امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا ہے کہ 3 نومبر کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل ایران پر حملہ نہیں کریں گے، جبکہ ستمبر میں ریپبلکن کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ تنازع انتخابات کے فوراً بعد ختم ہو جائے گا۔
ادھر آبنائے ہرمز میں ایرانی حملوں میں اضافہ ہوا ہے، جو جنگ شروع ہونے کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گئے ہیں۔
ایک ایرانی عہدیدار نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا ہے کہ تہران نے ان بحری جہازوں کے خلاف حملوں کے لیے نئی حکمتِ عملی اختیار کر لی ہے جنہیں وہ اپنی پابندیوں کی خلاف ورزی کرنے والا سمجھتا ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق آبنائے ہرمز پر کنٹرول امریکا اور ایران کے درمیان تنازع کا مرکزی نکتہ بن چکا ہے، ایسے میں سوال یہ ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاس فوجی کارروائی کے کون سے راستے باقی ہیں اور ان کی کیا قیمت چکانا پڑ سکتی ہے؟
ٹرمپ کے پاس فوجی کارروائی کے کیا آپشنز ہیں؟
یونیورسٹی آف باتھ کے ماہر اور سابق نیٹو تجزیہ کار پیٹرک بیوری کے مطابق ایران کی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی جاری رکھنا اور آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کو امریکی بحریہ کی حفاظت فراہم کرنا ٹرمپ کے لیے سب سے زیادہ ممکنہ راستہ ہے۔
جنگ سے قبل آبنائے ہرمز سے روزانہ اوسطاً 125 بڑے تجارتی جہاز گزرتے تھے، جو تقریباً 1 کروڑ 71 لاکھ بیرل تیل لے جاتے تھے، مارچ میں آبنائے بند ہونے کے بعد یہ آمد و رفت شدید متاثر ہوئی۔
بحری جہازوں کی نگرانی کرنے والے ادارے کلیپر کے مطابق امریکی بحریہ کی مدد سے ستمبر میں آبنائے ہرمز سے خلیجی تیل کی ترسیل، ایرانی تیل کو نکال کر، جنگ سے پہلے کی سطح کے 81 فیصد سے زیادہ تک بحال ہوگئی تھی تاہم، ایرانی حملوں میں اضافے کے بعد یہ سلسلہ دوبارہ متاثر ہوا۔
11 اکتوبر کو اس آبی گزرگاہ سے صرف 29 لاکھ بیرل تیل منتقل ہوا، جو اکتوبر کے دوران اب تک کی کم ترین سطح تھی۔
ماہرین کے مطابق امریکا ڈرونز اور نگرانی کے نظام کے ذریعے جہازوں کو تحفظ فراہم کرنے کی کوشش کر رہا ہے، تاہم ایران کی جغرافیائی برتری اور نسبتاً کم لاگت والے حملے امریکی حکمت عملی کے لیے مشکلات پیدا کر رہے ہیں۔
برطانوی بحری تجارتی آپریشنز مرکز کے مطابق 6 سے 14 اکتوبر کے دوران بحری جہازوں پر 15 حملے ریکارڈ کیے گئے۔
ٹرمپ کے پاس ایران پر فضائی حملے اور میزائل کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے کا آپشن بھی موجود ہے، انہوں نے انتخابات کے بعد بمباری میں اضافے کے امکان کا ذکر کیا ہے، تاہم اس حوالے سے تفصیلات نہیں بتائیں۔
ماہرین کے مطابق نئی کارروائی کی صورت میں ایران کے ساحلی علاقوں اور اندرونِ ملک مخصوص اہداف کو محدود پیمانے پر نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
ایران نے اپنی حکمتِ عملی تبدیل کر لی ہے اور اپنے باقی ماندہ ہتھیاروں کو زیادہ بہتر انداز میں چھپانے کی صلاحیت حاصل کر لی ہے، جس سے نئے حملوں کے نتائج محدود ہو سکتے ہیں۔
اس کارروائی کی مالی اور فوجی قیمت بھی زیادہ ہو گی، ایران کے نسبتاً سستے ڈرونز اور میزائلوں کو روکنے کے لیے امریکا کو بعض اوقات ایسے دفاعی میزائل استعمال کرنا پڑتے ہیں جن میں سے ہر ایک کی قیمت 10 لاکھ ڈالرز یا اس سے زیادہ ہو سکتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکا جنگ کے دوران ایران پر 1 ہزار سے زیادہ ٹوماہاک کروز میزائل بھی داغ چکا ہے، سینٹر فار اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز کے اندازوں کے مطابق جنگ سے پہلے کے ذخیرے کو مکمل طور پر بحال کرنے میں 2030ء کے اختتام تک کا وقت لگ سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اہم فوجی گولہ بارود کے ذخائر کو سابقہ سطح پر لانے میں 3 سے 4 سال لگ سکتے ہیں۔
ایران نے بھی جوابی کارروائیوں میں شدت لانے کی دھمکی دی ہے، ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے گزشتہ ماہ کہا تھا کہ اب مناسب جوابی کارروائیوں کا دور ختم ہو چکا۔
ماہرین کے مطابق نئی امریکی کارروائیوں کے نتیجے میں واشنگٹن کو خلیجی ممالک میں بعض فوجی اڈوں تک رسائی سے بھی محروم ہونا پڑ سکتا ہے۔
ماہرین کے نزدیک امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف محدود زمینی کارروائی کا امکان بھی بہت کم ہے۔
ایسا ایک ممکنہ ہدف جزیرہ خارگ ہو سکتا ہے، جو ایرانی ساحل سے 26 کلو میٹر دور واقع ہے اور ایران کی تقریباً 90 فیصد تیل کی برآمدات اسی جزیرے کے ذریعے ہوتی ہیں۔
سابق امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ جوزف ووٹل کے مطابق جزیرے پر قبضے کے لیے 800 سے 1 ہزار فوجی کافی ہو سکتے ہیں، تاہم انہیں ایرانی سر زمین سے ہونے والے حملوں کا شدید خطرہ لاحق ہو گا۔
برطانیہ کی لافبرو یونیورسٹی کے ماہرِ بین الاقوامی تعلقات اور سیکیورٹی افضل اشرف کے مطابق امریکی افواج ایرانی دفاعی نظام کو متاثر کرنے کے لیے الیکٹرانک جنگی کارروائیوں کے بعد محدود زمینی حملہ کر سکتی ہیں، لیکن اس کے نتیجے میں ایران جزیرے پر موجود امریکی فوجیوں کو نشانہ بنا سکتا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا ہے کہ ایران جواباً خلیجی ممالک کے تیل کے بنیادی ڈھانچے پر بھی حملے کر سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق جزیرہ خارگ پر قبضہ کرنا انتہائی خطرناک فیصلہ ہو گا، کیونکہ اس سے امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں اور علاقائی کشیدگی میں اضافے کا خدشہ ہے۔
ماہرین نے ایران پر مکمل امریکی زمینی حملے کے امکان کو بھی انتہائی کم قرار دیا ہے۔
ٹرمپ بڑے پیمانے پر زمینی کارروائی کے امکان کو بڑی حد تک مسترد کر چکے ہیں، جبکہ امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے مارچ میں کہا تھا کہ انتظامیہ کے اہداف حاصل کرنے کے لیے زمینی فوج بھیجنے کی ضرورت نہیں ہو گی۔
ماہر پیٹرک بیوری کے مطابق امریکا کے لیے ایسی کارروائی کرنا ناصرف مشکل بلکہ عملی طور پر بھی غیر حقیقت پسندانہ دکھائی دیتا ہے۔
انتخابات سے پہلے فوجی کارروائی کیوں اہم ہے؟
ایران کے ساتھ جنگ امریکی عوام میں غیر مقبول ہے اور ٹرمپ کو چند ہفتوں بعد وسط مدتی انتخابات کا سامنا ہے۔
پیو ریسرچ سینٹر کے مطابق تقریباً 65 فیصد امریکی شہری اس جنگ سے نمٹنے کے ٹرمپ کے طریقۂ کار سے ناخوش ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکا کے لیے ایک بڑا سوال اپنی فوجی صلاحیت اور ہتھیاروں کے ذخائر کو دوبارہ مضبوط بنانا ہے، اس عمل میں کئی سال لگ سکتے ہیں اور یہ کام ٹرمپ کی صدارتی مدت سے بھی آگے جاری رہ سکتا ہے، جنگ جتنی طویل ہو گی، خطے میں سیاسی عدم استحکام اور بدامنی کا خطرہ اتنا ہی بڑھتا جائے گا۔