سعودی عرب کے شہر ریاض کے ہوائی اڈے پر حالیہ حملوں کی خبروں نےہر محبِ وطن پاکستانی کو شدید دُکھ، اضطراب اور تشویش میں مبتلا کردیا ہے، حوثی باغیوں کےتباہ کُن حملوں کے باعث پاکستانی شہری سمیت متعدد افراد کے زخمی اور جاں بحق ہونے کی اطلاعات ہیں، ریاض ایئرپورٹ کی بندش سےعلاقائی و بین الاقوامی پروازوں کےفضائی آپریشن درہم برہم ہیں۔ یہ آج سے لگ بھگ بارہ سال قبل کی بات ہے جب مشرق وسطیٰ کے سب سے اہم ہمارے برادر دوست ملک سعودی عرب کے سر پرحوثی باغیوں کا خطرہ منڈلانے لگا تھا، سعودی عرب نے علاقائی سلامتی کو لاحق شدید خطرات کو بھانپتے ہوئےاپنے قریبی دوست پاکستان سے عسکری تعاون کی درخواست کی تھی، جب اپریل 2015ء میں افواجِ پاکستان کو سعودی عرب بھیجنے کا حساس معاملہ ہماری پارلیمنٹ میں زیربحث آیا تو میں نے بطور سینیئر پارلیمنٹرین پارلیمان کے ایوان میں موقف اختیار کیا تھا کہ پاکستان اور سعودی عرب کا رشتہ محض دو ممالک کے مابین سفارتی تعلقات یا معاشی تعاون کا نام نہیں بلکہ یہ اعتماد، اخوت، احترام اور آزمائش کی گھڑی میں ایک دوسرے کیساتھ کھڑے ہونے کی سنہری روایت سے عبارت ہے،پاکستان پر جب کبھی کڑا وقت آیا، ہمارے شانہ بشانہ سعودی عرب ضرور کھڑا ہوا،اب ہمیں سعودی عرب کی پُکار پر لبیک کہنا چاہیے۔ اس حوالے سے اپریل 2015ء کو اخبارات میں شائع ہونیوالے میرے بیانات آج بھی گواہ ہیں کہ میں نے فوری طور پر بہادر افواجِ پاکستان کو سعودی عرب کی مقدس سرزمین کے دفاع کیلئے روانہ کرنے کا مطالبہ کیا تھا ، میرا اصولی موقف تھا کہ سعودی حکومت کی درخواست پر سعودی سرزمین کے اندر دفاعی مقاصد کیلئے پاکستانی فوج کی موجودگی کو ہرگزکسی دوسرے ملک کے داخلی معاملات میں مداخلت نہیں سمجھنا چاہیے، میں نے مزید کہا تھا کہ ہمارا بروقت دفاعی تعاون پاکستان اور سعودی عرب کے دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے اورحوثیوں کی جانب سے یمن میں پیداکردہ سیاسی بحران کے خاتمہ اورامن مذاکرات کیلئے سازگار ماحول کیلئے بھی اشد ضروری ہے۔ میرے مطالبے کو عالمی سطح پر بھی پذیرائی حاصل ہوئی تھی اور سوشل میڈیا پر "پاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سے" جیسے القابات سے نوازا گیا تھا، تاہم10 اپریل 2015ء کو پارلیمان نے متفقہ قرارداد منظورکرتے ہوئے پاکستان کو یمن کے تنازعے میں غیر جانب دار رہنے کا فیصلہ کیا تھا۔آج ایک دہائی سے زائد کا عرصہ بیت جانے کے بعد مشرق وسطیٰ میں حوثی باغیوں کے حوصلے اتنے بلند ہوچکے ہیں کہ اب وہ اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کیلئے نہ صرف مقدس مقامات کو براہ راست نشانہ بنارہے ہیں بلکہ انکے ہولناک حملوں کی زد میں پاکستانی شہری بھی آ چکے ہیں،مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے ماحول نے ایسےسوالات کو بھی جنم دیا ہے کہ آیا سعودی عرب کے فوری سیکیورٹی اور اقتصادی مفادات، ایران کے حوالے سے واشنگٹن کے جنگی مقاصد اور مشرقِ وسطیٰ کی تشکیل نو کے سلسلے میں اسرائیل کے اہداف سے متصادم تو نہیں ہیں؟ مغربی میڈیا امریکی صدر ٹرمپ کے بیان کے تناظر میں یہ اعتراف بھی کررہا ہے کہ یمن کے حوثی گزشتہ بارہ سالہ لڑائی کے دوران مزید طاقتور اور مضبوط ہو کر اُبھرے ہیں، حوثی حملوں کا خطرہ اس وقت تک ٹلنے کا امکان نہیں جب تک کہ امریکہ کی قیادت میں لڑی جانے والی جنگ ختم نہ ہو جائے۔ میری نظر میں حوثیوں کے آگ بگولا ہونے کی جو بھی وجوہات ہوں،انکی حالیہ غیرذمہ دارانہ کارروائیوں نے مشرق وسطیٰ کی پیچیدہ صورتحال کو مزید گھمبیر بنادیا ہے، سعودی عرب کی مقدس سرزمین پر بیگناہ شہریوں کی جانوں کو نشانہ بنانا، شہری تنصیبات کو خطرے میں ڈالنا اور مذہبی رسومات کی ادائیگی کیلئے وہاں جانے والے زائرین میں خوف و ہراس پیدا کرنا کسی صورت قابلِ قبول نہیں ،یہ اب محض سعودی عرب کاداخلی مسئلہ نہیں رہا بلکہ پاکستان سمیت اُن تمام ممالک کو اضطراب میں مبتلا کررہا ہے جن کیلئے رحمت العالمین ﷺ سے منسوب مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ جیسے مقدس مقامات غیر معمولی روحانی اہمیت رکھتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ ارضِ حرمین شریفین کا تحفظ صرف سعودی عرب کا نہیں بلکہ پوری پاکستانی قوم کیلئے ایک جذباتی اور اخلاقی اہمیت کا حامل معاملہ بن چکا ہے، میری نظر میں مقدس مقامات اور وہاں حج، عمرے کیلئے آنے والے زائرین کی سلامتی یقینی بنانا ایک ایسی اخلاقی ذمہ داری ہے جسے کسی بھی صورت نظرانداز نہیں کیا جا سکتا ۔میں آج بھی اپنے 2015ء کےبیان پر قائم ہوں کہ سعودی حکومت کی درخواست پر پاکستانی فوج کی سعودی عرب کی جغرافیائی حدود کے اندر دفاعی مقاصد کیلئے موجودگی کو کسی دوسرے ملک کے داخلی معاملات میں مداخلت قرار نہیں دینا چاہیے، میرا موقف اس حقیقت کی بھی عکاسی کرتا ہے کہ دھرتی ماتا پاکستان سے وفاداری اور پاکستان کے قریبی دوست ملک سعودی عرب کے ساتھ مشکل کی گھڑی میں اظہارِیکجہتی کسی ایک مخصوص برادری تک محدود نہیں، ہمیں اپنے قومی مفادات، انسانی ہمدردی اور بین الاقوامی تعاون کے معاملات میں مذہبی شناخت سے بالاتر ہو کر آواز بلند کرنی چاہیے۔ ہم نے گیارہ سال قبل سعودی عرب کی پکارپر لبیک نہیں کہا تھا جسکا نتیجہ یہ سامنے آیاکہ حوثی سعودی عرب میں ریڈلائن کراس کرکے وہاں واقع مقدس مقامات کو نشانہ بنانے کی جسارت کررہے ہیں اور اُنکےجارحانہ اقدامات کے نتیجے میں پاکستانی شہری بھی متاثرین کی فہرست میں شامل ہیں۔ آج جب سعودی عرب سے موصول ہونے والی خبروں نے پورے ملک میں تشویش کی نئی لہر دوڑا دی ہے تو میں یہ بھی یاد دلانا چاہتا ہوں کہ اپریل 2015ء کی پارلیمانی قرارداد میں سعودی عرب کی غیر مبہم حمایت کرتے ہوئے واضح کیا گیا تھاکہ اگر سعودی عرب کی علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی ہوئی یا حرمین شریفین کو خطرہ لاحق ہوا تو پاکستان سعودی عرب اور اسکے عوام کے شانہ بشانہ کھڑا ہوگا۔ آج جنگجو حوثیوں کے نرغے میں گھِرا سعودی عرب اپنے آپ کو تنہا نہ سمجھے، پاکستان میں بسنے والا ہر شہری اقلیت اور اکثریت کی تفریق سے بالاتر ہوکرسعودی عرب کی سلامتی کیلئے دعاگوہے اور حکومتِ پاکستان کے ہر ایسے اقدام کی پُرزور حمایت کرتا ہے جو مقدس مقامات، بیگناہ شہریوں اور خطے کا مستقبل کو محفوظ بنائے۔