• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اسرائیل نے حوثیوں سے متعلق انٹیلی جنس امریکا کے ذریعے سعودی عرب کے ساتھ شیئر کرنا شروع کردیں: اسرائیلی میڈیا کا دعویٰ

— فائل فوٹو
— فائل فوٹو

اسرائیل نے یمن میں حوثی جنگجوؤں سے متعلق انٹیلی جنس امریکا کے ذریعے سعودی عرب کے ساتھ شیئر کرنا شروع کردی ہیں۔

اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکا کے ذریعے سعودی عرب کو فراہم کی جانے والی انٹیلی جنس کا مقصد یمن میں حوثیوں سے لاحق خطرات سے نمٹنے اور آبنائے باب المندب میں آزاد بحری آمدورفت یقینی بنانے میں مدد دینا ہے۔

رپورٹ کے مطابق سعودی عرب نے امریکا سے اس سلسلے میں مدد طلب کی تھی، جس پر واشنگٹن نے یہ درخواست اسرائیل تک پہنچائی، اسرائیل نے حوثیوں کو خطے کے لیے ایک وسیع تر خطرہ قرار دیتے ہوئے سعودی عرب کو انٹیلی جنس فراہم کرنا شروع کر دی ہے۔

اس معاملے سے واقف ایک غیر ملکی ذریعے نے بتایا کہ حال ہی میں اسرائیل کا دورہ کرنے والے امریکی نمائندوں نے قاہرہ میں ہونے والے مذاکرات کے دوران کہا تھا کہ اسرائیل حوثیوں کے خلاف اسرائیلی فوج کے تجربے کی بنیاد پر سعودی عرب کو وسیع پیمانے پر انٹیلی جنس فراہم کر سکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اس انٹیلی جنس کی فراہمی کا بنیادی مقصد آبنائے باب المندب سے بحری جہازوں کی آزادانہ اور محفوظ آمدورفت یقینی بنانے میں مدد دینا ہے۔

اسرائیلی میڈیا کے مطابق یہ بات چیت ایسے وقت میں ہوئی جب سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے قاہرہ میں مصری صدر عبدالفتاح السیسی سے ملاقات کی۔ 

اس موقع پر امریکی سینٹرل کمانڈ کے نمائندوں نے بھی سیکیورٹی سے متعلق مذاکرات میں شرکت کی۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکی نمائندوں نے سعودی عرب کو حوثیوں کے خطرے سے نمٹنے میں مدد دینے کے لیے ایک مشترکہ علاقائی نظام قائم کرنے کی تجویز بھی پیش کی۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید