یمن کے حوثیوں کے حملوں کے باعث سعودی عرب کو میزائل انٹرسیپٹرز کی قلت کا سامنا ہے۔
امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے سعودی حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ حوثی ملیشیا کے بڑھتے ہوئے حملوں کا مقابلہ کرنے کے لیے سعودی عرب کے پاس فضائی دفاعی میزائل انٹرسیپٹرز کے ذخائر تیزی سے کم ہو رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق سعودی عرب بیرونِ ملک سے مزید فضائی دفاعی نظام حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے، کیونکہ حوثیوں کے حملوں میں سعودی ہوائی اڈوں اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو تیزی سے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
اخبار سے گفتگو کرنے والے معاملے سے باخبر افراد کے مطابق سعودی عرب نے شاہی محلات اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کے تحفظ کے لیے ملک بھر میں فضائی دفاعی بیٹریوں کی تعیناتی میں بھی رد و بدل کیا ہے۔
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق واشنگٹن نے اب تک سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی جانب سے یمن میں حوثیوں کی پیش قدمی روکنے کے لیے فوجی مدد کی درخواستوں پر آمادگی ظاہر نہیں کی، تاہم امریکا نے فوجی مشیر بھیجے ہیں۔