پاکستان تحریک انصاف اور حکومت کے درمیان مذاکرات ناکام ہو چکے ہیں اور لانگ مارچ جاری ہے۔ ایک طرف وفاقی حکومت اسلام آباد میں مارچ کے داخلے کو روکنے کیلئے سخت مؤقف اختیار کیے ہوئے ہے اور دوسری طرف پی ٹی آئی نے سڑکوں کا راستہ اختیار کیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے ایک بار پھر مذاکرات کی دعوت دی ہے لیکن ساتھ ہی لانگ مارچ ختم کرنے کی شرط بھی رکھی گئی ہے۔ دوسری طرف حکومتی حلقوں کی طرف سے یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ ریاستی مؤقف مزید سخت ہو سکتا ہے۔ یوں پاکستان ایک ایسے مقام پر کھڑا ہے جہاں سیاسی تصادم کیساتھ ساتھ سیاسی راستے کی تلاش بھی جاری ہے۔
یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے۔ اگر حکومت اپنے آپ کو سخت فیصلوں کیلئے تیار رکھتی ہو تو ایک سیاسی جماعت اس ماحول میں اپنے لیے راستہ کیسے نکالتی ہے؟اس سوال کا جواب صرف پاکستان کے اندر نہیں ملتا۔ دنیا کی تاریخ میں ایسے کئی مرحلے گزرے ہیں جہاں ریاستی طاقت مضبوط تھی، اپوزیشن دباؤ میں تھی اور سیاسی جماعتوں کیلئے گنجائش محدود تھی۔ مگر کچھ جگہوں پر اپوزیشن نے یہ سمجھ لیا کہ ہر جنگ سڑک پر نہیں لڑی جاتی اور ہر سیاسی کامیابی ایک ہی دن کے احتجاج سے حاصل نہیں ہوتی۔
چلی اس حوالے سے ایک اہم مثال ہے۔ آگسٹو پنوشے کے دور میں ریاستی طاقت انتہائی مضبوط تھی۔ اپوزیشن کے اندر بھی اختلافات تھے۔ احتجاج ہوئے۔ دباؤ بڑھا۔ لیکن بالآخر اپوزیشن کے ایک بڑے حصے نے دستیاب آئینی راستے کو استعمال کرنے کا فیصلہ کیا۔ 1988ءکے ریفرنڈم میں پنوشے کے اقتدار میں مزید توسیع کے خلاف مہم چلائی گئی۔ مختلف سیاسی جماعتیں ایک پلیٹ فارم پر آئیں اور ’’نو‘‘ کی مہم نے وہ سیاسی جگہ استعمال کی جو نظام نے خود فراہم کی تھی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ پنوشے کے تسلسل کو عوامی ووٹ سے مسترد کیا گیا اور اس کے بعد 1989ءکے انتخابات کی راہ ہموار ہوئی۔یہاں اصل سبق نتیجہ نہیں بلکہ طریقہ کار ہے۔ اپوزیشن نے ریاست کو ختم کرنے کے بجائے ریاست کے اندر موجود سیاسی راستے تلاش کیے۔ اختلاف برقرار رکھا مگر سیاسی عمل سے باہر نہیں نکلی۔ ریفرنڈم جیتنے کے بعد بھی مذاکرات کیے گئے اور آئینی اصلاحات پر حکومت اور مختلف سیاسی قوتوں کے درمیان بات چیت ہوئی۔ یوں احتجاج، عوامی دباؤ، مذاکرات اور انتخابی سیاست ایک دوسرے کے متبادل نہیں بلکہ ایک ہی سیاسی حکمت عملی کے مختلف حصے بن گئے۔
پولینڈ کا تجربہ بھی اس سے مختلف نہیں تھا۔ 1989 میں حکومت اور سالیڈیریٹی کے درمیان راؤنڈ ٹیبل مذاکرات ہوئے۔ کئی ہفتوں کی بات چیت کے بعد سیاسی اصلاحات اور انتخابات کی طرف راستہ کھلا۔ یہ کوئی مثالی یا مکمل سمجھوتا نہیں تھا۔ دونوں فریقوں کو ایک دوسرے کے وجود اور طاقت کو تسلیم کرنا پڑا۔ لیکن اسی عمل نے ایک بند سیاسی ماحول کو بتدریج زیادہ کھلے سیاسی نظام کی طرف منتقل کرنے میں کردار ادا کیا۔
پاکستان کا مسئلہ یہ ہے کہ یہاں ہر فریق دوسرے سے مکمل فتح چاہتا ہے۔ حکومت چاہتی ہے احتجاج پہلے ختم ہو پھر بات ہو۔ پی ٹی آئی چاہتی ہے کہ اس کے بنیادی سیاسی مطالبات تسلیم کیے جائیں پھر راستہ کھلے۔ نتیجہ یہ ہے کہ دونوں ایک دوسرے سے پہلا قدم اٹھانے کی توقع کر رہے ہیں۔یہی وہ مقام ہے جہاں ایک جمہوری جماعت کے لیے سب سے مشکل فیصلہ سامنے آتا ہے۔کیا وہ دستیاب سیاسی گنجائش کو استعمال کرے یا اسے اسلئے مسترد کر دے کہ وہ مکمل نہیں؟موجودہ حالات میں پی ٹی آئی کے سامنے یہی بنیادی سوال ہے۔ حکومت نے مذاکرات کی گنجائش مکمل طور پر ختم نہیں کی۔ پی ٹی آئی کے ساتھ دو روز بات چیت ہوئی۔ بعض نکات پر پیش رفت کے حکومتی دعوے بھی سامنے آئے جبکہ پی ٹی آئی نے کہا کہ عمران خان تک رسائی اور خیبر پختونخوا میں انسداد دہشت گردی کی پالیسی جیسے معاملات پر بنیادی اختلاف برقرار رہا۔ مذاکرات ختم ہوئے اور مارچ شروع ہو گیا۔لیکن مذاکرات کا ناکام ہونا مذاکرات کی ضرورت کو ختم نہیں کرتا۔بلکہ ایسے ماحول میں مذاکرات کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔
یہاں خیبر پختونخوا کا معاملہ بھی اہم ہے۔ سہیل آفریدی ایک طرف لانگ مارچ کی قیادت کر رہے ہیں اور دوسری طرف ایک صوبائی حکومت کے سربراہ ہیں۔ اسلئے ان کیلئے احتجاج اور حکمرانی کے درمیان توازن رکھنا محض سیاسی مسئلہ نہیں بلکہ انتظامی ذمہ داری بھی ہے۔ وفاق اور صوبے کے درمیان انسداد دہشت گردی کے طریقہ کار پر اختلاف پہلے ہی مذاکرات کے اہم نکات میں شامل رہا ہے۔اگر حکومت مزید سختی کرتی ہے تو سیاسی جماعت کیلئے سب سے بڑا امتحان یہی ہوگا کہ وہ اپنے احتجاج کو ایسے راستے پر کیسے رکھتی ہے جہاں سیاسی دباؤ بھی برقرار رہے اور جمہوری سیاست کی گنجائش بھی ختم نہ ہو۔
دنیا کے ان تجربات کا سبق یہ نہیں کہ احتجاج چھوڑ دیا جائے۔ سبق یہ ہے کہ احتجاج کو مقصد نہیں بلکہ سیاسی دباؤ کا ایک ذریعہ سمجھا جائے۔ مقصد سیاسی راستہ کھولنا ہو تو مذاکرات بھی استعمال ہوں گے، پارلیمان بھی، انتخابات بھی، عدالت بھی اور عوامی رابطہ بھی۔چلی میں اپوزیشن نے سڑک اور بیلٹ کے درمیان انتخاب نہیں کیا۔ اس نے دونوں کو ایک بڑے سیاسی عمل کا حصہ بنایا۔ پولینڈ میں بھی سیاسی تبدیلی صرف سڑک پر نہیں آئی بلکہ مذاکرات کی میز تک پہنچی اور وہاں سے ادارہ جاتی تبدیلی کا راستہ نکلا۔
پاکستان میں حالات یقیناً مختلف ہیں۔ یہاں اپنی تاریخ ہے، اپنی ریاستی ساخت ہے، اپنی سیکورٹی صورتحال ہے اور اپنی سیاسی تقسیم ہے۔ اس لیے کسی دوسرے ملک کا فارمولا جوں کا توں یہاں لاگو نہیں کیا جا سکتا۔لیکن اصول ایک ہو سکتا ہے۔جمہوری جماعت اگر خود کو واقعی جمہوری متبادل کے طور پر قائم رکھنا چاہتی ہے تو اسے سخت ترین ریاستی ماحول میں بھی سیاسی راستے تلاش کرنا پڑتے ہیں۔ اسے ہر دستیاب گنجائش استعمال کرنی پڑتی ہے۔ اسے مخالف سے بات کرنے کو شکست نہیں سمجھنا پڑتا اور مذاکرات کو اپنے مطالبات سے دستبرداری نہیں بنانا پڑتا۔کیونکہ تاریخ بتاتی ہے کہ بند دروازہ ہمیشہ طاقت سے نہیں کھلتا۔کبھی دروازہ مذاکرات سے کھلتا ہے۔کبھی ووٹ سے۔کبھی آئینی عمل سے۔اور کبھی سڑک پر موجود سیاسی دباؤ کو مذاکرات کی میز تک لے جا کر۔
پاکستان اس وقت اسی انتخاب کے بیچ کھڑا ہے۔ لانگ مارچ جاری ہے۔ حکومت سخت مؤقف پر ہے۔ مذاکرات کا دروازہ مکمل طور پر بند نہیں ہوا۔ اب اگلے مرحلے پر پی ٹی آئی اپنے اگلے لائحۂ عمل کا اعلان کرنے والی ہے۔اصل سوال یہ نہیں کہ کون کتنا سخت ہے۔اصل سوال یہ ہے کہ اس سختی کے درمیان جمہوری سیاست کیلئے راستہ کون نکالتا ہے۔اور وہ راستہ صرف طاقت سے نہیں، سیاسی حکمت عملی سے نکلے گا۔