• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایرانی نیٹ ورک نے جنگی مضامین کیلئے جعلی صحافیوں اور چیٹ جی پی ٹی کا استعمال کیا: اوپن اے آئی کا الزام

---فائل فوٹو
---فائل فوٹو 

مصنوعی ذہانت کی کمپنی اوپن اے آئی نے الزام لگایا ہے کہ ایران سے ایک اثر انداز نیٹ ورک چلایا جا رہا تھا جسے ناکام بنا دیا گیا ہے۔

بین الاقوامی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق اوپن اے آئی نے ایک بلاگ پوسٹ میں الزام عائد کیا ہے کہ ایران سے منسلک نیٹ ورک نے دنیا بھر کے تقریباً 1 درجن میڈیا اداروں میں 7 جعلی صحافیوں کے لکھے ہوئے کم و بیش 100 مضامین شائع کروائے۔

اوپن اے آئی نے الزام عائد کیا ہے کہ نیٹ ورک چلانے والوں نے مضامین لکھنے، انہیں شائع کروانے کی تجاویز بہتر بنانے، سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر تبصرے تیار کرنے اور اندرونی رپورٹس بنانے کے لیے چیٹ جی پی ٹی کا استعمال کیا، ان اکاؤنٹس کا تعلق ایران سے تھا جبکہ ان کے منتظمین نے اپنے مقام کو چھپانے کے لیے مجازی نجی نیٹ ورک کی سہولت استعمال کی۔

کمپنی نے الزام عائد کیا ہے کہ اس نے ان چیٹ جی پی ٹی اکاؤنٹس پر پابندی عائد کر دی ہے جن کے ذریعے فارسی زبان میں پرامپٹس دے کر مضامین، ایڈیٹوریل تجاویز اور سوشل میڈیا تبصرے تیار اور بہتر کروائے جا رہے تھے۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ زیادہ تر مضامین اور تبصرے امریکا ایران جنگ سے متعلق تھے تاہم بعض سرگرمیوں میں امریکی سیاست کو بھی موضوع بنایا گیا، ان تبصروں کے ذریعے امریکا کو جارح، اسرائیل کو ناقابلِ اعتماد اتحادی اور ایران کو ثابت قدم متاثرہ فریق کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی گئی۔

اوپن اے آئی کے مطابق سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر اس مہم کو زیادہ پذیرائی نہیں ملی تاہم جعلی صحافیوں کے ذریعے حقیقی میڈیا میں مضامین شائع کروانے میں کامیابی حاصل ہوئی جن میں کم از کم ایک ادارے کے قارئین کی تعداد خاصی زیادہ تھی۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید