• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ٹھہراؤ اور تبدیلی کی مسلسل آویزش کے سبب اگلے چار برسوں میں چالیس برس کا بوجھ ہے ۔بے شک کئی دہائیوں سے اختیار اور جواز الگ رہے مگر اب فاصلہ قربت میں بدل رہا ہے۔ دو ہزار تیس تک ریاست کو ایسا توازن بنانا پڑے گا جہاں جبر اور رضا مقابل نہیں شرط بن جائیں۔ہمیں حکومت بدلنے سے زیادہ حکمرانی بدلنی ہوگی جس میں سختی اور نرمی دونوں پرکھی جائیں گی۔

دو ہزار ستائیس کی دستک میں کشیدگی کا شور سوال کرے گاکہ کون کس کے ساتھ ہے ،اختیار قریب ہے یا دور ہے ۔دوری کی اسی قربت میں عدالتیں اور پارلیمان ایک دائرے میں سمٹ آئیں گی۔ کچھ اتحاد ٹوٹیں گے کچھ رابطے بنیں گے ،وفا اور بے وفائی ایک میز پر بیٹھیں گی۔ صف بندی مستقلاًنہیں رہے گی دو ہزار اٹھائیس کی دستک میں تاخیر اور عجلت کا ٹکراؤ شامل ہوگا ۔ کچھ فیصلے تکلیف دہ ہوں گے کچھ راحت آمیز ۔معیشت دیارِ ہنگام سے شہرِاستحکام کی طرف روانہ ہو گی۔نہ جلوس کی رفتار تیز ہوگی نہ خاموشی کی آواز کم بلکہ شور اور سکوت کی ہم آغوشی انقلاب پیداکرے گی ۔

چھتیں بجلی گھر بنیں گی جہاں روشنی اور سایہ ایک نئی معیشت بنائیں گے۔ درآمدی پر انحصار کم ہوگا نہ مقامی زیادہ ،باہر اور اندر ایک ہوجائیں گے۔ پیدا کرنے اور خریدنے کا نظام متصل ہوجائے گا مرکز اور صارف ایک کیفے میں بیٹھیں گے ۔ سانچےاور ڈھانچےکے مسائل پرانے اور نئے قانون کے تصادم سے ابھریں گے۔ یعنی دو ہزار تیس تک توانائی میں ملک روشن اور تاریک دونوں موسموں کو دیکھ چکا ہوگا لیکن پانی کا باواخطرے کی گھنٹی بجادےگا ۔ زمین کےپانی کی سطح مسلسل گر رہی ہوگی اورسیلاب کے پانی کی سطح اٹھ رہی ہوگی ،یعنی خشکی اور تری ایک سکے کے دو رخ ہوں گے۔ زراعت اور شہر پیاس اور سیلاب کے بیچ جھولیں گے۔ پانی صرف وسیلہ نہیں رہے گا بلکہ بقا اور فنا کا سلگتا ہواسوال بن جائے گا۔

کراچی اورلاہورمیں پھیلاؤ اور سکڑاؤ ایک ہی وقت میں ہوگایعنی ملک دیہی سے شہری بنے گا ، تنہائی اور ہجوم ایک وجود میں جمع ہوں گے۔ آبادی روزگار اور بے روزگاری، گھر اور بے گھری کے بیچ نئی دنیا بسائے گی۔ نئے شہر کاغذ پر غیر موجود ہوں گے مگر زمین پر دکھائی دیں گے یعنی عدم اور وجود ایک ساتھ آباد ہوں گے۔ نوجوان نسل اپنی قوت دکھائے گی ، ناکامی اور کامیابی ایک تجربے سے نکلیں گے۔ یہ صرف سیاست نہیں ہوگی پرانی اور نئی سوچ کا ٹکراؤ بھی ہوگا سنگم بھی۔ مصنوعی ذہانت ملازمتیں اور کاروبارختم کرے گی اور پیدا کرے گی یعنی خاتمہ اور آغاز ایک کوڈ میں ہوں گے۔ چھوٹے شہر دنیا کے بڑے شہروں سے جڑ جائیں گے۔ دفتر اور گھر کی تعریف کمزور ہوگی اور اسی کمزوری اور طاقت کے بیچ ایک نئی معیشت جنم لے گی۔

معلومات کو روکنا اور چھوڑنا دونوں دشوار ہو جائیں گے۔ اخبار روکا جاتا تھا نشریات محدود ہوتی تھیں مگر اب بندش اور آزادی ایک اسکرین پر دست و گریباں ہونگی۔ لوگوں تک سچ اور جھوٹ ایک ساتھ پہنچیں گے ۔ جھوٹ کی حرارت بھی بڑھے گی اور سچ کی طاقت بھی ،یعنی فریب اور حقیقت ایک فیڈ میں ہوں گے۔ بیانیے پر اختیار مشکل سے ناممکن ہوتا جائے گا کیونکہ بولنا اور چپ رہنا اب تقریباًہاتھ سے نکل رہا ہے۔ دو ہزار انتیس تک دیوالیہ کی گفتگو کم ہو سکتی ہے جہاں مایوسی اور امید ایک رپورٹ میں ہوں گی۔ ملک امیر نہیں ہوگا غریب بھی نہیں ،غربت اور بہتری کے بیچ لکیر بنے گی۔ استحکام اور بے چینی ساتھ چلیں گے۔ بہتری اور بدتری کے بیچ فاصلہ کم کرنا اصل مسئلہ ہوگا۔ اوپر کی ترقی اور نیچے کی تنگی کو ایک دسترخوان پر لانا امتحان ہوگا۔

خارجہ میں نیا توازن آئے گا جہاں دشمنی اور دوستی مفاد سے تولی جائیں گی۔ چین اہم رہے گا خلیج سے قربت اور دوری معیشت سے جڑیں گی۔ امریکہ سے تعلق ضرورت اور بے نیازی کے بیچ چلے گا۔ افغانستان خطرہ اور موقع دونوں بنا رہے گا۔ بھارت سے دوستی قریب نہیں ہوگی مگر دشمنی کی قیمت قریب اور دور کے بیچ راستہ تلاش کرے گی۔ بلوچستان اور خیبر میں طاقت اور محبت، سختی اور نرمی دونوں آزمائی جائیں گی۔ صرف طاقت سے مسئلہ نہ چھوٹا ہوگا نہ بڑا بلکہ الجھے گا۔ سلامتی اور سیاست، روزگار اور محرومی ایک زنجیر کی کڑیاں ہیں۔ راستہ بند ہوگا تو ناراضی کھلے گی، نمائندگی بڑھے گی تو جگہ بنے گی یعنی بندش اور کشادگی ایک دروازے سے آئیں گی۔ انتیس اور تیس کے بیچ پرانا سوال سامنے کھڑا ہوگا جس میں طاقت اور جواز، حکم اور عوام آمنے سامنے ہوں گے۔ طاقت کو جواز میں بدلنا مشکل ہو چکا ہوگا۔ قبولیت ایسی قوت بنے گی جسے قبول اور رد دونوں کے لیے مہنگا پڑے گا۔ بڑی تبدیلی عمارت میں نہیں ذہن میں ہوگی جہاں پرانا اور نیا ٹکرائیں گے۔ نسل پوچھتی تھی حکمران کون ہے اب پوچھے گی حق کس نے دیا یعنی کون اور کیوں جگمگائیں گے۔ ان دو نوں کے بیچ پورا عہد دفن ہے جہاں اطاعت اور سوال، خاموشی اور بغاوت ایک نسل میں پل رہے ہیں۔ دو ہزار تیس میں ملک نہ بہت بدحال ہوگا نہ عظیم طاقت بلکہ ٹوٹنے اور بننے کے بیچ کھڑا ہوگا۔ پرانا پورا ختم نہیں ہوا ہوگا نیا پورا پیدا نہیں ہوا ہوگا مگر لکیر عبور ہو چکی ہوگی۔ سب سے بڑا واقعہ کسی کا آنا اور جانا نہیں ہوگا بلکہ آنے اور جانے کے نظام کا بدل جانا ہوگا۔

تازہ ترین