• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی نے صوبوں پر بحث کو پس منظر میں دھکیل دیا

اسلام آباد :(انصار عباسی)…خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے بعد نئے صوبے بنانے، اضافی انتظامی اکائیاں قائم کرنے یا بلدیاتی حکومتوں کو مضبوط بنانے سے متعلق بحث سیاسی منظرنامے سے پس منظر میں چلی گئی ہے، جبکہ فوری توجہ صوبے کی صورتحال اور وفاقی حکومت و اس کے سیاسی اتحادیوں کے درمیان تعلقات پر مرکوز ہو گئی ہے۔ 

پاکستان کے انتظامی ڈھانچے کی ازسرِنو تشکیل سے متعلق بحث گزشتہ چند ماہ کے دوران زور پکڑ گئی تھی۔ سیاسی رہنما، پالیسی ساز اور ماہرین اس امر پر بحث کر رہے تھے کہ آیا چھوٹے صوبوں، بااختیار بلدیاتی حکومتوں یا اضافی انتظامی اکائیوں کے قیام کے ذریعے حکمرانی کے مسائل حل کیے جا سکتے ہیں۔ 

تاہم، خیبر پختونخوا میں پیش آنے والی حالیہ پیشرفت نے سیاسی منظر نامہ فوراً تبدیل کر دیا ہے، اور وفاقی حکومت و اس کے اتحادیوں کی توجہ ایمرجنسی کے نفاذ کے مضمرات اور صوبے میں مستقبل کے انتظامی انتظامات پر مرکوز ہو گئی ہے۔ 

نون لیگ کی قیادت میں قائم وفاقی حکومت کی اہم اتحادی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی صوبائی ڈھانچے کی ازسرِنو تشکیل سے متعلق بحث میں اہم حیثیت رکھتی ہے۔ 

پیپلز پارٹی کا موقف رہا ہے کہ نئے صوبے بنانے کی کسی بھی تجویز پر آئینی طریقۂ کار کے مطابق عمل ہونا چاہئے اور اس کیلئے متعلقہ صوبے کی مطلوبہ رضامندی حاصل کرنا ضروری ہے۔ 

سندھ اسمبلی بھی موجودہ صوبوں کی تقسیم کیخلاف قرارداد منظور کر چکی ہے۔ پیپلز پارٹی کا موقف خاص اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ صوبائی ڈھانچے میں کسی بھی بڑی تبدیلی کیلئے وسیع سیاسی اتفاقِ رائے اور آئینی طریقۂ کار کی پابندی ضروری ہوگی۔ 

پیپلز پارٹی نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج نافذ کرنے کے وفاقی حکومت کے فیصلے کا دفاع کیا ہے، تاہم پارٹی قیادت کا کہنا ہے کہ جماعت نے ابتداء میں مذاکرات کو ترجیح دی تھی اور ایمرجنسی کے اقدامات کو آخری راستہ سمجھا تھا۔ 

چنانچہ موجودہ حالات میں فوری توجہ خیبر پختونخوا کے انتظام و انصرام پر مرکوز ہو گئی ہے، جبکہ انتظامی ڈھانچے کی ازسرِنو تشکیل سے متعلق وسیع تر بحث تاحال کسی واضح قانون سازی کی سمت متعین نہیں کر سکی۔ 

گزشتہ چند ماہ کے دوران زیرِ بحث متبادل اقدامات میں چھوٹے صوبوں کا قیام، زیادہ انتظامی اور مالی اختیارات کے حامل مضبوط بلدیاتی اداروں کا قیام، اور حکمرانی و عوامی خدمات کی فراہمی بہتر بنانے کیلئے موجودہ انتظامی اکائیوں کی ازسرِنو تنظیم شامل رہی ہے۔ 

ان تجاویز کو ترک کرنے کے حوالے سے کسی باضابطہ فیصلے کا اعلان نہیں کیا گیا۔ تاہم، تازہ ترین سیاسی پیشرفت نے اس بحث کو فوری پالیسی ترجیحات سے پیچھے دھکیل دیا ہے، جبکہ ان تجاویز کو قانون سازی کی شکل دینے کیلئے کسی مصدقہ نظام الاوقات کا بھی اعلان نہیں کیا گیا۔ 

اس بحث کا مستقبل غالباً اس بات پر منحصر ہوگا کہ حکمران اتحاد انتظامی اصلاحات کے دائرۂ کار اور موجودہ صوبائی ڈھانچے میں کسی بھی تبدیلی کیلئے درکار آئینی تقاضوں پر مشترکہ مؤقف اختیار کرنے میں کس حد تک کامیاب ہوتا ہے۔

اہم خبریں سے مزید