• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

میرے قیام کے دوران مراکو اس وقت دنیا کی توجہ کا مرکز بنا جب مراکو کے بادشاہ محمد ششم نے فاطمہ زہرہ المنصوری کو وزیراعظم مقرر کرنے کا اعلان کیا۔ اس طرح فاطمہ زہرہ المنصوری کو مراکو کی پہلی اور عرب دنیا کی دوسری خاتون وزیراعظم ہونے کا اعزاز حاصل ہوا۔ اس سے قبل تیونس کی نجلا بودن 2021ءسے 2023ءتک وزیراعظم کے منصب پر فائز رہ چکی ہیں۔ پیشے کے اعتبار سے وکیل فاطمہ زہرہ المنصوری مراکو کی سیاست میں نمایاں حیثیت رکھتی ہیں۔ وہ 2009ءمیں مراکو کے شہر مراکش کی پہلی خاتون میئر منتخب ہوئیں اور ان کے دور میں مراکش دنیا کے نقشے پر ایک سیاحتی شہر کے طور پر بن کر ابھرا۔ فاطمہ زہرہ اس سے قبل وزیر ہائوسنگ اور منصوبہ بندی بھی رہ چکی ہیں۔ 2026 میں ہونے والے حالیہ انتخابات میں ان کی کامیابی کے بعد بادشاہ محمد ششم نے انہیں مراکو کی وزیراعظم مقرر کیا۔

مراکو میں آئینی بادشاہت قائم ہے اور بادشاہ محمد ششم کو اہم آئینی اور سیاسی اختیارات حاصل ہیں۔ گوکہ 2011ءمیں آئینی اصلاحات کے نتیجے میں پارلیمنٹ اور حکومت کے اختیارات میں اضافہ ہوا تاہم بادشاہ محمد ششم ریاستی امور میں مرکزی حیثیت رکھتے ہیں۔ مراکو کی اقتصادی، معاشی، سفارتی ترقی اور استحکام کا سہرا بادشاہ محمد ششم کے سر جاتا ہے اور انہیں جدید مراکو کا معمار تصور کیا جاتا ہے۔ بادشاہ نے ملک کو انفراسٹرکچر، اقتصادی ترقی اور سماجی اصلاحات میں نمایاں پیشرفت کیساتھ جدیدیت کی راہ پر گامزن کیا ہے اور مراکو کا نقشہ بدل کر رکھ دیا ہے جس سے عوام کے طرز زندگی میں بہتری آئی ہے۔

میں نے گزشتہ دو عشروں میں مراکو کو ترقی پذیر سے ترقی یافتہ ملک بنتے دیکھا ہے، پورے ملک میں موٹر ویز کا جال بچھایا گیا ہے، نئی پورٹس تعمیر کی گئی ہیں، تمام بڑے شہروں میں ٹرامیں بچھائی گئیں اور 10 ارب ڈالر کی لاگت سے دنیا کی تیز ترین ’’البراق‘‘ ٹرین جس کی رفتار 350 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے، شروع کی گئی۔ بادشاہ محمد ششم کی قیادت میں مراکو کی خارجہ پالیسی نے بھی نہایت فعال کردار ادا کیا ہے اور یورپی یونین، امریکہ اور افریقی ممالک کے ساتھ آزادانہ تجارتی تعلقات کو فروغ دیا گیا ہے۔ آنے والے وقت میں مراکو کو سیاحت، زراعت، صنعت اور بین الاقوامی سرمایہ کاری سے فوائد حاصل کرنے کے وسیع مواقع میسر ہیں تاہم ان مواقع کو وسیع تر خوشحالی میں تبدیل کرنے کیلئے ضروری ہے کہ آنیوالی حکومت معاشی ترقی کے ثمرات عوام تک پہنچائے۔ مراکو کی سیاسی تاریخ میں کسی خاتون کا وزیراعظم منتخب ہونا ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پیش رفت نہ صرف مراکو بلکہ پوری عرب دنیا کی خواتین کیلئے امید اور حوصلے کا پیغام ہے تاہم حکومت کو خواتین کے روزگار، تعلیم تک رسائی، تشدد سے تحفظ اور خاندانی قوانین میں مساوات جیسے چیلنجز درپیش ہونگے۔ ان مسائل کا حل موثر قانون سازی، مضبوط اداروں اور ایسی پالیسیوں کے ذریعے ممکن ہے جو عام خواتین خصوصاً غریب اور پسماندہ طبقوں سے تعلق رکھنے والی خواتین کی زندگیوں میں بہتری لائے اور خواتین کو تعلیم، روزگار، معاشی خودمختاری اور فیصلہ سازی میں مردوں کے برابر مواقع میسر ہوں۔

پاکستان اور مراکو کے سیاسی نظام ایک جیسے نہیں۔ پاکستان ایک وفاقی پارلیمانی جمہوریہ ملک ہے جبکہ مراکو میں آئینی بادشاہت ہے مگر دونوں ممالک میں یہ مماثلت پائی جاتی ہے کہ پاکستان اور مراکو میں مختلف ادوار میںخواتین وزیراعظم منتخب ہوئیں۔ پاکستان میں بینظیر بھٹو کا وزیراعظم بننا بھی ایک تاریخی واقعہ تھا۔ وہ 1988ء میں پاکستان اور مسلم دنیا کی پہلی خاتون وزیراعظم منتخب ہوئیں اور ان کی کامیابی نے یہ ثابت کیا کہ مسلم خواتین قومی قیادت کی ذمہ داریاں سنبھالنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں مگر آج تقریباً چار دہائیاں گزرنے کے بعد بھی ہمارے سامنے یہ سوال موجود ہے کہ کیا پاکستان کی خواتین کو سیاست اور حکمرانی کے تمام شعبوں میں موثر اور مساوی مواقع حاصل ہیں؟ قومی اور صوبائی اسمبلیوں، بلدیاتی اداروں، سیاسی جماعتوں کی قیادت اور انتظامی مناصب میں خواتین کی نمائندگی اہم ہے لیکن نمائندگی کے ساتھ ساتھ فیصلہ سازی میں بھی حقیقی اختیارات وقت کی اہم ضرورت ہے۔ خواتین کو محض مخصوص نشستوں یا علامتی عہدوں تک محدود رکھنے کے بجائے انہیں سیاسی جماعتوں کے اندر قیادت، انتخابی عمل میں آزادانہ شرکت اور عوامی پالیسیوں کی تشکیل میں فعال کردار ادا کرنے کے مواقع فراہم کئے جانے چاہئیں۔ مراکو ہو یا پاکستان، خواتین کی سیاسی قیادت اسی وقت دیرپا تبدیلی کا ذریعہ بن سکتی ہے جب اسے عملی اصلاحات، معاشی خودمختاری اور سماجی انصاف کے ساتھ جوڑا جائے۔ مراکو میں خاتون وزیراعظم کا منتخب ہونا تاریخ کا اہم باب اور خوش آئند پیش رفت ضرور ہے لیکن اصل کامیابی اس وقت حاصل ہوگی جب خاتون قیادت سے ملک کی خواتین کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی آئے۔

تازہ ترین