بھارت میں چیف الیکشن کمشنر کے خلاف نئی دہلی میں احتجاجی مارچ کی کال دینے والے نوجوانوں کی جماعت کاکروچ جنتا پارٹی کے رہنماؤں کو 24 گھنٹے بعد رہا کر دیا گیا۔
نئی دلی میں انٹرنیٹ سروس بحال کردی گئی جبکہ میٹرو اسٹیشن کھول دیے گئے تاہم پولیس اور پیرا ملٹری فورس کے ہزاروں اہلکار بدستور تعینات ہیں۔
سی جے پی لیگل ٹیم کے مطابق گزشتہ روز حراست میں لیے گئے سی جے پی رہنما ابھیجیت دپکے، سارو داس اور اشوتوش رانکا کو مجسٹریٹ کے سامنے پیشی کے بعد ایک سال تک امن عامہ کی خلاف ورزی نہ کرنے کی شرط پر رہا کیا گیا۔
مظاہرین بھارتی چیف الیکشن کمشنر سے بی جے پی مخالف 13 کروڑ ووٹرز کا نام انتخابی فہرستوں سے نکالنے کے الزام پر استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
اقوام متحدہ انسانی حقوق دفتر نے بھارت سے پُرامن اجتماع کے حق کا احترام کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور بڑے پیمانے پر مظاہرین، رہنماؤں، وکلا اور صحافیوں کی گرفتاریوں کی اطلاعات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔