• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

میں یہ کالم مراکو سے تحریر کررہا ہوں۔ میرا حالیہ دورہ مراکو اس لحاظ سے خصوصی اہمیت کا حامل ہے کہ اس دورے میںمجھے دنیا کی پہلی اور قدیم ترین القرویین یونیورسٹی کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ مسلمانوں کو اس بات پر فخر ہونا چاہئے کہ دنیا کی پہلی اور قدیم یونیورسٹی آکسفورڈ، ہاورڈ اور Yale نہیں بلکہ مراکو کے شہر فاس میں قائم ’’القرویین یونیورسٹی‘‘ ہے جسکی بنیاد 859ء میں تقریباً 1200سال قبل رکھی گئی۔ گینز بک آف ورلڈ ریکارڈ اور یونیسکو کے مطابق القرویین یونیورسٹی تعلیمی ڈگری جاری کرنیوالا دنیا کا پہلا ایجوکیشنل انسٹیٹیوٹ اور دنیا کا قدیم ترین تعلیمی ادارہ ہے جو اپنے قیام سے لے کر آج تک مسلسل تعلیمی خدمات انجام دے رہا ہے۔

القرویین یونیورسٹی کے قیام کی کہانی بھی بڑی دلچسپ ہے۔ یہ یونیورسٹی فاطمہ الفہری اور اُن کی بہن مریم الفہری نے قائم کی جو اس وقت کے بہت بڑے اور امیر تاجر محمد الفہری کی بیٹیاں تھیں۔ والد کی وفات کے بعد جب انہیں بڑی جائیداد ورثے میں ملی تو انہوں نے اس دولت کو دنیاوی مقاصد کیلئے استعمال کرنے کے بجائے مسجد اور اس سے ملحق مدرسہ قائم کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس دور میں فاس علم کا مرکز جانا جاتا تھا اور الفہری فیملی نے تیونس کے شہر قرویین سے فاس ہجرت کی تھی، اسی لئے مسجد اور مدرسے کا نام ’’القرویین‘‘ رکھا گیا۔

ابتدا میںیہ مدرسہ مذہبی تعلیم اور حفظ قرآن کیلئے مختص تھا تاہم بعد میں عربک گرامر، میوزک، صوفی ازم، میڈیسن اور ستاروں کی سائنس جیسے مضامین کا اضافہ کیا گیا۔ 1947ء میں یونیورسٹی کو اسٹیٹ ایجوکیشن میں ضم کردیا گیا، 1957ء میں دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ دنیاوی تعلیم فزکس، کیمسٹری اور غیر ملکی زبانوں کے مضامین بھی شامل کئے گئے اور 1965ء میں اسٹیٹ یونیورسٹی سسٹم کا حصہ بننےکے بعد اسے ’’یونیورسٹی آف القرویین‘‘ کا نام دیا گیا۔ یونیورسٹی میں اسلامی فقہ، اسلامی تاریخ، قانونی تعلیم، مالکی (Maliki) قانون کے ساتھ ساتھ کلاسیکل عربک، انگلش اور فرنچ لینگویج کی تعلیم بھی دی جاتی ہے۔ اس یونیورسٹی نے بڑے نامی گرامی علماء، فلاسفر اور سائنسدان پیدا کئے ہیں جن میں ابن خلدون، ابن رشد، ال ادریسی اور ابو عمران الفاسی قابل ذکر ہیں۔ مسلمانوں کے علاوہ پوپ Sylvester II اور دیگر غیر مسلم اسکالرز نے بھی یہاں تعلیم حاصل کی۔

القرویین یونیورسٹی میں تعلیم دینے کا طریقہ بھی بڑا روایتی ہے جہاں استاد جسے شیخ کہا جاتا ہے، کے گرد طالبعلموں کو دائرے میں بٹھاکر تعلیم دی جاتی ہے۔ جامعہ القرویین میں طلباء و طالبات کی بڑی تعداد زیر تعلیم ہے جن میں مختلف ممالک کے طالبعلم بھی شامل ہیں۔ یونیورسٹی انتظامیہ نے مجھے بتایا کہ یہ تاثر غلط ہے کہ القرویین میں صرف طلباتعلیم حاصل کرتے ہیں بلکہ یہاں طالبات کی بھی بڑی تعداد زیر تعلیم ہے۔

یونیورسٹی میں 1000سے زائد اساتذہ اور 8000طلبا و طالبات تعلیم حاصل کررہے ہیں جس میں بیرون ملک سے تعلق رکھنے والے طلباء و طالبات بھی شامل ہیں جن کیلئے الگ الگ ہاسٹل کی سہولت بھی ہے۔ یونیورسٹی انتظامیہ کا کہنا تھا کہ انہیں نہایت خوشی ہوگی کہ اگر پاکستانی طلباو طالبات بھی القرویین یونیورسٹی آکر تعلیم حاصل کریں۔ مجھ پر یہ حقیقت بھی پہلی بار آشکار ہوئی کہ گریجویشن تقریب میں گریجویشن کرنے والے طالبعلموں کے روایتی گاؤن پہننے کا رواج بھی اسی یونیورسٹی سے ہوا جس میں عربی لباس جلاوا اور سر پر اوڑھنے والا عربی کیپ شامل ہے اور اب یورپ سمیت دنیا کے کئی ممالک میں ڈگری حاصل کرنے والے طلباو طالبات یہی گاؤن زیب تن کرتے ہیں۔ یونیورسٹی کے دورے کے دوران میں نے مراکو کے معروف صوفی بزرگ اور مشہور کتاب ’’دلائل الخیرات‘‘ کے مصنف محمد بن سلیمان الجزولیؒ جن کے پاکستان میں بھی بڑی تعداد میں عقیدت مند ہیں، کا وہ حجرہ دیکھا جہاں بیٹھ کر انہوں نے اپنی کتاب ’’دلائل الخیرات‘‘ تحریر کی تھی۔

اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ القرویین یونیورسٹی کو اسلامی دنیا کی قدیم اور تاریخی یونیورسٹی کا درجہ حاصل ہے جس کے بعد مصر کی مشہور الاظہر یونیورسٹی 975ء میں قائم کی گئی۔ القرویین یونیورسٹی کی کامیابی کے 200 سال بعد یورپ میں آکسفورڈ یونیورسٹی، 300 سال بعد یورپ میں ہی کیمبرج یونیورسٹی جبکہ 800 سال بعد ہاورڈ یونیورسٹی کا قیام عمل میں آیا۔ القرویین یونیورسٹی کے دورے کے اختتام پر یونیورسٹی انتظامیہ نے مجھے خصوصی شیلڈ پیش کی جس پر یونیورسٹی کا عکس کنندہ ہے جو میرے لئے ایک اعزاز کی بات ہے۔ یونیورسٹی کے دورے سے رباط واپسی پر میں سوچ رہا تھا کہ مسلمانوں کو یہ شرف حاصل ہے کہ دنیا کی سب سے پہلی یونیورسٹی ایک اسلامی ملک میں مسلم خواتین نے تعمیر کی جس کیلئے انہوں نے اپنی دولت وقف کردی اور علم کے حصول کیلئے ان کی صدیوں پرانی یہ روایت آج بھی قائم ہے۔ فاطمہ الفہری اور مریم الفہری نے یہ ثابت کیا کہ عظمت دولت جمع کرنے میں نہیں بلکہ اسے کسی ایسے مصرف میں لگانے میں ہے جس کے فائدے انسان کے دنیا سے چلے جانے کے بعد بھی جاری و ساری رہیں۔

تازہ ترین