تاریخ کبھی کبھی اپنے دونوں ہاتھ دو مختلف ملکوں کے دروازوں پر رکھ دیتی ہے اور دنیا حیرت سے دیکھتی رہ جاتی ہے کہ وہ کس گھر میں داخل ہونا چاہتی ہے۔ ایک ہاتھ کابل کے دروازے پر تھا، دوسرا اسلام آباد کی دہلیز پر۔ افغانستان میں روس کے خارجہ انٹلیجنس کے سربراہ سرگئی نیرشکن کی آمد اور اسی دوران پاکستان میں روسی وزیر داخلہ ولادیمیر کولوکولتسیف کا چار روزہ سرکاری دورہ محض دو سفارتی واقعات نہیں، بلکہ ایشیا کے سیاسی آسمان پر ایک ساتھ روشن ہونے والے دو ایسے چراغ ہیں جن کی روشنی میں کئی پرانے سائے اپنی شکلیں بدلتے دکھائی دیتے ہیں۔ پاکستانی وزارت داخلہ کے مطابق یہ کسی روسی وزیر داخلہ کا پاکستان کا پہلا دورہ تھا۔ تاریخ کی کتاب میں بعض اوقات پہلا قدم اتنا آہستہ رکھا جاتا ہے کہ اس کی آواز سنائی نہیں دیتی، لیکن آنے والی صدیاں اسی قدم کے نشان تلاش کرتی رہتی ہیں۔ ماسکو نے ایک ہی وقت میں کابل اور اسلام آباد کی طرف ہاتھ بڑھایا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ ان ہاتھوں میں کیا ہے، سوال یہ ہے کہ ان کے پیچھے روس کی کون سی نئی خواہش سانس لے رہی ہے۔
افغانستان وہ سرزمین ہے جہاں کبھی سوویت فوجیں تاریخ کو اپنی مرضی کے مطابق لکھنے آئی تھیں، آج روسی خفیہ ادارے کا سربراہ اسی سرزمین پر گفتگو کے لیے پہنچتا ہے۔ وقت کا اس سے بڑا طنز کیا ہوگا کہ کل جو طاقت افغانستان کے دروازے توپوں سے کھولنا چاہتی تھی، آج اسی دروازے پر سفارت کاری کی انگلیوں سے دستک دے رہی ہے۔ مگر اس منظر کا دوسرا نصف اسلام آباد میں مکمل ہوتا ہے، جہاں روس کا وزیر داخلہ ایسے وقت میں موجود تھا جب پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان بداعتمادی اپنی نئی سرحدیں کھینچ رہی تھی۔ یہ محض اتفاق بھی ہو سکتا ہے، کسی وسیع تر علاقائی حکمت عملی کا حصہ بھی۔ ملاقاتوں کے اصل مقاصد کی مکمل تفصیلات سامنے آئے بغیر کوئی حتمی فیصلہ ممکن نہیں۔ لیکن سیاست میں بعض اتفاقات بھی اتنے معنی خیز ہوتے ہیں کہ ان کی خاموشی دیر تک بولتی رہتی ہے۔
پاکستان اور افغانستان کے درمیان اس وقت صرف ایک سرحد نہیں، شکایتوں کا ایک طویل صحرا پھیلا ہوا ہے۔اورریاستوں کے درمیان اعتماد کی وہ ندی خشک ہوتی جارہی ہے جس کے کناروں پر کبھی مستقبل کے باغ لگانے کے خواب دیکھے گئے تھے۔پاکستان افغان سرزمین سے تحریک طالبان پاکستان کی سرگرمیوں پر تشویش ظاہر کرتا ہے،جبکہ طالبان انتظامیہ ان الزامات سے اختلاف کرتی ہے۔ سرحدی کشیدگی نے دو ہمسایوں کو ایسی گفتگو میں الجھا دیا ہے جس میں ہر جملہ اپنے ساتھ ایک پرانا زخم لے کر آتا ہے۔ ایسے ماحول میں روس کے دو اہم سلامتی عہدیداروں کی دونوں دارالحکومتوں سے وابستہ سرگرمیاں ایک غیر معمولی سفارتی منظر تشکیل دیتی ہیں۔ یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ماسکو محض اپنے سلامتی مفادات کا جائزہ لے رہا ہے یا وہ ان دو ناراض ہمسایوں کے درمیان کسی نئے رابطے کی گنجائش بھی تلاش کر رہا ہے؟
پانچ اکتوبر کو ماسکو میں افغانستان سے متعلق مشاورتی اجلاس میں پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان اختلافات کے باعث مشترکہ اعلامیہ جاری نہ ہونے کی اطلاع اس سوال کو مزید گہرا کرتی ہے۔ روس نے اس صورت حال پر افسوس ظاہر کیا۔ سفارتی دنیا میں افسوس کبھی کبھی ایک نہایت مہذب احتجاج ہوتا ہے، ایک ایسا احتجاج جس کے ہاتھ میں کوئی پتھر نہیں ہوتا مگر اس کے لہجے میں شکستہ امید کی پوری عمارت موجود ہوتی ہے۔ مشترکہ اعلامیہ جاری نہ ہونا صرف الفاظ پر اختلاف نہیں، اس بات کی علامت بھی ہو سکتا ہے کہ فریقین ابھی ایک مشترکہ سیاسی راستہ تلاش نہیں کر پائے۔ ممکن ہے روس اس تعطل کو اپنے علاقائی مفادات کے لیے نقصان دہ سمجھتا ہو۔
ترکی اور قطر بھی افغانستان اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی سفارتی کوششوں سے وابستہ رہے ہیں۔ ترکی کے انٹلیجنس سربراہ ابراہیم قالن اور قطر کے اعلیٰ سلامتی عہدیدار کے افغانستان جانے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ کابل وہ چوراہا بن چکاہے جہاں مختلف ملک اپنے اپنے نقشے لے کر پہنچ رہے ہیں۔ کوئی سرحدوں کے تحفظ کی بات کرتا ہے، کوئی علاقائی استحکام کی، کوئی مذاکرات کی اور کوئی اپنے مستقبل کے مفادات کی۔دنیا کے نقشہ نویس اکثر سرحدوں کی لکیریں بہت خوب صورتی سے کھینچتے ہیں، لیکن ان لکیروں کے درمیان رہنے والے انسانوں کے آنسو کسی نقشے میں دکھائی نہیں دیتے۔
سوال یہ بھی ہےکہ کیا روس کابل اور اسلام آباد کے درمیان ایسی گفتگو کا راستہ تلاش کر سکتا ہے جسے دونوں فریق قبول کریں؟ کیا پاکستان اور افغانستان اپنے خوف کی زبان سے نکل کر مشترکہ مفادات کی زبان سیکھ سکیں گے؟ یا یہ دورے بھی سفارتی تاریخ کی ان بے شمار تصویروں میں شامل ہو جائیں گے جن میں مسکراتے ہوئے چہرے تو محفوظ رہ جاتے ہیں مگر مسائل اپنی جگہ زندہ رہتے ہیں؟ جواب مستقبل دے گا۔ فی الحال ماسکو نے جنوبی ایشیا کی شطرنج پر دو مختلف خانوں کو چھوا ہے۔ لیکن انسانوں کی تقدیر شطرنج نہیں ہونی چاہیے، جہاں بادشاہوں کی حفاظت کے لیے پیادوں کو قربان کردیا جائے۔
کابل اور اسلام آباد کے درمیان اگر کبھی حقیقی امن کی صبح طلوع ہوئی تو اس کا سورج ماسکو، انقرہ یا دوحہ کی کسی میز سے نہیں بلکہ دونوں ملکوں کے عوام کی زندگیوں سے پہچانا جائیگا۔ جب سرحد پر کھڑا سپاہی بندوق کے بجائے سلام کا جواب دے گا، جب تاجر کا قافلہ خوف کے بغیر گزرے گا، جب ایک افغان ماں اپنے بچے کو محفوظ مستقبل کا خواب دکھا سکے گی، تب معلوم ہوگا کہ سفارت کاری نے واقعی کوئی معجزہ کیا ہے۔ ورنہ تاریخ میں دوروں کی تاریخیں تو محفوظ رہتی ہیں، مگر امن کے بغیر ان کی حیثیت صرف ان قدموں جیسی ہوتی ہے جو صحرا میں بہت دور تک چلتے ہیں اور پیچھے کوئی راستہ نہیں چھوڑتے۔