شدید اقدام کو کورٹ میں ثابت کر کے سزا دلوائی جائے گی۔

درویش اپنے تمام مسلمان بہن بھائیوں کی خدمت میں صرف یہ گزارش پیش کرنا چاہتا ہے کہ اصل خرابی اس مائنڈ سیٹ میں ہے جو تشدد یا قتل و غارت کے ذریعے تبدیلی کا خواہاں ہے ،ظاہر ہے تشدد کے ذریعے تو تبدیلی نہیں آسکتی ،ہمیں اس مائنڈ سیٹ کوتبدیل کرنے کی ضرورت ہے ۔

تازہ ترین