• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بل کھاتی آئینی پگڈنڈیوں پر چلتے ہوئے کانٹے دار جھاڑیوں سے دامن بچانا ہی سیاسی دانشمندی ہے۔ سیاسی چالوں میں کپڑے اور دامن تار تار ہو جائیں یہ تشویش والا معاملہ ہے۔مزا تو تب ہے جب منزل بھی ہاتھ لگے اور دامن بھی داغدار نہ ہو۔ آج کل ایک تشویش نے امریکہ میں بھی گھر کیا ہوا ہے کہ لوگوں نے مڈٹرم الیکشن میں دھڑا دھڑ سرمایہ کاری شروع کردی ۔ یہ وسط مدتی انتخابات نومبر 2026ءکے پہلے منگل کو ہیں، یہ اس منگل کو ہوا کرتے ہیں جو پیر کے بعد آئے گا ( فرض کریں کبھی منگل یکم نومبر کو آ جائے پھر نہیں، پھر اگلے منگل)۔ حالانکہ امریکی آئین کمال کی زندہ دستاویز ہے جو دنیا کے مضبوط ترین صدر کو دو ہی سال بعد کسوٹی پر رکھ دیتا ہے۔

ایسے دستور اور صبح بے نور کو امریکہ نہیں مانتا جس میں ریاستوں( صوبوں) کو آزادی اور خود اعتمادی میسر نہ ہو۔ گو امریکی صدر پَر پُرزے نکالنے ہی پر مجبور نہیں ہوتے ان کے پاس ویٹو پاور بھی ہوتی ہے پھر بھی صدر امریکہ احتسابی نظروں کی زد میں رہتا ہے۔ مگر کوئی کیا کرے سرمایہ ہر ملک میں اپنا راستہ بنا لیتا ہے، راستہ نہ ملے تو سرمایہ خرید بھی لیتا ہے۔ کسی منچلے نے ایک معاشی درویش سے پوچھا یہ سرمایہ بند گلی سے راستہ کیسے بنا لیتا ہے؟ درویش نے گھورتے ہوئے کہا ’’بناتا نہیں، خرید لیتا یا وہ صحن دریافت کر لیتا ہے جو بِکنے کیلئے تیار ہو !‘‘

خیر، بےشمار طاقت کی خواہش وحشی بھی بنا دیا کرتی ہے سو ضروری ہے پارٹیاں اور پارٹی باز فطرت کے حصار توڑنے سے گریزاں رہیں۔ایڈامپیکٹ نامی معروف ادارے کے سروے اور ٹریکنگ رپورٹ کے مطابق سن 2026ء کے وسط مدتی انتخابات میں 10ارب 80 کروڑ ڈالر سے 11ارب 60 کروڑ ڈالر کے اشتہاری اخراجات کے سبب تمام تر ملکی ریکارڈ ٹوٹ چکے ہیں، یاد رہے اس کی وجہ یہ ہے کہ ڈیموکریٹس اور ری پبلکنز اپنی اپنی گرفت مضبوط کرنا چاہتے ہیں تاکہ قانون سازیوں اور ججوں کی نامزدگیوں پر دسترس ہو ، اس وقت ڈیموکریٹس کے پاس سو میں سے 51سینیٹرز ہیں یہاں کسی کو بھی دو چار کی برتری بڑا بوم دے سکتی ہے۔ آئیڈیل تو یہی ہوتا ہے کہ آپ کے منشور اوربیانیہ کی بدولت عوام آپ کا سوشل کیپٹل بن کر آپ کیساتھ جڑے رہیں نہ کہ آپ خواہشوں، ذہنوں اور دلوں کا مول لگا کر آنکھیں خیرہ کردیں۔

سیانے کہتے ہیں کہ امریکی سیاست اب پیسے کے گرد گھومتی ہے تاہم یورپی ممالک کی جمہوریت میں پیسہ کم انسانی کردار زیادہ بڑا اثر رکھتا ہے۔ مگر امریکہ تو یورپ سے پھر بھی بہت آگے ہے۔ خیر، پاکستان میں سیاست ازل سے جاگیرداری، خانقاہی اور سرمایہ داری کے گرد گھومی سوائے ذوالفقار علی بھٹو اور بانی پی ٹی آئی دور کے عروج میں۔ باقی مارکیٹ بنیادوں اور مال و زر کے اثرات ہی سے ہوئی۔ نظریات ، ریاستی تہذیب و ثقافت اور پالیسی پر آٹے میں نمک برابر ریاست ہونےکے سبب جمہوریت اب دنیا بھر میں ارتقائی نتائج ہی کا نتیجہ رہ گئی۔

جرمنی ، سویڈن اور ناروے وغیرہ نے معاملات اور پیسے کی ریل پیل پر نظر رکھ کر کنٹرول کر رکھا ہے۔ پاکستان ہی میں دیکھ لیجیے، پیسے کی سیاسی ریل پیل اشرافیہ کو تقویت بخشتی ہے، انسانی حقوق کے تناظر میں بننے والے قوانین سے بھی استفادہ طبقہ اشرافیہ سمیٹتا ہے اور عام آدمی لائن ہی میں لگا رہ جاتا ہے۔ کوئی گورنر راج ہو، ایڈوائزری کونسل یا جمہوریت، فوائد اور اقتدار فقط اشرافیہ کے دست مبارک میں اور عوامی ہاتھ خالی!

ووٹ کو عزت دو ، روٹی کپڑا اور مکان ، پھر ریاست مدینہ جیسےبیانیے میں پوری جمہوری و فلاحی خدائی سمٹ آتی ہے۔ کئی دہائیوں سےیہ تین بڑےبیانیے پاکستان پر راج کر رہے ہیں۔ وجہ کیا ہے کہ عوامی راج۔پھر بھی نہیں ملتا ؟ اصل میں سماجی ، سیاسی اور جمہوری فلسفہ کو انتخابی سرمایہ کاری معطل اور موخر کر کے سرمایہ کے بدلے منافع کی ڈگر پر چل نکلتی جس میں صرف طبقہ اشرافیہ ہی کماتا ہے باقی عوام مزدوری میں غرق ہوئے رہتے ہیں۔

یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ امریکہ انتخابی سرمایہ کاری کے باوجود فلاح اور رفاہ پاتا ہے پاکستان کیوں نہیں ؟ اس کا جواب بڑا سادہ سا ہے کہ امریکہ میں منتخب ہونے کے بعد کیا صدر، کیا گورنر، کیا ممبر ایوان نمائندگان اور کیا سینیٹر، سبھی ہر پل آئین اور قانون کی نظر اور کسوٹی پر رہتے ہیں۔ وہاں کے ٹیکس ، عدالتی، تعلیمی و معاشی اور ہیلتھ و ڈیولپمنٹ اصول کی شاہراہ پر گامزن رہتے ہیں، اور یہ سب گہری اصلاحات سے عمل میں آیا ۔ اول تو ہم اصلاحات کے ثمرات سے قاصر ہیں گر کچھ سطحی ریفارمز ہوں بھی تو فوائد کا دریا اشرافیہ کے گلستان ہی سیراب کرتا ہے عام آدمی کے ریگستان نہیں۔ امریکی صدور بھلے ہی دنیا بھر پر راج کرے مگر امریکی مواخذوں اور عوامی احتسابوں سے بہرحال ڈرتا ہے۔ یہاں سیاسی لیگیسی کا مطلب اولاد اور خاندانی تعلقات ہیں وہاں کی لیگیسی پالیسیوں کا جہان ہے۔

سن 1890ء سے 1920ء تک وہ پروگریسیو دور تھا جب امریکہ منظم ہو گیا اور 1930 ء کی دہائی نے نیو ڈیل سے اقدامات کو ایسا پُراثر بنایا کہ لاکھ انتخابی سرمایہ کاریوں کے باوجود رولز آف لا سے عام آدمی یا اشرافیہ کنی نہیں کترا سکی ۔ آرٹیکل 10اے تو پاکستانی آئین کی بھی زینت ہے مگر اس کا اطلاق عام اور اشرافیہ میں تو کیا ہوتا کبھی کبھی موثر اشرافیہ اور غیر موثر اشرافیہ میں بٹ جاتا ہے۔

تازہ ترین