سائنس دانوں نے ایک نئی تحقیق میں ایسا ممکنہ طریقۂ کار دریافت کیا ہے جو یہ سمجھنے میں مدد دے سکتا ہے کہ کائنات اربوں سال سے مستحکم کیسے ہے؟
نئی تحقیق کے نتائج کے مطابق کوانٹم فیلڈز اپنے اردگرد موجود دوسری فیلڈز کے ساتھ تعامل کے باعث اپنی موجودہ توانائی کی حالت میں قید ہو سکتی ہیں اور محققین نے اس عمل کو ’کاسمک لاک ڈاؤن‘ کا نام دیا ہے۔
تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ یہ عمل کائنات کی بنیادی ساخت میں بعض خطرناک کوانٹم تبدیلیوں کے امکان کو نمایاں طور پر کم کر سکتا ہے۔
یہ تحقیق برطانیہ کی یونیورسٹی آف پورٹس ماؤتھ اور امریکا کی سائراکیوز یونیورسٹی سے وابستہ محققین سمیت ایک بین الاقوامی ٹیم نے کی ہے جس کے نتائج سائنسی جریدے ’جرنل آف کوسمولوجی اینڈ ایسٹروپارٹیکل فزکس‘ میں شائع ہوئے ہیں۔
کوانٹم فیلڈ تھیوری کے مطابق کائنات میں ایسے بنیادی فیلڈز موجود ہیں جن کی تھرتھراہٹ سے ذرات اور مادّہ وجود میں آتے ہیں۔
ان فیلڈز کی توانائی مختلف کیفیات میں ہو سکتی ہے، جن میں سے ایک کیفیت بظاہر مستحکم ہوتی ہے، لیکن ضروری نہیں کہ وہ توانائی کی سب سے کم ممکنہ سطح بھی ہو، اس کیفیت کو ’فالس ویکیوم‘ کہا جاتا ہے۔
اگر کوئی فیلڈ کوانٹم ٹنلنگ کے ذریعے کم توانائی والی دوسری حالت میں منتقل ہو جائے تو بنیادی ذرات کی خصوصیات اور قدرتی قوتوں کے رویے میں انتہائی بڑی تبدیلی آ سکتی ہے۔
سائنس دانوں کے مطابق ہگز فیلڈ بھی ممکنہ طور پر ایسی حالت میں ہو سکتا ہے، یہی فیلڈ الیکٹران سمیت بنیادی ذرات کو کمیت فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے، تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ کائنات میں ایسی تبدیلی ہونے والی ہے، یہ ایک نظریاتی امکان ہے جس کا مطالعہ سائنسدان کر رہے ہیں۔
محققین نے ریاضیاتی ماڈلز اور کمپیوٹر سیمولیشنز کے ذریعے اس بات کا جائزہ لیا ہے کہ پھیلتی ہوئی کائنات میں کوانٹم فیلڈز اپنے اردگرد کے ماحول کے ساتھ کس طرح تعامل کرتی ہیں۔
تحقیق کے مطابق دوسری فیلڈز کے ساتھ تعامل کوانٹم فیلڈ کی مختلف ممکنہ حالتوں کے درمیان تبدیلی کو روکنے یا اس کا امکان کم کرنے میں کردار ادا کر سکتا ہے، اس عمل کا ’کوانٹم ڈی کوہرنس‘ سے تعلق ہے، جس میں ماحول کے ساتھ تعامل کے باعث کوانٹم نظام کی مخصوص خصوصیات متاثر ہوتی ہیں۔
محققین نے اس کیفیت کا موازنہ ’کوانٹم زینو ایفیکٹ‘سے بھی کیا ہے، جس میں کسی کوانٹم نظام کی مسلسل نگرانی یا تعامل اس کی حالت تبدیل ہونے کے عمل کو سست یا محدود کر سکتا ہے۔
سادہ الفاظ میں یوں کہا جا سکتا ہے کہ کائنات کے بنیادی فیلڈز اپنے اردگرد کے ماحول سے مکمل طور پر الگ نہیں ہوتیں، یہ تعامل بعض حالات میں انہیں ایک حالت سے دوسری حالت میں منتقل ہونے سے روک سکتا ہے۔
تحقیق کے نتائج کے مطابق یہ طریقۂ کار بعض کوانٹم فیلڈز کو مستحکم رکھنے میں مدد دے سکتا ہے لیکن محققین نے خبردار کیا ہے کہ ان کے ماڈل ابھی سادہ ہیں اور حقیقی کائنات کی تمام پیچیدگیوں کا احاطہ نہیں کرتے۔
اس لیے یہ تحقیق اس بات کا ثبوت نہیں کہ کائنات ہمیشہ مستحکم رہے گی یا ہگز فیلڈ کبھی اپنی موجودہ حالت تبدیل نہیں کرے گی، اس امکان کا بہتر اندازہ لگانے کے لیے زیادہ پیچیدہ ماڈلز اور مزید تحقیق درکار ہے۔
اس تحقیق کی اہمیت ابھی صرف اتنی ہے کہ اس سے سائنس دانوں کو یہ جاننے میں مدد مل سکتی ہے کہ کائنات کی بنیادی ساخت کو اربوں سال سے برقرار رکھنے میں کون سے عوامل شامل ہیں۔
