ویلیو ایڈڈ ٹیکسٹائل سیکٹر ایک بار پھر نئے بحران کے دہانے پر کھڑا ہے جسکی وجہ سے برآمدات میں کمی کے خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ اس حوالے سے انڈسٹری کو جہاں بلند پیداواری لاگت، بھاری ٹیکسوں، پالیسیوں میں عدم تسلسل، ریفنڈز کی ادائیگی میں تاخیر کے باعث غیر معمولی مشکلات کا سامنا ہے وہیں عالمی حالات نے اس صورتحال کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔ تاہم یہ حقیقت ہے کہ طویل عرصے سے ان مشکلات کا سامنا کرنے کے باوجود ویلیو ایڈڈ ٹیکسٹائل سیکٹر بالخصوص نٹ وئیر سیکٹر نے پاکستان کی برآمدات بڑھانے میں ہمیشہ نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ نٹ وئیر سیکٹر گزشتہ کئی دہائیوں سے نہ صرف روزگار کی فراہمی کا بڑا ذریعہ ہے بلکہ اس نے ٹیکسٹائل سیکٹر کے دیگر شعبوں کی نسبت ہمیشہ زیادہ گروتھ دکھائی ہے۔ اس حوالے سے پاکستان ہوزری مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے کردار کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ہے جو کہ 1960 میں اپنے قیام سے اس شعبے کی ترقی کیلئے فعال کردار ادا کر رہی ہے۔ واضح رہے کہ پاکستان کی ٹیکسٹائل برآمدات16-2015ءمیں12.447ارب امریکی ڈالر تھی جو کہ گزشتہ ایک دہائی میں 44فیصد اضافے کیساتھ 26-2025ءمیں 17.933ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گئی ہیں۔ اس عرصے کے دوران پاکستان کی مجموعی قومی برآمدات کا حجم بھی تقریباََ 45 فیصد اضافے کیساتھ 20.787ارب امریکی ڈالر سے بڑھکر 30.139ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔ اس سلسلے میں ٹیکسٹائل کا شعبہ سب سے بڑا حصہ ڈالتا ہے جس میں نٹ ویئر یا ہوزری سیکٹر کا شیئر سب سے زیادہ ہے اور یہی شعبہ ٹیکسٹائل سیکٹر میں سب سے زیادہ روزگار فراہم کرنے کا باعث ہے۔ اس لئے اگر بڑھتی ہوئی بیروزگاری میں کمی لانی ہے اور برآمدات میں اضافہ کرنا ہے تو حکومت کو چاہیے کہ ترجیحی بنیادوں پر ویلیو ایڈڈ ٹیکسٹائل بالخصوص ہوزری مینوفیکچررز کو درپیش بنیادی مسائل حل کرنے پر توجہ دے۔ اس وقت برآمدات کے فروغ میں سب سے بڑی رکاوٹ بلند ترین پیداواری لاگت، کاروباری سہولت میں مشکلات اور مسابقت کیلئے یکساں مواقع کا فقدان ہے۔ اسلئے برآمدات بڑھانے کو اولین ترجیح دیتے ہوئے ایسی پالیسیاں نافذ کرنے کی ضرورت ہے جن سے برآمدی شعبوں کو درپیش مسائل حل ہو سکیں۔ اس حوالے سے اولین اقدام یہ کیا جا سکتا ہے کہ ”برآمدات“ کو خصوصی طور پر وفاقی موضوع قرار دے کر طویل مدتی پالیسی بنائی جائے تاکہ چاروں صوبوں اور وفاقی اکائیوں میں اس کا یکساں نفاذ یقینی بنایا جا سکے۔ برآمدات میں اضافےکیلئے ٹیکسٹائل انڈسٹری بالخصوص ویلیو ایڈیشن کے شعبے میں مزید سرمایہ کاری ہونی چاہئے تاکہ اس کی پیداواری صلاحیت کو بڑھایا جا سکے۔ اس سلسلے میں جہاں انڈسٹری اپنے طور پر اقدامات کر رہی ہے وہیں حکومتی معاونت بھی ضروری ہے یا کم از کم ایسے کاروباری ماحول کی فراہمی ہونی چاہئے جس میں نئی سرمایہ کاری کے مواقع پیدا ہو سکیں۔
اسی طرح ویلیو ایڈڈ ٹیکسٹائل سیکٹر کی پیداواری لاگت میں کمی بھی وقت کا تقاضا ہے تاکہ عالمی منڈیوں میں پاکستانی برآمدکنندگان کی مسابقت بہتری بنائی جا سکے۔ اس سلسلے میں یکساں مواقع، مسابقتی بنیادوں پر توانائی کی قیمتوں کے نفاذ، ٹیکس اصلاحات، ریفنڈز کی بروقت ادائیگی اور پالیسیوں میں تسلسل ضروری ہے۔ اس کے بغیر نہ تو پاکستان میں پائیدار بنیادوں پر اقتصادی ترقی ممکن ہے اور نہ ہی برآمدات بڑھانے کیلئےدرکار سرمایہ کاری اور ویلیو ایڈیشن میں اضافہ ممکن ہے۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ ایک طرف برآمد کنندگان بین الاقوامی آرڈرز کے حصول اور قیمتی زرمبادلہ کمانے کیلئے دن رات کام کر رہے ہیں۔ دوسری طرف انہیں مسابقت میں مسلسل کمی اور بلند پیداواری لاگت کے چیلنجز کا سامنا ہے۔ اس وقت ٹیکسٹائل کی برآمدی صنعت بلند بجلی و گیس ٹیرف، مہنگی فنانسنگ، بھاری ٹیکسوں، ریفنڈز میں تاخیر، مہنگے درآمدی خام مال، بڑھتے ہوئے لاجسٹکس اخراجات، ضابطہ جاتی رکاوٹوں اور پالیسیوں میں بار بار تبدیلیوں کے باعث غیر معمولی دباؤ میں ہے۔ برآمد کنندگان محدود منافع پر کام کرتے ہیں اور پیداواری لاگت میں ہونے والے ہر اضافے کو بین الاقوامی خریداروں تک منتقل نہیں کر سکتے کیونکہ ایسے حالات میں خریدار دیگر مسابقتی ممالک کا رخ کر سکتے ہیں۔ علاوہ ازیں برآمد کنندگان کی لیکویڈیٹی بھی سیلز ٹیکس ریفنڈز، ایڈوانس ٹیکس کٹوتیوں، کسٹمز ریبیٹس اور ایکسپورٹ فسیلی ٹیشن اسکیم کے تحت ڈیوٹیز و ٹیکسز میں پھنس جاتی ہے جس سے ورکنگ کیپٹل اور نئے آرڈرز قبول کرنے کی صلاحیت براہ راست متاثر ہوتی ہے۔ اس صورتحال کو بہتر بنانے کیلئے ایک طویل مدتی پالیسی بنانا ہوگی تاکہ مسابقتی اور قابلِ پیش گوئی توانائی ٹیرف، معقول اور مستحکم ٹیکس نظام، بروقت ریفنڈز، سستی برآمدی فنانسنگ، مؤثر کسٹمز و لاجسٹکس، ضروری برآمدی ان پٹس تک ڈیوٹی فری اور بلا تعطل رسائی، ٹیکنالوجی اور مہارتوں میں سرمایہ کاری، ضابطہ جاتی رکاوٹوں میں کمی اور مؤثر تجارتی معاہدوں کے ذریعے زیادہ سے زیادہ مارکیٹ رسائی یقینی بنائی جا سکے۔اس سلسلے میں ایکسپورٹ فسیلی ٹیشن اسکیم کو زرمبادلہ کے حصول اور اقتصادی ترقی میں سرمایہ کاری کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ علاوہ ازیں وزیراعظم کے ایکسپورٹ پیکیج کے تحت "ڈی ایل ٹی ایل" اسکیم کو دوبارہ متعارف کروانے کی ضرورت ہے۔ اس کیساتھ ساتھ برآمدی مال کی ترسیل کے نظام کو بھی بہتر بنایا جانا چاہئے۔
گڈز ٹرانسپورٹ کی حالیہ ہڑتال اور احتجاج روکنے کیلئےبرآمدی مال کی نقل و حمل کیلئے استعمال ہونے والے کنٹینرز کی پکڑ دھکڑ نے لاجسٹکس کی کمزوریوں کو کھل کر عیاں کیا ہے۔ ان حالات میں برآمد کنندگان کیلئے پیداواری لاگت کو مسابقتی ممالک کی سطح یا اس سے کم کئے بغیر برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ ممکن نہیں ہے۔ ویلیو ایڈڈ ٹیکسٹائل سیکٹر اپنی مسابقت بہتر بنانے کیلئے پہلے ہی جدید ٹیکنالوجی، کوالٹی کنٹرول، بین الاقوامی سرٹیفیکیشنز، ہنرمند افرادی قوت کی تیاری اور ویلیو ایڈیشن میں سرمایہ کاری بڑھا رہا ہے۔تاہم آگے بڑھنے کا واحد راستہ یہی ہے کہ حکومت بھی اس سلسلے میں ایک مستحکم اور مسابقتی برآمدی ماحول فراہم کرنے میں اپنا کردار ادا کرے۔