• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کیا ایرانی فوج کے پاس فنڈز ختم ہو رہے ہیں؟

---فائل فوٹو
---فائل فوٹو

 ایران نے امریکی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی معیشت کے مکمل تباہ ہونے کا کوئی امکان نہیں، تاہم حکام نے اعتراف کیا ہے کہ امریکی پابندیوں اور جنگ کے باعث ملک کو مالی مشکلات کا سامنا ہے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر نے گزشتہ ہفتے دعویٰ کیا تھا کہ ایران پر فوجی حملوں اور اس کی جنوبی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی سے ایرانی معیشت کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

بریڈ کوپر کے مطابق امریکا نے ایران کی کم از کم 25 ارب ڈالرز کی خام تیل کی برآمدات روکنے کے ساتھ تقریباً 35 کروڑ ڈالرز کے کرپٹو کرنسی کے اثاثے بھی منجمد کرنے میں مدد دی۔

 ان کا دعویٰ تھا کہ اس کے نتیجے میں ایرانی پاسدارانِ انقلاب اپنے فوجیوں کو تنخواہیں دینے سے قاصر ہیں، جبکہ ایران سے منسلک علاقائی مسلح گروپوں کو بھی مالی قلت کا سامنا ہے۔

امریکی کمانڈر کے مطابق خطے میں ایران کے اتحادی مسلح گروپ اپنے اہلکاروں کی ادائیگیاں روک کر رقم پاسدارانِ انقلاب کو منتقل کر رہے ہیں، جو مبینہ طور پر اپنے فوجیوں کو بھی تنخواہیں ادا نہیں کر رہی۔

امریکی انٹیلی جنس اور جغرافیائی خطرات کے تجزیہ کار مائیکل نائٹس کے مطابق لبنان میں حزب اللّٰہ اور یمن میں حوثیوں کو گزشتہ چند برسوں کے دوران مالی مشکلات کا سامنا رہا ہے، تاہم یہ گروپ ایرانی مالی معاونت، ایندھن اور دیگر وسائل پر انحصار کرتے ہیں۔

دوسری جانب عراق میں بعض مسلح گروپوں کی مالی پوزیشن نسبتاً بہتر بتائی جاتی ہے۔

امریکی محکمۂ خزانہ نے الزام عائد کیا ہے کہ عراق میں سرگرم گروپ ایرانی مفادات کی معاونت کے لیے مقامی وسائل استعمال کر رہے ہیں اور رقم بیرونِ ملک منتقل کر رہے ہیں۔

ایران کی معیشت گزشتہ برسوں کے دوران جنگ، ناقص انتظامی پالیسیوں اور پابندیوں کے باعث دباؤ کا شکار رہی ہے، اس کے نتیجے میں مہنگائی میں اضافہ، قومی کرنسی کی قدر میں کمی اور روزگار کے مسائل پیدا ہوئے ہیں۔

عالمی بینک نے مالی سال 27-2026ء کے دوران ایرانی معیشت میں 7.7 فیصد سکڑاؤ کی پیش گوئی کی ہے۔

ایران کے مرکزی بینک کے سربراہ عبدالناصر ہمتّی نے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ شدید دباؤ کے باوجود ایرانی معیشت نے مزاحمت کا مظاہرہ کیا ہے اور معیشت کے تباہ ہونے کا دعویٰ محض ایک وہم ہے۔

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بھی اعتراف کیا ہے کہ فوجی حملوں اور بحری ناکہ بندی نے ملک کے لیے نمایاں مشکلات پیدا کی ہیں، تاہم ان کا کہنا ہے کہ حکومت دباؤ کا مقابلہ کرنے کے لیے ملکی وسائل پر انحصار کر رہی ہے۔

واشنگٹن میں قائم سینٹر فار انٹرنیشنل پالیسی کی سینئر فیلو نگار مرتضوی کے مطابق معاشی دباؤ ایران کے فوجی وسائل کو محدود ضرور کر رہا ہے، لیکن اس کا لازمی مطلب یہ نہیں کہ پاسدارانِ انقلاب اپنی حکمتِ عملی تبدیل کر دے گی یا تہران ہتھیار ڈالنے پر مجبور ہو جائے گا۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید