آبنائے ہرمز کے اطراف بحری جہازوں پر حملوں میں ایک بار پھر اضافہ ہو گیا ہے، جبکہ امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ ختم کرانے کے لیے ثالثی کی کوششیں تعطل کا شکار ہیں۔
ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے ہفتے کی شب دعویٰ کیا کہ ایک نامعلوم سپر ٹینکر نے آبنائے ہرمز میں بحری سرنگ سے ٹکرانے کے بعد آگ پکڑ لی۔
ایرانی بحریہ کے مطابق جہاز بغیر اجازت مقررہ راستے سے ہٹ کر گزر رہا تھا اور اس کا نیوی گیشن نظام بھی بند تھا۔
بیان میں خبردار کیا گیا کہ آبنائے ہرمز کے سیکیورٹی ضوابط نظر انداز کرنے والے دیگر آئل ٹینکرز کو بھی اسی طرح کے نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
امن کے دنوں میں دنیا کی تقریباً پانچویں حصے کی تیل اور گیس کی رسد آبنائے ہرمز سے گزرتی ہے۔
اتوار کو ایرانی فوج کے ایک سینئر عہدیدار نے سرکاری ٹیلی ویژن سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے آغاز کے 7 ماہ سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود ایرانی افواج دفاعی اور جارحانہ کارروائیوں کے لیے تیار ہیں۔
ایرانی فوج کے چیف آف اسٹاف اور مشترکہ رابطہ کار حبیب اللّٰہ سیاری نے کہا ہے کہ ایران دشمن کے بحری جہازوں کو نشانہ بنا چکا ہے اور ایران کے خلاف مزید کوئی کارروائی ہوئی تو دوبارہ حملے کیے جائیں گے۔
برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران آبنائے ہرمز اور خلیج عمان میں بحری جہازوں کے خلاف فوجی کارروائیوں اور انتباہات کے متعدد واقعات پیش آئے۔
ادارے نے بتایا ہے کہ متحدہ عرب امارات کی ریاست راس الخیمہ کے قریب موجود بحری جہازوں کے کپتانوں کو رات کے وقت ریڈیو پیغامات کے ذریعے لنگر انداز مقامات چھوڑنے کی ہدایت کی گئی۔
اتوار کی سہ پہر ادارے نے اطلاع دی کہ آبنائے ہرمز سے باہر نکلنے والے ایک آئل ٹینکر کو نامعلوم پرتابے نے نشانہ بنایا۔
دوسری جانب متحدہ عرب امارات نے بتایا ہے کہ اس کے ساحل کے قریب ایک نامعلوم آئل ٹینکر میں آگ لگنے کے بعد کوسٹ گارڈ نے عملے کے 22 ارکان کو بچا لیا، تاہم آگ لگنے کی وجہ نہیں بتائی گئی۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے اتوار کی صبح ایک ویڈیو جاری کی، جس میں خلیج عمان میں پاناما کے پرچم بردار تجارتی جہاز کے پچھلے حصے پر لڑاکا طیارے سے بمباری کرتے ہوئے دکھایا گیا۔
امریکی حکام کے مطابق اس کارروائی کا مقصد ایران کی جنوبی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی پر عمل درآمد کرتے ہوئے جہاز کی حرکت کرنے کی صلاحیت ختم کرنا تھا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق جولائی کے وسط میں ناکہ بندی دوبارہ نافذ کیے جانے کے بعد امریکی فورسز 4 تجارتی جہازوں کو ناکارہ بنا چکی ہیں، 135 جہازوں کو واپس بھیج چکی ہیں اور ایران سے منسلک 10 آئل ٹینکرز تباہ کر چکی ہیں، واشنگٹن کا دعویٰ ہے کہ ناکہ بندی کے بعد ایران اس کی حدود سے تیل برآمد نہیں کر سکا۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب 5 اکتوبر کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران کم از کم 12 بحری جہاز حملوں کا نشانہ بنے، جو جنگ شروع ہونے کے بعد کسی ایک ہفتے میں حملوں کی سب سے زیادہ تعداد تھی، قطر کے شمالی ساحل کے قریب بھی ایک جہاز کو نشانہ بنایا گیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خطرات آبنائے ہرمز کے فوری اطراف تک محدود نہیں رہے۔
بحری جہازوں پر حملوں کے باعث تیل کی ترسیل میں بھی کمی آئی ہے، امریکی نشریاتی ادارے سی این بی سی کی جانب سے جمعے کو پیش کردہ کیلپر کے اعداد و شمار کے مطابق 7 اکتوبر کو ختم ہونے والے ہفتے میں آبنائے ہرمز سے روزانہ اوسطاً 85 لاکھ بیرل خام تیل گزرا، جو معمول کی سطح سے تقریباً 40 فیصد کم ہے۔
جنگ ختم کرنے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے ایران نے جون میں طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کی بحالی کا مطالبہ کیا ہے، جو اب غیر مؤثر ہو چکی ہے۔
ایران نے واشنگٹن سے ایران اور عمان کے درمیان پہلے سے طے شدہ معاہدے کی حمایت بھی طلب کی ہے، جس کے تحت آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کے لیے عارضی طور پر آمدورفت کے مربوط راستے مقرر کیے گئے ہیں۔
ثالثوں کے ذریعے ایران اور امریکا کے درمیان پیغامات کا تبادلہ جاری ہے، تاہم 3 نومبر کو امریکا میں وسط مدتی انتخابات اور 27 اکتوبر کو اسرائیل میں انتخابات سے قبل آئندہ چند ہفتوں میں کسی بڑی پیش رفت کی توقع نہیں کی جارہی۔