میرے گاؤں میں ایک بوڑھا شخص رہتا تھا۔ اس کے گھر کی دیوار پر ایک زنگ آلود تلوار لٹکی ہوئی تھی۔ میں نے پوچھا، بابا! یہ تلوار کس جنگ میں استعمال ہوئی تھی؟ اس نے کہا، جنگ کا نام یاد نہیں، مگر اتنا یاد ہے کہ دونوں طرف انسان مارے گئے تھے اور دونوں طرف فتح کے جشن منائے گئے تھے۔
میں نے پوچھا، پھر ہارا کون تھا؟ بوڑھے نے کہا، بیٹا! جنگ میں ہمیشہ انسان ہارتا ہے، فتح صرف تلوار کی ہوتی ہے۔
اس دن مجھے معلوم ہوا کہ جنگوں کی تاریخ میں فاتحین کے نام محفوظ رہتے ہیں، مقتولوں کے نہیں۔ میں نے دنیا کے نقشے کو غور سے دیکھا۔ سمندر نیلے تھے، پہاڑ بھورے، جنگل سبز اور ملک مختلف رنگوں میں تقسیم تھے۔ مگر مجھے کوئی ایسا نقشہ نہیں ملا جس پر انسانوں کے آنسوؤں کی سرحدیں کھینچی گئی ہوں۔
میں نے نقشہ فروش سے پوچھا، غزہ کے بچوں کی چیخیں، بغداد کی ماؤں کے بین اور کابل کے اجڑے ہوئے گھروں کی خاموشیاں کہاں ہیں؟ اس نے کہا، نقشوں پر صرف وہ چیزیں دکھائی جاتی ہیں جن کی سرحدیں ہوں۔ میں نے پوچھا، پھر انسانیت کا نقشہ کون بنائے گا؟ وہ خاموش رہا۔ شاید اس لیے کہ انسانیت کی کوئی سرحد نہیں ہوتی۔
میرے استاد کہا کرتے تھے کہ جب کوئی شخص تمہیں دوسرے انسان سے خوف زدہ کرنے لگے تو پہلے اس کی جیب دیکھنا۔ ممکن ہے تمہارے خوف کی قیمت وہاں رکھی ہو۔ آج خوف ایک بڑی صنعت ہے۔ اس کے کارخانوں میں بارود سے پہلے الفاظ تیار ہوتے ہیں۔ پہلے کسی قوم کا چہرہ مسخ کیا جاتا ہے، پھر اس کے عقیدے کو خطرہ قرار دیا جاتا ہے، پھر اس کے خلاف جنگ کو ضروری ثابت کیا جاتا ہے۔ قتل سے پہلے مقتول کی انسانیت چھین لی جاتی ہے۔ دنیا کی بہت سی جنگوں کا پہلا گولہ توپ سے نہیں، زبان سے نکلا تھا۔ ایک اسلحہ فروش کے کمرے میں دنیا کا نقشہ تھا۔ جہاں امن تھا وہاں سیاہ نشان، جہاں جنگ تھی وہاں سرخ پھول۔ میں نے پوچھا، یہ کیسا باغ ہے؟ وہ بولا، میری تجارت کا باغ۔ میں نے کہا، تمہارے پھولوں سے بارود کی بو کیوں آتی ہے؟ وہ ہنسا اور بولا، ہر شخص اپنے پیشے کی خوشبو پسند کرتا ہے۔
مجھے محسوس ہوا کہ بعض لوگوں کیلئے بہار کا مطلب پھولوں کا کھلنا نہیں، شہروں کا جلنا ہے۔ ایک میزائل کی قیمت میں کتنے اسکول بن سکتے ہیں؟ ایک بم کے بدلے کتنے بیماروں کو دوا مل سکتی ہے؟ جنگ کے حساب دان یہ سوال نہیں پوچھتے۔ ان کی کتابوں میں موت خرچ نہیں، آمدنی ہوتی ہے۔ غزہ کے ملبے میں دبے ہوئے کھلونے دیکھ کر مجھے اپنا بچپن یاد آیا۔ میری لکڑی کی گاڑی ٹوٹ گئی تھی۔ میں رویا تو ماں نے کہا، کل نئی لے دوں گی۔ میں خاموش ہوگیا۔ غزہ میں کتنی مائیں اپنے بچوں سے یہ وعدہ بھی نہیں کر سکتیں۔
مکان گرنے سے صرف دیواریں نہیں گرتیں، وہ جگہ بھی مٹ جاتی ہے جہاں کسی بچے نے پہلا لفظ بولا تھا۔ جنگ عمارتیں تباہ کرتی ہے، مگر اس کی اصل تباہی انسانی یادداشت میں ہوتی ہے۔ ایک بچے کی موت خبر بن جاتی ہے، ہزاروں بچوں کی موت اعداد و شمار۔ اعداد انسانوں کو گن لیتے ہیں، ان کے نام یاد نہیں رکھتے۔ میرے دوست نے پوچھا، کیا اسلام اور مغرب کے درمیان جنگ جاری ہے؟ میں نے کہا، پہلے بتاؤ مشرق کہاں ختم ہوتا ہے اور مغرب کہاں شروع ہوتا ہے؟ سورج مشرق سے نکلتا ہے مگر اس کی روشنی مغرب کے گھروں میں بھی داخل ہوتی ہے۔ یونان کے سوال بغداد پہنچے، بغداد کی دانش قرطبہ گئی، قرطبہ کے چراغ یورپ میں روشن ہوئے۔ تہذیبیں ایک دوسرے کی دشمن نہیں، ایک دوسرے کی مقروض ہوتی ہیں۔ دریا کبھی اپنے پانی سے نہیں پوچھتا کہ تم کس پہاڑ سے آئے ہو۔ میں نے ایک مسلمان، ایک یہودی اور ایک مسیحی بچے کو ایک درخت کے نیچے کھیلتے دیکھا۔ تینوں کی ماؤں کی دعاؤں کے الفاظ مختلف تھے۔ ایک بچے کے پاؤں میں کانٹا چبھا تو باقی دونوں نے اس کا مذہب نہیں پوچھا، اس کا پاؤں تھام لیا۔ مجھے محسوس ہوا کہ ابراہیمؑ کی روایت سے وابستہ مذاہب کے درمیان جتنی دیواریں بڑوں نے تعمیر کی ہیں، بچوں کے دلوں میں اتنی دیواریں نہیں۔ عبادت کے طریقے مختلف ہیں مگر رحم کی ضرورت مشترک ہے۔
میں نے ایک صوفی سے پوچھا، اسلام کیا ہے؟ بولا، اپنے اندر کے ظالم کو شکست دینا۔ شریعت کیا ہے؟ زندگی کو ذمہ داری سے گزارنا۔ طریقت کیا ہے؟ باطن کی تاریکیوں میں چراغ لے کر اترنا۔ حقیقت کیا ہے؟ مسکرایا اور کہا، اپنے آپ کو دوسروں سے بڑا سمجھنا چھوڑ دینا۔ یہ ایک صوفی کی تعبیر تھی، مگر اس میں ایک سوال تھا۔ جو مذہب انسان کو اپنی انا سے لڑنا سکھاتا ہے، اسے دوسرے انسانوں کے خلاف نفرت کا ہتھیار کیوں بنایا جائے؟
کسی کی نماز اس کی شہری وفاداری کا فیصلہ نہیں کر سکتی۔ جرم کو ثبوت سے پہچانا جاتاہے، عبادت سے نہیں۔ ایک بزرگ کہا کرتے تھے کہ ظلم کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔ فلسطینی کا حق اس کے مسلمان ہونے سے نہیں، انسان ہونے سے پیدا ہوتا ہے۔ یہی حق یہودی، مسیحی اور بے مذہب انسان کا بھی ہے۔ انصاف اگر صرف اپنے لوگوں کیلئے ہو تو انصاف نہیں رہتا، قبیلے کی خواہش بن جاتا ہے۔ تاریخ میں ان مذاہب کے ماننے والے کبھی پڑوسی رہے، کبھی حریف، کبھی محافظ اور کبھی ظالم۔ ماضی کو فرشتوں اور شیطانوںمیں تقسیم کرنا تاریخ نہیں، اپنی غلطیوں سے فرار ہے۔
آج مجھے پھر وہ زنگ آلود تلوار یاد آتی ہے۔ اگر اسے زبان مل جائے تو شاید کہے، مجھے بنانے والے کا نام محفوظ ہے، مجھے چلانے والے کا بھی، مگر جس انسان کا خون مجھ پر خشک ہوا، اس کا نام کون جانتا ہے؟ ہم جنگوں کے نام یاد رکھتے ہیں، مقتولوں کے نہیں۔ ہم اسلحے کی قیمت جانتے ہیں، زندگی کی نہیں۔ اسلام کے خلاف نفرت کا جواب کسی دوسرے مذہب سے نفرت نہیں ہوسکتا۔ اندھیرے کو اندھیرے سے شکست نہیں دی جاسکتی۔ تہذیب کی اصل ابتدا شاید اس دن ہوگی جب انسان کسی اجنبی کے زخم کو دیکھ کر اس کا مذہب نہیں پوچھے گا، بلکہ اپنے دامن کا ٹکڑا پھاڑ کر کہے گا، آؤ، پہلے تمہارا خون روکتے ہیں۔