اکیسویں صدی کی سائنسی ترقی کا اگر گہرائی سے جائزہ لیا جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ انسانیت ایک ایسے عہد میں داخل ہو چکی ہے جس میں طبیعیات کی سب سے پیچیدہ شاخ، یعنی کوانٹم میکینکس، محض نظریاتی بحث نہیں رہی بلکہ ہماری روزمرہ زندگی کی بنیاد بن چکی ہے۔ جدید ٹیکنالوجی، عالمی ڈیجیٹل معیشت اور مصنوعی ذہانت کے ابھار کے پیچھے جو بنیادی قوت کارفرما ہے وہ یہی کوانٹم (Quantum) اصول ہیں۔ آنیوالے برسوں میں کوانٹم کمپیوٹنگ اور مصنوعی ذہانت کا امتزاج انسانی تہذیب کی سمت متعین کرے گا۔ اسی تناظر میں کوانٹم سائنس کی حیرت انگیز دنیا کو سمجھنا نہایت ضروری ہے۔
7 اکتوبر 2025ءکو نوبیل کمیٹی نے طبیعیات کا نوبیل انعام تین ممتاز سائنسدانوں بی جان کلارک، مائیکل ایچ ڈیورے اور جان ایم مارٹینس کو عطا کیا۔ ان محققین کے تجربات نے کوانٹم میکینکس کو محض درسی کتب کے صفحات سے نکال کر عملی ٹیکنالوجی کی دنیا میں داخل کر دیا ہے۔ عام طور پر لوگ کوانٹم ٹیکنالوجی کو ایک عجیب و غریب اور مستقبل کی چیز سمجھتے ہیںجوایسی مشینوں پر منحصر ہے جو خلا سے بھی زیادہ سرد درجہ حرارت میں کام کرتی ہیں، خفیہ تجربہ گاہوں میں رکھی جاتی ہیں اور صرف سفید کوٹ پہنے سائنس دان ہی انہیں چلا سکتے ہیں۔ مگر حقیقت اس سے کہیں زیادہ دلچسپ ہے۔ کوانٹم مظاہردراصل ہماری روزمرہ زندگی کے آلات میں پہلے ہی شامل ہو چکے ہیں۔ ہم انہیں استعمال تو کرتے ہیں مگر اکثر انکی موجودگی سے آگاہ نہیں ہوتے۔حقیقت یہ ہے کہ آج کی عالمی ڈیجیٹل معیشت ، جس میں NVIDIA جیسی کمپنیوں کا غیر معمولی عروج شامل ہے، دراصل انہی کوانٹم بنیادوں پر قائم ہے جو کئی دہائیوں پہلے رکھی گئی تھیں۔تصور کریں کہ ایک بچے کا جھولا ہے۔ کلاسیکی طبیعیات کی دنیا میں جھولا کسی بھی مقدار کی توانائی حاصل کر سکتا ہےکم، زیادہ یا درمیانی ،یہ اس بات پر منحصر ہے کہ اسے کتنی قوت سے دھکا دیا گیا ہے۔ لیکن کوانٹم دنیا میں صورتحال مختلف ہوتی ہے۔ یہاں توانائی مسلسل نہیں بلکہ مخصوص درجات میں موجود ہوتی ہے۔ اسے توانائی کی مقداری سطحیںکہا جاتا ہے۔ گویا توانائی ایک سیڑھی کی طرح ہے جسکے صرف مخصوص مراحل ہیں۔
کوانٹم دنیا کی ایک اور حیرت انگیز خاصیت کوانٹم سرنگ زنی ہے۔ اس میں ذرّات کبھی کبھی رکاوٹ کو عبور کیے بغیر اسکے دوسری جانب نمودار ہو جاتے ہیں، گویا وہ اس رکاوٹ کے اندر سے سرنگ بنا کر گزر گئے ہوں۔کوانٹم میکینکس کا ایک اور حیران کن پہلو کوانٹم الجھاؤ ہے۔ اس میں دو ذرّات مثلاً الیکٹرون یا فوٹون ایک دوسرے کیساتھ اس طرح جڑ جاتے ہیں کہ اگر وہ کائنات کے مختلف سروں پر بھی ہوں تو ایک میں ہونیوالی تبدیلی فوراً دوسرے میں ظاہر ہو جاتی ہے۔عظیم سائنسدان البرٹ آئن اسٹائن نے اس مظہر کو فاصلے پر پراسرار تعامل (Spooky Action at a Distance) قرار دیا تھا۔ آج بھی طبیعیات دان اس کے مکمل نظام کو سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔دلچسپ بات یہ ہے کہ اگر کوانٹم سرنگ زنی نہ ہوتی تو کائنات تاریک اور سرد ہوتی اور زندگی کا وجود ممکن نہ ہوتا۔یہ اس لئے کہ سورج بنیادی طور پر ہائیڈروجن اور ہیلیم پر مشتمل ہے۔ سورج کی روشنی اور حرارت اس وقت پیدا ہوتی ہے جب ہائیڈروجن کے مثبت بار والے پروٹون ایک دوسرے کے ساتھ مل کر نیوکلیئر فیوژن کا عمل انجام دیتے ہیں۔
لیکن روایتی طبیعیات کے مطابق ایسا ہونا تقریباً ناممکن ہونا چاہیے کیونکہ مثبت بار (Positively charged) والے ایٹم ایک دوسرے کو سختی سے دھکیلتے ہیں اور انکے درمیان ایک توانائی کی رکاوٹ موجود ہوتی ہے۔ سورج کا درجہ حرارت اس رکاوٹ کو عبور کرنے کیلئے کافی نہیں۔یہاں کوانٹم سرنگ زنی (Quantum Tunnelling) مدد کرتی ہے۔ ہائیڈروجن کے ذرّات بیک وقت ذرّہ اور wave کی خصوصیات رکھتے ہیں۔ اس خاصیت کی وجہ سے وہ توانائی کی رکاوٹ کو عبور کرنے کے بجائے سرنگیں بنا کر اس کے اندر سے گزر جاتے ہیں اور یوں فیوژن ہو جاتا ہے۔آج کے تمام جدید برقی آلات نیم موصل ہوتے ہیں۔ اور نیم موصل صرف اسلئے کارآمد ہیں کیونکہ الیکٹرون کوانٹم قوانین کی پیروی کرتے ہیں۔الیکٹرون مخصوص توانائی کی سطحوں میں موجود رہتے ہیں، توانائی کی رکاوٹوں کو سرنگ زنی کے ذریعے عبور کر سکتے ہیں اور برقی میدانوں کیساتھ اجتماعی ردعمل ظاہر کرتے ہیں۔اگر کوانٹم طبیعیات کی یہ سمجھ نہ ہوتی توٹرانسسٹر ،انٹیگریٹڈ سرکٹس ، اسمارٹ فونز ،لیپ ٹاپ ، ڈیٹا سینٹرز ، اور مصنوعی ذہانت کا وجود ممکن نہ ہوتا۔آپ کے موبائل فون کی اسکرین پر نظر آنے والے شوخ رنگ بھی کوانٹم توانائی تبدیلیوں کا نتیجہ ہیں۔ ایل ای ڈی اور لیزر ڈسپلے مخصوص Wavelengthsکی روشنی پیدا کرتے ہیں،لیزر ٹیکنالوجی کے استعمالات میں شامل ہیں ۔سپر مارکیٹ بارکوڈ اسکینر ، فائبر آپٹک انٹرنیٹ ، آنکھوں کی سرجری ، مائیکروچپس کی تیاری ، صنعتی مشینری طبی میدان میں مقناطیسی گونج تصویربرداری ( MRI) اسکی نمایاں مثالیں ہیں ۔ یہ ٹیکنالوجی جوہری مرکزوں کے اسپن اور مقناطیسی میدانوں کے ساتھ ان کے تعامل کو استعمال کرتے ہوئے انسانی جسم کی انتہائی تفصیلی تصاویر بناتی ہے۔آج دنیا کی سب سے بڑی کمپنی NVIDIA ہے جسکی مارکیٹ قدر تقریباً 4500 ارب امریکی ڈالر ہے۔اسکے گرافکس پروسیسنگ یونٹس (GPUs) دراصل کوانٹم اصولوں پر مبنی نیم موصل ٹیکنالوجی پر قائم ہیں۔ یہی GPUs آج مصنوعی ذہانت، آب و ہوا کی نمونہ سازی، خودکار گاڑیاں ، اورسائنسی نقلِ عمل کو طاقت فراہم کر رہے ہیں۔زیادہ تر کوانٹم کمپیوٹرز انتہائی کم درجہ حرارت یعنی تقریباً 459°F پر کام کرتے ہیں جو صفر درجہ فارن ہائٹ کے قریب ہے۔ اس وجہ سے انکی لاگت بہت زیادہ ہوتی ہے۔تاہم حالیہ پیش رفت نے اس تصور کو بدلنا شروع کر دیا ہے۔ ETH Zurich کے سائنسدانوں نے کمرہ درجۂ حرارت پر ظاہر ہونیوالا کوانٹمی طرزِ عمل کے تجربات میں اہم کامیابی حاصل کی ہے جبکہ اسٹین فورڈ یونیورسٹی نے 2025میں عام درجۂ حرارت پر کوانٹمی مواصلات آلہ تیار کیا۔2024میں متعارف ہونے والا ولو کوانٹم پروسیسرآنے والے برسوں میں کوانٹم کمپیوٹنگ اور مصنوعی ذہانت کا امتزاج انسانی تاریخ کے ایک نئے دور کا آغاز کرے گا۔ یہ وہ دور ہوگا جس میں سائنس اور ٹیکنالوجی کی رفتار انسانی تخیل سے بھی آگے نکل جائیگی۔ اس نئی دنیا میں وہی قومیں کامیاب ہوں گی جو علم، تحقیق اور جدت طرازی کو اپنی قومی ترجیح بنائیں گی۔پاکستان کیلئے بھی ضروری ہے کہ وہ اپنی نئی نسل کو اس بدلتی ہوئی دنیا کیلئے تیار کرے۔ ہمیں اپنے بچوں کو ایسی تعلیم فراہم کرنی ہوگی جو انہیں کوانٹم سائنس ، مصنوعی ذہانت اور اعلیٰ ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی کی سمجھ دے سکے۔ کیونکہ آنے والا وقت واقعی ایسا ہوگا جہاں حقیقت افسانے سے کہیں زیادہ حیران کن ہوگی۔