بھارت میں چیف الیکشن کمشنر کے خلاف احتجاج کرنے والے مظاہرین کی گرفتاریوں پر اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی حقوق نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
دفتر کے مطابق بھارت میں بڑے پیمانے پر مظاہرین، سیاسی رہنماؤں، وکلا اور صحافیوں کو گرفتار کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔
اقوام متحدہ کے دفتر نے بھارتی حکام پر زور دیا ہے کہ وہ پُرامن اجتماع کے حق کا مکمل احترام یقینی بنائیں۔
دوسری جانب بھارتی وزارت خارجہ نے اقوام متحدہ کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے اس کے طرزِ عمل کو امتیازی قرار دیا ہے۔
وزارت خارجہ کے مطابق اقوام متحدہ کا بیان بھارت کے اندرونی معاملات میں بلاجواز مداخلت کے مترادف ہے۔
خبر ایجنسی کے مطابق بھارت کے چیف الیکشن کمشنر پر الزام ہے کہ انہوں نے بی جے پی مخالف 13 کروڑ ووٹرز کے نام انتخابی فہرستوں سے خارج کیے۔
دوسری جانب بھارتی پولیس نے گزشتہ روز اپوزیشن رہنماؤں اور نوجوانوں سمیت 2 ہزار سے زائد مظاہرین کو گرفتار کیا تھا۔
خبر ایجنسی کے مطابق نوجوانوں کی جماعت کاکروچ جنتا پارٹی کے رہنما ابھیجیت دپکے اور دیگر افراد کو مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرنے کے بعد رہا کر دیا گیا۔
رہنماؤں کو ایک سال تک امن عامہ کی خلاف ورزی نہ کرنے کی شرط پر رہائی ملی۔
نئی دہلی میں گزشتہ روز تعینات کیے گئے ہزاروں پولیس اور نیم فوجی اہلکار بدستور تعینات ہیں، تاہم بند کیے گئے میٹرو اسٹیشن دوبارہ کھول دیے گئے ہیں اور انٹرنیٹ سروس بھی بحال کر دی گئی ہے۔