• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سعودی عرب اور یمنی حوثی باغیوں میں دیرینہ چپقلش، ان دنوں بگڑ کر جنگ کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ تازہ اطلاعات کے مطابق حوثیوں نے ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے جس میں سعودی حکام کے مطابق تین سعودی شہری جاں بحق اور متعدد زخمی ہوئے، سعودی ایئرلائنز کے ایک طیارے کو بھی نقصان پہنچا، دوسری طرف سعودی فضائیہ نے بھی اپنے اتحادیوں کے تعاون سے جوابی حملے کرتے ہوئے 136فوجی اہداف کو ٹارگٹ کیا ہے۔ دو لاکھ کے قریب یمنیوں کی نقل مکانی ہو چکی ہے، سعودیوں کی سینکڑوں فلائیٹس منسوخ ہو چکی ہیں، رائٹر کی رپورٹ کے مطابق یورپی یونین کی سول ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی نے بھی سعودی فضائی حدود کے حوالے سے اپنی احتیاطی ہدایات وسیع کی ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ معاملہ صرف فوجی محاذ تک محدود نہیں رہا۔

واضح رہے، اس سے پہلے یمنی حوثیوں نے ریڈ سی کے ساحلی علاقوں میں پیش قدمی کرتے ہوئے باب المندب کے اہم مقامات پر کنٹرول حاصل کر لیا تھا جسکے بعد سعودی حمایت یافتہ یمنی حکومتی افواج نے جوابی کارروائی کی اور کئی کامیابیوں کے دعوے کیے۔ اب فضائی کے ساتھ زمینی لڑائی بھی شروع ہو چکی ہے، موجودہ جنگی صورتحال کو سمجھنے کیلئے اس کے پس منظر پر ایک طائرانہ نظر ضروری ہے۔ یہ تو سب پر واضح ہے کہ سعودی عرب ایک سنی مملکت ہے جسکے حکمران خادم حرمین شریفین مذہبی تنگناؤں میں الجھنے کی بجائے عصری تقاضوں کا نہ صرف کہ شعور و دراک رکھتے ہیں بلکہ بشمول امریکا پوری دنیا سے معتدل تعلقات،او آئی سی اور عرب لیگ کے علاوہ خلیجی تعاون کونسل میں بھی اثر و رسوخ کے حامل ہیں جبکہ دوسری طرف 1979 سے تا حال ایران ایک سخت گیر شیعہ مملکت ہے ۔ جو انقلاب کے بعد سے کوشاں ہے کہ دیگر مسلم ممالک بالخصوص جہاں جہاں شیعہ کمیونٹی موجود ہے وہاں اپنا اثر و رسوخ بڑھایاجائے۔

اس تناظر میں حوثیوں اور سعودیوں کی موجودہ لڑائی محض دو فریقوں کی کشمکش نہیں، ایران اور سعودی عرب کی ایسی علاقائی ،سیاسی اور مذہبی رقابت ہے جس میں ایک دوسرے کی معیشت و تجارت کو برباد کرنا بھی شامل ہے۔ ایران پوری طرح حوثیوں کا ہمدرد ہے، یمن میں زیدی شیعوں کی اگرچہ اپنی بھی ایک طویل تاریخ ہے جو اپنے اقتدار کی راہ میں سعودی عرب کو سب سے بڑی رکاوٹ خیال کرتے ہیں۔ 2014ءمیں یمن کی خانہ جنگی کے دوران حوثیوں نے دارالحکومت صنعاپر قبضہ کر لیا۔ مارچ 2015ءمیں سعودی عرب نے عرب اتحاد کی قیادت کرتے ہوئے یمن کی عالمی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت میں فوجی مداخلت کی جس کی درخواست خود یمنی صدر نے کی۔ اس طویل جنگ کے باوجود حوثی شمالی یمن کے بڑے حصے پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنے میں کامیاب رہے۔ 2022ءمیں ایک مرتبہ پھر یہ آگ بھڑکی،سعودی عرب ہرگز نہیں چاہتا کہ اس کی جنوبی سرحد پر ایک مسلح شدت پسند قوت میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے اس کے شہروں، ایئرپورٹس اور آئل تنصیبات پر تلوار بن کر لٹک رہی ہو اورجب چاہے میزائل اور ڈرون پھینکنا شروع کر دے۔ باب المندب اسٹریٹ، ریڈ سی کو خلیج عدن سے ملاتی ہے جسکے ذریعے بحری جہاز نہرسوئز سے یورپ و ایشیا کے درمیان تجارت کرتے ہیں جس پر عسکری دباؤ عالمی تجارت، آئل کی ترسیل اور جہازرانی کو متاثر کرتا ہے۔سعودی عرب کو اس وقت سب سے بڑا ایشو اپنی جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کے ساتھ اپنے شہروں اور شہریوں کی سلامتی اور اپنی معیشت کو بچانا ہے۔ آئل ریفائنریزکے ساتھ آئل ٹینکروں اور سپلائی لائنوں پر حملوں کو روکناہے۔ سعودی عرب کے پاس اگرچہ جدید فضائی قوت، وسیع معاشی وسائل اور اتحادیوں کی صورت میں زمینی فورسز بھی موجود ہیں لیکن حوثیوں نے برسوں کی جنگی صورتحال میں ایرانیوں کے تعاون سے اپنی عسکری صلاحیتیں نہ صرف برقرار رکھی ہیں بلکہ یہاں کا محفوظ پہاڑی سلسلہ، الجھی ہوئی جغرافیائی صورتحال، مقامی جنگی تجربہ کسی بھی بڑے سعودی آپریشن میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ خوشحالی اگرسلامتی کی خواہاں ہوتی ہے تو بھوک ننگ میں لوگ لڑنے مرنے کے لیے آمادہ رہتے ہیں، جو متشدد تنظیموں کا ایندھن بنتے ہیں۔ اب ایشو یہ ہے کہ موجودہ الجھی ہوئی صورتحال کا حل کیا ہے؟ ایک حل تو یہ ہے کہ امریکا، یو این اور عالمی طاقتیں بیچ میں کوئی رول ادا کرتے ہوئے فریقین میں کوئی قابل عمل معاہدہ کروا دیں جس کی ہر دو فریقین پاسداری کریں، لیکن اس کا امکان بہت کم ہے کیونکہ جب تک ایران اور سعودی عرب بلکہ بشمول امریکا واسرائیل امن کی کوئی بڑی یا وسیع ترصورت پیدا نہیں ہوتی، حوثی امن پر کیسے آمادہ ہو سکتے ہیں ؟ دوسری صورت یہ ہے کہ سعودی عرب اپنے اتحادیوں کی معاونت سے یمنی آئینی و قانونی حکومت کو اس قدر توانا کر دے کہ وہ اپنے باغیوں کی طاقت کو کچل کر رکھ دے، مگر مسئلہ پھر بھی یہ ہے کہ یمن کے اندرونی پہاڑی خطوں میں اس مزاحمتی تحریک کا کلی خاتمہ کیسے ہو سکتا ہے؟ بالآخر بوٹ اتارتے ہوئے سخت خونریزی در پیش ہو گی جس کا رسک کوئی بھی نہیں لینا چاہتا۔ لہٰذا جس قدر ہو سکے حوثی عسکری طاقت کی کمر ٹوٹنے کے بعد جب مزاحمتی قوت گرے گی تبھی کسی امن معاہدے کا امکان پیدا ہو سکتا ہے ، اس سے بھی بڑی سچائی یہ ہے کہ پورے خطے میں امن و سلامتی کیلئے ایران اور سعودی عرب میں سے ایک کو زیر یا سر نگوں ہونا پڑے گا، ابھی یہ بھی فیصلہ ہونا ہے کہ عصر حاضر میں اصل طاقت مضبوط عسکریت ہے یا مضبوط معیشت؟

”ڈالر “نہ ہو تو عصا ہے کار بے بنیاد

تازہ ترین