• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

راستہ تبھی نکل سکتا ہے جب امریکا تسلیم کرے کہ کوئی فوجی حل نہیں ہے، عباس عراقچی

ایرانی وزیر خارجہ عبّاس عراقچی : فائل فوٹو
ایرانی وزیر خارجہ عبّاس عراقچی : فائل فوٹو 

ایرانی وزیر خارجہ عبّاس عراقچی نے کہا ہے کہ خلیج فارس میں آگے کا راستہ تبھی نکل سکتا ہے جب امریکی حکومت واقعتاً تسلیم کر لے کہ اس کے پاس معاملے کا کوئی فوجی حل موجود نہیں۔

برطانوی اخبار فائنانشل ٹائمز میں اپنے ایک مضمون میں انھوں نے لکھا کہ اقوام متحدہ کے جنرل اسمبلی اجلاس کے موقع پر انھوں نے جو ملاقاتیں کیں ان میں ایک پیغام واضح تھا کہ ایران امریکا کے ساتھ ایک منصفانہ اور آبرو مندانہ سمجھوتہ چاہتا ہے۔

عبّاس عراقچی نے لکھا کہ اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے وائٹ ہاؤس کو سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا ہو گا اور اپنی جارحیت کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنے کی حقیقی خواہش کا اظہار کرنا ہو گا۔

انھوں نے لکھا کہ جنرل اسمبلی کے حالیہ اجلاس کے دوران انھوں نے مصالحت کاروں کے ذریعے امریکا کو سات دن کا ایک منصوبہ پیش کیا تاکہ جنگ ختم کرکے آبنائے ہرمز کھولی جا سکے۔ اس منصوبے میں امریکا سے کوئی ایسا مطالبہ نہیں کیا گیا جو وہ پہلے سے تسلیم نہ کر چکا ہو۔

عبّاس عراقچی نے لکھا کہ ہم پرامن تصفیے کے لیے تیار ہیں لیکن اپنے دفاع کے لیے بھی پوری طرح تیار ہیں۔ ہمیں ایران سے امن کے لیے امریکی حکومت کے خلوص پر بالکل بھی اعتبار نہیں۔

انہوں نے کہا کہ جون 2025 اور فروری 2026 میں ہم امریکا سے مذاکرات کر رہے تھے جب ہم پر بمباری کی گئی۔ اس سال جون میں جب صدر پزشکیان اور صدر ٹرمپ نے ایک سمجھوتے پر دستخط کیے، اس کے بعد ہم پر تیسری مرتبہ حملہ کیا گیا۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید