• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

گاؤں سے محبت دو قسم کے لوگوں نے کی ہے:جو وہاں کبھی رہے نہیں اور جو وہاں سے نکل آئے۔ پہلی قسم کے لوگوں میں ایک انگریز حاکم چارلس میٹکاف بھی ہے، جس نے 1830ء میں کلکتہ کے دفتر سے لکھا کہ ہندوستان کا ہر گاؤں ایک ننھی سی جمہوریہ ہے، اپنی ذات میں مکمل؛ سلطنتیں آتی ہیں اور چلی جاتی ہیں، یہ جمہوریہ جہاں کی تہاں رہتی ہے۔ احمد راہی نے، جو امرتسر کے تھے، چرخہ کاتتی لڑکیوں کے گیت لاہور کے فلم اسٹوڈیو میں لکھے۔ دوسری قسم میں جوش ہیں، جنھیں ملیح آباد کے آموں کی مہک حیدرآباد اور کراچی تک آتی رہی۔ قاسمی کے قلم سے انگہ کے کھیت لاہور کے دفتر میں اُگتے رہے۔اختر شیرانی نے دیس کی خبر دیس سے آنے والے سے لاہور میں بیٹھ کر پوچھی اور آج پردیس میں روزی کمانے والے لڑکے ڈھول کی ویڈیو دبئی سے میلان بھیجتے ہیں۔ جنت کی تصویر ہمیشہ اُسی نے کھینچی جو جنت سے باہر کھڑا تھا۔اگر گاؤں وہی رومانوی جمہوریہ ہے جسے شاعر نے نظم میں باندھا ہے تو اُس کے اپنے بیٹے اُسے چھوڑ کر کیوں جاتے ہیں؟ سوال اُس لڑکے کا ہے جس کا ہل ہے، جسکی بھینس ہے، جس کے نام زمین کا ٹکڑا بھی ہے، اور جو پھر بھی ہر صبح لاری اڈےپر کھڑا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ شاعر کے گاؤں میں کوئی مزارع نہیں بستا، وہاں کوئی کسی کا مقروض نہیں ہوتا اور وہاں کوئی کسی پر نظر نہیں رکھتا۔ایک شام گاؤں میں گزاریے۔ سورج ڈھلتا ہے اور نظم کی لڑکی گھڑا اٹھائے کنویں کی طرف چلتی ہے مگر کنواں ٹیوب ویل کے بعد سوکھ چکا، اور صحن میں نلکا لگتے ہی وہ اکلوتا راستہ بھی بند ہوا جس پر اُسے جانے کی اجازت تھی۔ وہ دہلیز سے لوٹ آتی ہے۔ پیپل تلے سفید ریش بیٹھے ہیں، نظم اُنھیں دانائی کی مجلس سمجھتی ہے مگر چوپال بڑی برادری کی کچہری ہے، اور آج وہاں چھوٹے کسان کو بتایا جا رہا ہے کہ اُس کا کھیت کس بھاؤ جائیگا۔ یہی کسان شاعر نے صبح ہل چلاتے دیکھا تھا، شام کا حساب یہ ہے کہ ٹریکٹر کرائے کا تھا، ڈیزل ادھار کا، بیج اور کھاد آڑھتی کے اور فصل پر پہلا حق بھی آڑھتی کا۔ صحن میں ایک بھینس کی کھونٹی خالی ہے، وہ بیٹی کی شادی پر بکی۔جو بچ رہی اُس کا دودھ ڈیری کی گاڑی سو روپے لیٹر لے گئی اور شہر میں دو سو بیس کا بیچ دیا۔ اندر ماں بیٹھی ہے، چرخہ نہیں،وہ مل کا کپڑا آنے کے بعد رک گیا تھا اور ماں اب دیہاڑی پر وہ کپاس چنتی ہے جسے اُس کی بیٹی شہر کی فیکٹری میں سیتی ہے۔ رات اترتی ہے، چاند نکلتا ہے مگر نظم والا چاند کہیں دکھائی نہیں دیتا۔ وہ چاند تب تک حسین تھا جب تک بجلی نہ آئی تھی۔گاؤں کی نظم کے پیچھے چار قصّے ہیں جنھیں رومان پسندوں نے سچ مان رکھا ہے۔ پہلا قصّہ برابری کا کہ گاؤں میں سب ایک جیسے ہیں۔ سچ یہ ہے کہ گاؤں میں تفاوت ملک بھر سے زیادہ ہے۔ گاؤں کے آدھے سے زیادہ گھرانوں کے پاس اپنی کوئی زمین نہیں اور جن کے پاس ہے اُن میں دس گھرانے آدھی زمین کے مالک ہیںاور گاؤں کے دو کمانے والے مل کر اُتنا پیدا کرتے ہیں جتنا شہر کا ایک۔ دوسرا قصّہ امن کاکہ شہر میں جرم ہے اور گاؤں میں چین۔ تھانہ اور دیوانی عدالت تحصیل کے سب سے مصروف دفاتر ہیں۔ تیسرا قصّہ خود کفالت کاکہ نہری گاؤں نے پہلی فصل سے گندم اور کپاس منڈی میں بیچی ہے اور ڈیزل سے موبائل تک سب شہر سے خریدا ہے۔ چوتھا قصّہ قناعت کاکہ گاؤں کا آدمی شہر کے آدمی سے زیادہ صابر و شاکر ہے۔ جہاں سے نکلنے کا راستہ نہ ہو، وہاں ٹھہرنے کو صبر نہیں کہتے، اور اِس صبر کی قیمت گنی جا چکی ہے۔ شہر میں چار میں سے تین لکھنا پڑھنا جانتے ہیں، گاؤں میں دو۔ گاؤں میں دس میں سے چار بچے قد میں چھوٹے رہ جاتے ہیں، شہر میں تین اور پانچ برس سے پہلے مرنے والے بچے گاؤں میں شہر سے ڈیڑھ گنا زیادہ ہیں۔

اِن چاروں قصّوں کے پیچھے دو بہی کھاتے ہیں۔ ایک پٹواری کا، جس میں لکھا ہے کہ کون کچھ ہے اور کون کچھ بھی نہیں۔ دوسرا آڑھتی کا، جس میں لکھا ہے کہ کون ٹھہرے گا اور کون چلا جائے گا۔ آدمی کی ذات اِن دونوں میں لکھی ہے، اور دونوں کسی اور کے پاس ہیں۔دو چیزیں ایسی ہیں جو کسی بہی کھاتے میں نہیں: نگاہِ نگراں اور دھڑے بندی۔ گاؤں میں کوئی اکیلا نہیں، سب دیکھے جاتے ہیں، اور جو ہر دم نظر کی زد میں ہو وہ اپنی مرضی سے کچھ نہیں کرتا۔ دھڑے بندی ایسی کہ ہر شادی، مقدمہ، ووٹ اور جنازہ اس سوال سے طے ہوتا ہے کہ کون کس کیساتھ ہے۔ جس گاؤں میں دادی کھیت میں کام کرتی تھی، وہاں پوتی چار دیواری میں ہے۔ موبائل آیا تو نگرانی اُس پر بھی آئی، پیسہ آیا تو غیرت کا پردہ اُس پر بھی تن گیا، اور گاؤں جتنا کھاتا پیتا ہوتا چلا گیا، عورت اُتنی ہی کم دکھائی دینے لگی۔ دکھائی کم دی، کام کم نہیں ہوا۔ گاؤں کی عورت دن میں سات گھنٹے کام کرتی ہے، شہر کی پانچ۔ اور گاؤں میں کام کرنے والی ہر دس عورتوں میں سے چھ کو کوئی اجرت نہیں ملتی، شہر میں دو کو۔

پھر کیا کیا جائے؟ نہ نظم، نہ نفرت۔ گاؤں کو پہلے وہ کاغذ چاہیے جس پر اُسکی زمین لکھی ہے، اور اتنی صاف لکھی ہو کہ مالک خود پڑھ لے، پٹواری سے پڑھوانا نہ پڑے۔ پھر وہ قرض جو آڑھتی کی جیب سے نہیں، بینک کے کھاتے سے آئے کہ آڑھتی کا سود فصل سے پہلے پک جاتا ہے۔ اور نظم کی وہ لڑکی جو دہلیز سے لوٹ آئی تھی، اُس کیلئے دہلیز کے پار ایک سڑک، جو اسکول اور کارخانے تک جائے اور جس پر کوئی نگاہ اُسے پلٹانے والی نہ ہو۔ گاؤں کو شاعر نہیں چاہئے۔ اُسے اپنی اونچ نیچ کا کھلا حساب چاہیے: زمین کس کے نام ہے، قرض کس کے سر ہے اور چار دیواری کس پر تنگ ہے۔ جس دن گاؤں کا رومان جانے والوں کو روک لے گا، اُس دن اُس پر نظم بھی وہیں بیٹھ کر لکھیں گے۔

تازہ ترین