سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے کنگ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر میزائل حملے میں 13 افراد جاں بحق اور 309 زخمی ہو گئے۔
حوثیوں نے اتوار کو ایک بار پھر ہوائی اڈے کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں 1 پاکستانی کے جاں بحق جبکہ مزید افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق سعودی عرب نے حوثیوں کے تازہ حملوں کا بھرپور جواب دینے کا اعلان کیا ہے۔
سعودی حکام کے مطابق ہفتے کے حملے میں 4 سعودی، 2 بنگلا دیشی اور امریکا، مصر، اردن، شام، فلسطین اور سوڈان کا 1، 1 شہری جاں بحق ہوا، حملے کے بعد ہوائی اڈے پر پروازیں معطل، منسوخ یا دوسرے مقامات کی طرف منتقل کر دی گئیں جبکہ ریاض کے تعلیمی اداروں کو 1 ہفتے کے لیے آن لائن تعلیم کی ہدایت دی گئی ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق سعودی اتحاد نے مسافر ٹرمینل سے ایک بیلسٹک میزائل ٹکرانے اور آگ لگنے کی تصدیق کرتے ہوئے حملے کو جنگی جرم قرار دیا ہے، حوثیوں نے حملے کی ذمے داری بھی قبول کر لی۔
غیر ملکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق حوثیوں نے گزشتہ 1 ہفتے کے دوران ریاض، ابہا، جازان اور نجران میں 4 سعودی ہوائی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے۔
سعودی حکام کے مطابق جازان اور نجران کے ہوائی اڈوں پر حملوں میں 3 افراد زخمی ہوئے جبکہ ابہا اور ریاض پر حملوں میں 3 افراد جاں بحق اور 36 زخمی ہوئے۔
حوثیوں نے بحیرۂ احمر کے ساحلی شہر ربیغ میں سعودی تیل کمپنی آرامکو کی آئل ریفائنری کو بھی نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا تاہم سعودی حکام نے اس کی تصدیق نہیں کی۔
حوثیوں نے جولائی میں سعودی عرب کے خلاف سمندری ناکہ بندی کا اعلان بھی کیا تھا۔
دوسری جانب حوثیوں سے وابستہ میڈیا نے یمنی صوبے تعز کے علاقے حیفان اور شمالی صوبے صعدہ میں حملوں کی اطلاع دی ہے جبکہ یمنی حکومتی افواج نے جبل صبر پر حوثیوں کا 1 بغیر پائلٹ طیارہ مار گرانے کی ویڈیو جاری کی ہے۔
سعودی اتحاد کے مطابق الخرج کی جانب داغا گیا ایک بیلسٹک میزائل اور مشرقی صوبے میں 1 بغیر پائلٹ طیارہ تباہ کر دیا گیا۔
یمنی حکومتی افواج کے ترجمان کرنل ماجد عبداللّٰہ النزیلی نے دعویٰ کیا ہے کہ تقریباً 2,000 فوجی کارروائیوں میں 1,150 سے زائد حوثی جنگجو ہلاک، گولہ بارود کے ذخائر، 180 جنگی، نقل و حمل اور رسد کی گاڑیاں تباہ کر دی گئیں۔
عرب میڈیا کا کہنا ہے کہ ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔
سعودی حمایت یافتہ یمنی افواج نے 4 اکتوبر کو حوثیوں کے زیرِ قبضہ علاقوں کا کنٹرول واپس لینے کے لیے ’فجرِ یمن‘ کارروائی شروع کی تھی۔
یمنی حکومتی افواج نے بندرگاہی شہر المخا اور آبنائے باب المندب کے قریب ضلع ذباب پر دوبارہ قبضے کا دعویٰ کیا تھا جسے حوثیوں نے مسترد کر دیا جبکہ تعز کا محاصرہ مزید سخت ہو گیا ہے اور مأرب اور الجوف میں بھی لڑائی پھیل گئی ہے۔
عرب میڈیا کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کی حوثیوں کے خلاف کارروائیوں میں امریکی فوجی شرکت کے امکان کو مسترد نہیں کیا اور کہا ہے کہ اس معاملے کا جائزہ لیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے گفتگو کا ارادہ بھی ظاہر کیا ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق واشنگٹن سعودی حمایت یافتہ کارروائیوں میں انٹیلیجنس معلومات، اہداف کی نشاندہی اور منصوبہ بندی میں مدد دے رہا ہے۔
امریکا نے 2015ء میں سعودی اتحاد کو انٹیلی جنس، رسد اور ہتھیار فراہم کیے تھے تاہم اس کے فضائی حملوں میں براہِ راست حصہ نہیں لیا تھا۔
2021ء میں بھی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ نے یمن میں انسانی بحران کے باعث سعودی قیادت میں جارحانہ کارروائیوں کی حمایت ختم کر دی تھی، اس وقت تک یمن میں 100,000 سے زائد افراد ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہو چکے تھے۔
رپورٹس میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ یمن میں جنگ بندی کے خاتمے کے بعد حوثیوں اور سعودی حمایت یافتہ حکومتی افواج کی لڑائی شدت اختیار کر گئی ہے، مسلسل حملوں اور امریکی فوجی مداخلت کے امکان نے علاقائی تصادم اور بین الاقوامی بحری تجارت کے متاثر ہونے کے خدشات بڑھا دیے ہیں۔