• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کیا کبھی نفرت کی کھیتی سے امن کی فصل تیار ہوئی ہے؟ کیاکانٹے بوکر کنول کے پھول اُگے ہیں؟ کیا کبھی دال کی ہانڈی سے آلوگوشت پک کر نکلا ہے؟ دراصل آپ جو بوتے ہیں وہی کاٹتے ہیں ، نفرت سے امن کیونکر پیدا ہوسکتا ہے، کانٹوںمیںسے کنول کے پھول نہیں ببول ہی نکل سکتے ہیں ہانڈی میں دال ڈالیںاور توقع کریں کہ آلو گوشت پک کر نکلے تو ایسا ہو نہیںسکتا۔ انگریزی کا ایک محاورہ ہےWhat you think, You become یعنی جو آپ سوچتے ہیں آپ ویسے ہی ہوجاتے ہیں، فرد کی سوچ اسکی شخصیت اورا عمال پر اثرانداز ہوتی ہے۔ آج کے مسائل کی جڑ ہماری اجتماعی سوچ کی کجی اور غلطی میں ہے۔ ہماری سیاسی لغت الٹی ہے ہم نے خوبیوں کو خرابی اور خرابیوں کو خوبیوں کا نام دے رکھا ہے، پاکستان کی سیاست میں مفاہمت کو بزدلی اور تصادم کو بہادری سے تعبیر کیا جاتا ہے، ہمارے ہاں صلح کو گالی تصور کیا جاتا ہے، دومخالف گروپوں میں مفاہمت کو مک مکا کا منفی نام دیکر اسکا مذاق اڑایا جاتا ہے۔ جب لچک کو کمزوری، برداشت کو بزدلی ، مذاکرات کو سودے بازی، سمجھوتے کو اصول فروشی،محاذ آرائی کو بہادری اور انتقام کو انصاف سمجھا جائے بلکہ اسے اعلیٰ ترین سیاست قرار دیا جائے تو وہاں مصالحت،مفاہمت یا صلح کیسے ہوگی؟ وزیر اعلیٰ خیبر پختوانخوا کے پاس چوائس ہی کوئی نہیں۔ وہ صلح کریں ، لانگ مارچ منسوخ کریں تو اجتماعی سوچ کی غلطی کو عام کرنیوالے یوٹیوبرز کے ہتھے چڑھ جائینگے کہ مک مکا ہوگیا، ڈیل ہوگئی ،این آر او ہوگیا اور یوں انکا سیاسی قتل ہوجائے گا، وہ صلح نہ کرکے اور لانگ مارچ جاری رکھ کر سیاسی شہید بننے کو ترجیح دینگے کہ ابھی جوان ہیں سیاست کرنی ہے سیاسی شہید کو دوبارہ زندگی مل جاتی ہے سیاسی مقتول ہمیشہ کیلئے دفن ہوجاتا ہے، اسکا تو کوئی جنازہ بھی نہیں پڑھتا۔

جب سوچ میں نفرت ،زبان میں تلخی اور عمل میں تصادم موجزن ہوتو نتیجے میں امن استحکام، مفاہمت اور ترقی نہیں مل سکتے۔ امن تب ملتاہے جب پہلے امن کی خواہش پیدا کی جائے، امن پسند رویوں کو فروغ دیا جائے، گالی اور دشنام کا کلچر ختم ہو اور مفاہمت ورواداری کو اعلیٰ ترین رویہ سمجھا جائے۔ پاکستان میں جنرل مشرف اور بینظیر بھٹو کے درمیان این آر او نامی مفاہمت کو جس طرح ڈیل اور مک مکا کہہ کر رگیدا گیا اسکا لازمی نتیجہ مفاہمت کی ناکامی تھی، محترمہ بے نظیر بھٹودن دہاڑے سرعام سڑک پر شہید کردی گئیں جنرل مشرف اقتدار سے فارغ کردئیے گئے گویا امن، صلح اور مفاہمت ہار گئے تصادم، جنگ اور محاذ آرائی جیت گئے۔ بین الاقوامی سطح پر انور سادات اور دائیں بازو کے اسرائیلی وزیر اعظم مناحم بیگن نے امن معاہدہ کیا تو انور سادات کو سرعام گولی سے اڑا دیا گیا ، امن پسند اسرائیلی وزیر خارجی اسحاق رابن کو یہودی انتہا پسند نے امن کی حمایت کرنے پر قتل کردیا۔ جب امن پسندوں کیلئے معاشروں میں جگہ تنگ ہوگی تو وہاں جنگ ہی ہوگی ۔مشرق وسطیٰ کے آج کے حالات پھر سے امن کی خواہش کررہے ہیں مگر ہر کوئی صلح سے ڈرتا ہے کہ اسکی صلح کو بزدلی اور اسکی مفاہمت کو اپنے اقتدار کے دوام کی خواہش پر منطبق کیا جائیگا اس خوف اور دباؤ نے جنگوں کو فروغ دیا ہے اور امن کی کوششوں کو روکا ہے۔ تحریک انصاف اور حکومت کے درمیان جاری بحران بھی غلط اجتماعی سوچ کی وجہ سے حل نہیں ہوپارہا۔مشرقی حکمت کے ستون مولانا روم سے منسوب فارسی کا شعر ہے

از مکافاتِ عمل غافل مشو

گندم از گندم، بروید، جو ازجو

یعنی عمل کے نتائج سے غافل نہ ہو، گندم سے گندم اور ’’جو‘‘ سے جو ہی پیدا ہوتا ہے۔ اسی طرح انگریزی کا مشہور محاورہ ہے۔

You can not make peace, by preparing for war

یعنی آپ جنگ کی تیاری کرتے ہوئے امن قائم نہیں کر سکتے۔ اب ایک طرف حکومت نے اسلام آباد کے راستے روک رکھے ہیں،سینکڑوں افراد گرفتار ہیں ،ملک بھر سے پولیس اور نیم فوجی دستے بلا رکھے ہیں دوسری طرف وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اقتداری گھوڑے پر سوار اپنے ہی صوبے کے مختلف شہر فتح کرتے جارہے ہیں۔ مذاکرات کی میز پر ہار جیت جب انا کا مسئلہ بن جائے تو پھر مسئلوں کا فیصلہ سڑکوں اور میدانوں میں ہوا کرتا ہے۔ مذاکرات کو کامیاب کرنے کا بنیادی اصول لچک ہے اگر دونوں طرف لچک ہو تو مذاکرات کی کامیابی سو فیصد یقینی ہوتی ہے، اگر ایک فریق میں لچک ہو اور دوسرا ضد پر آمادہ ہو تب بھی معاہدے یا مفاہمت کا 50 فیصدامکان ہوتا ہے مگر حالیہ معاملے میں دونوں طرف ضد اور انا ہے۔ حکومت عمران خان کے علاج میں ڈھیل دینے، بشریٰ بی بی کو بنی گالہ منتقل کرنے اور سیاسی قیدی خواتین کے بارے میں نرمی کرنے پر آمادہ ہو سکتی ہے، مگر اسکے بدلے وہ لانگ مارچ کا خاتمہ اور صوبے میں آپریشن میں حصّہ داری کی کڑی شرائط پر عمل چاہتی ہے ،حکومت اپنی شرائط سے پہلوتہی کرکے معاہدہ کیوں کرے گی؟ اور وزیر اعلیٰ آفریدی ان دونوں شرائط کو مان کر سیاسی خودکشی کیوں کرے گا؟ دونوں کے موقف کو سمجھا جائے تو کوئی معاہدہ ممکن ہی نہیں وزیراعلیٰ لچک دکھائے تو اسکی سیاست جاتی ہے حکومت لچک دکھائے تو اسکا کنٹرول جاتا ہے۔ اسلئے مکمل مفاہمت کا امکان نہیں اور اسکی بنیادی وجہ ہماری اجتماعی سوچ کی کجی ہے اور جب تک انتہا پسندی، گالی، دشنام، زور زبردستی، مظاہرے اور دھرنے ہمارے پسندیدہ رہیں گے ملک کی اندرونی لڑائیاں بڑھتی رہیں گی۔ برداشت کا کلچر ختم ہوتا جائیگا اور ہم انارکی کا شکار ہوتے جائیں گے۔

میں یہ کالم لندن میں بیٹھا لکھ رہا ہوں،مجھے آج کے پر امن و پرسکون لندن میں اس شہر کی تاریخ کے وہ دن یاد آرہے ہیں جب اس شہر کی گلیوں میں خونریزی مذہبی و سیاسی فسادات عام تھے،حتیٰ کی تھیٹروں تک میں پر تشدد مناظر دکھا ئے جاتے تھے ،خون بہتا دیکھ کر عام لوگ تلذز حاصل کر تے ،تشدد اور لڑائی دیکھ کر عوام جوش سے تالیاں پیٹتےتھے۔ یہ سولہویں اور سترھویں صدی کا لندن تھا۔آج کے لندن کے اجتماعی رویے مکمل طور پر بدل چکے ہیں قتل کی خبر ڈھونڈے سے نہیں ملتی۔ عوام تشدد اور انتہا پسند رویوں سے نفرت کرتے ہیں پہلے انسانوں کا خون بہتا دیکھ کر مزا لیاجاتا تھا اب حال یہ ہے کہ کوئی جانوروں کوبھی تکلیف دے تو اسکا جرم قابل دست اندازی پولیس سمجھا جاتا ہے۔ لندن کی مثال سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اجتماعی رویے ہی اعمال پر منتج ہوتے ہیں ۔ہم نے اپنے معاشرے کو پرامن اور پرسکون بنانا ہے تو نہ صرف اپنی سیاسی لغت کو تبدیل کرنا ہوگا بلکہ آئینی بندوبست پر سختی سے کاربند رہتے ہوئے انسانی آزادیوں،سیاسی اور ذاتی حقوق کا تحفظ اور رائے عامہ کی آزادی کو یقینی بنانا ہوگا۔ مفاہمت ،امن ، ڈیل،صلح،مذاکرات اور لچک کو منفی نہیں مثبت انداز میں دیکھنا ہوگا۔ احتجاج، توڑپھوڑ ،دھرنوں کورد کرنا ہوگا ۔حکومتی دباؤ، دھونس اور شہری حقوق کی خلاف ورزی پر قانون کے اندر رہ کر آواز بلند کرنی ہوگی۔ ہیرو اور ولن کے تصور کو بدلنا ہوگا پنجابی فلموں یا بالی وڈ فلموں کا ہیرو جوکشتوں کے پشتے لگاکر تشدد کو فروغ دیتا ہے اسکی بجائے امن پسندوں، جمہوریت پسندوں اورآئین پسندوں کو ہیرو بنانا ہوگا۔

آخر میں عرض ہے کہ تاریخ کے مقرر کردہ اصولوں سے ہٹ کرمثبت نتائج حاصل کرنا مشکل ہوتا ہے اسی لئے تو کہتے ہیں کہ جیسا چولہا ویسی روٹی اور اگر پنجابی مثال کو لیاجائے تو اسکے مطابق’’جیہاں منہ، ویسی چپیڑ‘‘ یعنی جیسا منہ ویسا تھپڑ۔موجودہ بحران کو حل کرنے کیلئے کوئی معجزہ رونما ہوتو ہو ورنہ ہمارے اجتماعی رویوں کی روشنی میں مفاہمت،صلح یا ڈیل کی کامیابی کا کوئی امکان نہیں کیونکہ جوبھی لچک دکھائیگا وہ بزدل اور مصلحت پسند کہلائے گا۔’’بہادروں‘‘ کی اس دنیا میں صلح نہیں لڑائی ہی سکہ رائج الوقت ہے، لڑئیے اور لڑتے جائیے…!!

تازہ ترین