• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

درویش نے اپنے گھر والوں کو کہا کہ کتنا اچھا ہوتا اگر ہم سعودی ایئرلائن سے یورپ آتے اور واپسی پر عمرہ بھی کرتے، اب سعودی عرب اوریمنی حوثیوں کی جنگ میں حالات خراب تر ہوتے جا رہے ہیں تو شنید ہے کہ اگر سعودی ایئرلائن لی ہوتی تو نومبر تک واپسی میںخلل پڑ سکتا تھا۔ اب تو سعودی ایئرپورٹس اور جہازوں پر بھی حملے ہونے لگے ہیں جو واقعی افسوسناک صورتحال ہے۔ اس ناچیز کو اگرچہ ایسی صورتحال کے خدشات 1979 ءسے ہیں، جب شاہ کا تخت الٹ کر انقلاب کے فوری بعدامام خمینی نے فرمایا تھا کہ ہم اپنے اس اسلامی انقلاب کو دیگر مسلم ممالک میں برآمد کریں گے، اسی دن درویش کا دھیان سعودی عرب کی طرف گیاتھا، حالانکہ سعودی قیادت کی ہدایت پر امام کعبہ بنفس نفیس تہنیت کیلئے تہران گئے تھے مگر ایرانی میڈیا کاسعودیہ کے متعلق رویہ درست نہ تھا۔ امام کے متذکرہ بیان پر،اسلام کے ابتدائی دور کی وہ تصویر آنکھوں کے سامنے آئی تھی جب مولا علی ؓ اور مابعد حضرت امام حسین ؓ کو مکہ و مدینہ جیسے مقدس مقامات سے کوچ کرتے ہوئے کوفہ کا رخ کرنا پڑا لیکن دل میں تو یقینی طور پر یہ حسرت تھی کہ کاش ایسے نہ ہوتا۔ مولا علیؓکیلئے رسول اللہ ﷺجبکہ امام حسینؓ کیلئے اپنے نانا کے ہر دو مقدس شہروں کو چھوڑنا کتنا مشکل تھا۔ تصور کیا جا سکتا ہے کہ انہیں کس دکھ کے ساتھ اپنی یہ مقدس سرزمین چھوڑ کر سوے کوفہ جانا پڑا۔ درویش کو ظہور اسلام کے ابتدائی دور کا وہ منظر نامہ بھی نہیں بھولتا، جب سیدنا عبداللہ ابن عباسؓ ، حسین ابن علیؓ کو مدینہ چھوڑنے اور کوفہ جانے سے روکنے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگارہے تھے۔ سیدنا عبداللہ ابن عباسؓ جو اس وقت بنو ہاشم کے سب سے زیرک، منجھے ہوئے، جہاندیدہ سردار تھے، ان کی اہمیت کا ادراک اس وقت کی قبائلی پہچان سے کیا جا سکتا ہے،تینوں ہستیوں کاہمارے آقا ﷺکے دین میں مرتبہ و مقام اور باہمی الفت و احترام تاریخی طور پر واضح ہے۔ سیدنا ابن عباس ؓنے طویل عمر پائی، اپنے دونوں اول الذکر کزنوں کیساتھ وفاداری و مودت کا پورا حق ادا فرمایا۔ خود آقا ﷺنے انہیں ترجمان القرآن کا لقب دیا۔ بہرحال یہ عظیم مدبر ہاشمی سردار عبداللہ بن عباس ؓاپنے بھتیجے حسین بن علیؓکاقصدجاننے کے بعد سخت مضطرب و پریشان ہوئے،انہیںسمجھانے بجھانے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی، یہاں تک کہہ دیا کہ کوفہ والے آپ کیساتھ وہی بے وفائی کرینگے جو آپ کےوالد اور بڑے بھائی کے ساتھ کر چکے ہیں۔ اگر آپ پھر بھی جانا چاہتے ہیںتو کم از کم اپنے گھر کی خواتین کو ساتھ لے کر نہ جائیں، میری آنکھیں دیکھ رہی ہیں کہ آپ عثمان ابن عفانؓ کی طرح اپنے گھر والوں کے سامنے شہید کر دیے جائیں گےلیکن میں جانتا ہوں کہ آپ اپنے ارادوں کے پکے ہیں، اسلئے میرے بھتیجے، میری درخواست ہے، آپ نے اگر خروج کا پختہ ارادہ باندھ ہی لیا ہے تو بھی کوفہ (عراق) کی طرف ہرگز نہ جائیں۔ آپ اپنے ساتھیوں کو لے کر یمن کی طرف نکل جائیں، وہ کوفہ کی نسبت محفوظ علاقہ ہے۔امام حسین ابن علیؓ سے سیدنا ابن عباس ؓکی گفتگو کا یہ منظر نامہ کس قدر دلگداز ، اوردردمندی سے لبریزہے۔

عرض مدعا یہ ہے کہ بنو ہاشم، مولا علیؓ اور شیعان علی کی یہ دیرینہ آرزو وحسرت تھی کہ بشمول مکہ و مدینہ حجاز مقدس پر ان کا اسی طرح کنٹرول ہو جس طرح اصحاب ثلاثہ کا رہا لیکن افسوس تاریخی طور پر یہ حسرت کبھی پوری نہ ہو سکی، فاطمی دورمیں بھی محض نام کے خطبے پر ہی اکتفا کرنا پڑالیکن جب امام خمینی یہ فرما رہے تھے کہ ہم اپنے اس اسلامی انقلاب کو دیگر ہمسایہ عرب ممالک میں برآمد کریں گے تو درویش اس کی معنویت کو پوری طرح سمجھ رہا تھا۔ اس لیے انہی دنوں اس کی اپنے دادا حضور کے ساتھ بھری پنچایت میں جو بحث ہوئی، وہ کچھ اسی نوعیت کی تھی۔ ان دنوں یہ ناچیز اسلامی انقلاب کے نشےیا جذبے سے سرشار، یہ تک بولے جا رہا تھا کہ سعودیوں کا عقیدت سے محرومِ اسلام کوئی ویلیو نہیں رکھتا اس ایرانی انقلابی اسلامی عظمت کے سامنے۔ زندہ و متحرک اسلام کی عظمت و نشاۃ ثانیہ کیلئے اگر ایرانی اسلامی انقلاب کی حمایت میں سعودی عرب سے لڑنابھی پڑا تو امام خمینی کی قیادت میں ہم اس کیلئے بھی تیار ہیں۔ دادا حضور فرما رہے تھے بیٹا ایسی باتیں نہیں کرتے، ہم تو حرمین شریفین کے تقدس کے باعث سعودی عرب کی طرف پاؤں پسارکر سونا یا بیٹھنا بھی گناہ خیال کرتے ہیں۔ تم اس پر حملے کی بات کر رہے ہو، ہم تو تھوکنے یا قضائے حاجت کیلئےبھی ادھر منہ کر کے بیٹھنا بھی گناہ سمجھتے ہیں اور یہ احترام ہمارے ایمان کا لازمی جزو ہے۔ کاش میرےدادا آج کا یہ منظر نامہ دیکھ پاتے کہ حوثی باغی کس جسارت سے سرزمین مکہ و مدینہ کی طرف میزائل اور بارودی ڈرون پھینک رہے ہیں۔

دھائیوں قبل جو خدشات سوچوں یا لفظوں میں تھے آج وہ بالفعل آنکھوں کے سامنےہیں،ایسے میں کے پی کارروائی کے علی الرغم حکومتِ پاکستان کو شاباش دینا بنتا ہے جس نے صرف پاسدارانِ حرمین ہونے کا اعلان ہی نہیں کیا بلکہ اپنے مسلح دستوں کو حفاظتِ حرمین پر مامور کر دیا ہے۔ ٹرمپ نے اپنی ایک ہزار حماقتوں کے بیچ سعودیہ کو دو مرتبہ انکار کرتے ہوئے جو تلخ صورتحال پیدا کی اس میں بھلائی کی ایک بہتر بات یہ ہوئی ہے کہ ہم اپنی معاملات خود حل کریں۔ سعودیوں کی حفاظت کیلئے مکہ معاہدے کے تحت پاک ترک دستے آگے کھڑے ہوں، اللہ محمد بن سلمان کا حامی و ناصر ہو کہ وہ سخت گیر ی کے بالمقابل، ہیومینٹی اور انسان نوازی کی سافٹ، لبرل مذہبی آواز بن کر ابھرےہیں۔

تازہ ترین