• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

حوثی میزائل سعودی عرب کے فضائی دفاع کو کیسے چکمہ دے رہے ہیں؟

---فائل فوٹو
---فائل فوٹو

یمن کے حوثی باغی بیلسٹک میزائلوں، کروز میزائلوں اور ڈرونز کی مدد سے سعودی عرب کے اندرونی علاقوں کو مسلسل نشانہ بنا رہے ہیں، جس کے باعث جدید فضائی دفاعی نظام کی صلاحیت پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

حوثیوں نے ستمبر میں سعودی عرب کے خلاف نئی فوجی مہم شروع ہونے کے بعد سے ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئر پورٹ کو متعدد مرتبہ نشانہ بنایا ہے۔

سعودی عرب دنیا کی جدید ترین فوجی صلاحیتوں کے حامل ممالک میں شامل ہے اور اس کے پاس مختلف سطحوں پر کام کرنے والے جدید فضائی دفاعی نظام موجود ہیں، اس کے باوجود حوثی میزائل اور ڈرون بعض مواقع پر ان نظاموں کو عبور کرنے میں کامیاب ہو رہے ہیں۔

حوثیوں کا اسلحہ کتنا جدید ہے؟

ریاض ایئر پورٹ پر حملے میں استعمال ہونے والے ہتھیار کی درست نوعیت معلوم نہیں ہو سکی، تاہم 2015ء میں یمن میں سعودی قیادت میں فوجی مداخلت کے بعد سے حوثی سعودی عرب پر سیکڑوں ڈرون اور میزائل حملے کر چکے ہیں۔

حوثی گروپ نے غزہ میں اکتوبر 2023ء میں شروع ہونے والی جنگ کے بعد اسرائیل اور مبینہ طور پر اسرائیل سے منسلک بحری جہازوں کو بھی نشانہ بنایا ہے۔

حوثی فضائی دفاع کو الجھانے کے لیے مختلف رفتار کے ڈرونز اور میزائل بیک وقت استعمال کرتے ہیں، ان ہتھیاروں کو مشترکہ طور پر استعمال کرنے کی حکمتِ عملی نے سعودی دفاعی نظام کے لیے خطرات بڑھا دیے ہیں۔

حوثیوں کے جدید ترین ہتھیاروں میں درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل شامل ہیں۔

 فلسطین 2 میزائل: 2 مراحل پر مشتمل ٹھوس ایندھن والا بیلسٹک میزائل، جس کی ممکنہ رینج 2 ہزار کلو میٹر بتائی جاتی ہے اور جس میں ہائپر سونک صلاحیتیں ہونے کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔

طوفان میزائل: اسے ایرانی قادر میزائل کی تبدیل شدہ شکل سمجھا جاتا ہے، جس کی ممکنہ رینج 1350 سے 1950 کلو میٹر کے درمیان ہے۔

برکان اور بدر میزائل: کم فاصلے تک مار کرنے والے یہ میزائل بھی سعودی عرب کے خلاف سرحد پار حملوں میں استعمال کیے جا چکے ہیں۔

ان میزائلوں کی طویل فاصلے تک مار کرنے کی صلاحیت نے حوثیوں کو یمن سے تقریباً 2 ہزار کلو میٹر دور اسرائیل کے فضائی دفاعی نظام کو بھی عبور کرنے کے قابل بنایا ہے، بعض میزائل کلسٹر وار ہیڈز لے جانے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔

سعودی فضائی دفاع میزائلوں کو روکنے میں کیوں مشکلات کا شکار؟

سعودی حکام کے مطابق گزشتہ ہفتے متعدد میزائلوں اور دیگر حملہ آور ہتھیاروں کو فضا میں تباہ کیا گیا، جن میں جمعرات کو دارالحکومت کی جانب داغے گئے 2 بیلسٹک میزائل بھی شامل تھے، تاہم ہفتے کے روز ریاض ایئر پورٹ کو نشانہ بنانے والے میزائلز کو نہیں روکا جا سکا۔

سعودی ماہرِ دفاع نواف عبید کے مطابق سعودی عرب کے وسیع رقبے اور یمن کے ساتھ طویل سرحد کے باعث فضائی دفاع میں کبھی کبھار دراندازی کا امکان موجود رہتا ہے، متعدد حوثی حملے ناکام بنائے جاتے ہیں، تاہم بعض ہتھیار دفاعی حصار عبور کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔

دفاعی تجزیہ کار وولف گینگ پسٹائی کے مطابق حوثیوں کے حملوں میں اضافے کے بعد سعودی عرب اپنے بعض دفاعی وسائل یمن کی جانب منتقل کر سکتا ہے۔

فضائی دفاعی میزائلوں کی محدود دستیابی بھی ایک اہم مسئلہ ہے، سعودی عرب سمیت امریکا کے کئی اتحادی ممالک پیٹریاٹ اور تھاڈ دفاعی نظاموں کے لیے میزائلوں کے محدود ذخائر سے دو چار رہے ہیں، ایران کے خلاف جنگ کے ابتدائی مہینوں میں امریکا اور اس کے اتحادیوں نے بڑی تعداد میں دفاعی گولہ بارود استعمال کیا۔

گزشتہ ماہ سعودی عرب نے حوثیوں کے حملوں سے بچاؤ کے لیے فضائی دفاعی نظام یا دیگر فوجی معاونت فراہم کرنے کی غرض سے متعدد دوست ممالک سے بھی رابطہ کیا تھا۔

حوثیوں کی فوجی صلاحیتوں کی حدود

حوثی باغیوں کو بھی کئی مشکلات کا سامنا ہے، ان پر اقوامِ متحدہ کی جانب سے اسلحے کی پابندیاں عائد ہیں، سعودی ناکہ بندی کا سامنا ہے اور وہ یمن کے مختلف محاذوں پر لڑائی میں مصروف ہیں۔

نواف عبید کے مطابق فوجی اعتبار سے سعودی قیادت میں قائم اتحاد کو برتری حاصل ہے، لیکن حوثی سعودی عرب پر کبھی کبھار حملے کر کے عالمی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔

دنیا کے بڑے خام تیل کے برآمد کنندگان میں شامل سعودی عرب کی عالمی معیشت میں اہم حیثیت کے باعث ایسے حملوں کے اثرات اور ان کی تشہیر غیر معمولی اہمیت اختیار کر لیتی ہے۔

حوثیوں کے پاس موجود میزائلوں کی درست تعداد معلوم نہیں، اس لیے یہ کہنا مشکل ہے کہ وہ طویل عرصے تک سعودی عرب پر حملوں کا سلسلہ جاری رکھ سکیں گے، خصوصاً جب انہیں زمینی جنگ میں بھی میزائل اور ڈرون استعمال کرنا پڑ رہے ہیں۔

نواف عبید کے مطابق سعودی فضائی کارروائیوں میں حوثیوں کے میزائل ذخائر، زیرِ زمین تنصیبات اور ڈرون تیار کرنے والی فیکٹریوں کو خاص طور پر نشانہ بنایا جا رہا ہے، جس سے گروپ کی فوجی صلاحیتوں کو نقصان پہنچ رہا ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید