معروف امریکی ٹیکنالوجی کمپنی ایپل نے اپنے پہلے فولڈ ایبل اسمارٹ فون ’آئی فون ڈو‘ کو مارکیٹ میں فروخت کے لیے پیش کر دیا۔
بین الاقوامی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق آئی فون ڈو کی فروخت آج یعنی جمعہ 23 اکتوبر 2026ء سے شروع ہوئی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس ڈیوائس کی کامیابی ایپل کے نئے چیف ایگزیکٹیو آفیسر جان ٹرنس کے لیے بھی ابتدائی امتحان سمجھی جا رہی ہے، جنہوں نے ستمبر میں عہدہ سنبھالنے کے بعد کمپنی کے اس نئے فون کی رونمائی کی۔
رپورٹ کے مطابق ایپل نے فولڈ ایبل فونز کی مارکیٹ میں ایسے وقت قدم رکھا ہے جب سام سنگ اور ہواوے جیسی کمپنیاں پہلے ہی کئی برس سے اس شعبے میں مہنگے فون فروخت کر رہی ہیں، لیکن ان کی ڈیوائسز اب تک زیادہ تر صارفین تک نہیں پہنچ سکیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کمپنی کو امید ہے کہ اس کی نئی ڈیوائس فولڈ ہونے والے فونز کی محدود مارکیٹ کو وسعت دے گی، بالکل اسی طرح جیسے کبھی آئی فون نے اسمارٹ فونز کی انڈسٹری میں بڑی تبدیلی پیدا کی تھی۔
رپورٹ کے مطابق گزشتہ ہفتے پری آرڈرز کھلنے کے چند ہی منٹ بعد ’آئی فون ڈو‘ کی متوقع ترسیل کی تاریخیں جنوری 2027ء کے آخری حصّے تک جا پہنچیں یعنی طلب دستیاب اسٹاک سے زیادہ ہے، کمپنی نے صارفین کے اس ردعمل کو ’غیر معمولی‘ قرار دے دیا ہے۔
رپورٹ میں بتایا ہے کہ آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں ایپل کے اسٹور کے باہر فروخت کے پہلے دن صبح 8 بجے سے پہلے ہی خریداروں کی قطار لگ گئی۔
رپورٹ کے مطابق ایک خریدار نے 512 جی بی اسٹوریج والے فون کے لیے 3 ہزار 899 آسٹریلوی ڈالرز، یعنی تقریباً 2 ہزار 734 امریکی ڈالرز ادا کیے۔
چین میں بھی ایپل کے ایک اسٹور کے باہر خریدار صبح 6 بجے سے موجود تھے، ان میں ایسے صارفین بھی شامل تھے جو پہلے ہی دوسری کمپنیوں کے فولڈ ایبل فون استعمال کر رہے تھے، لیکن اب ایپل کی نئی ڈیوائس آزمانا چاہتے ہیں۔
آئی فون ڈو کی ابتدائی جائزہ رپورٹس میں اس کے پریمیئم ڈیزائن اور مضبوط، نسبتاً کم نمایاں قبضے (ہنج) کو سراہا گیا ہے کیونکہ فولڈ ایبل فونز میں اسکرین کے درمیان نظر آنے والی شکن ایک عرصے سے اہم مسئلہ رہی ہے، اس لیے اس حصے میں بہتری کو خاص اہمیت دی جا رہی ہے۔
دوسری جانب بعض صارفین نے کیمرے کی سہولتوں اور بڑی اندرونی اسکرین کے مطابق تھرڈ پارٹی ایپس کی تیاری پر سوال اٹھائے ہیں۔
کچھ صارفین کے مطابق فون بند ہونے کے بعد اس کی بیرونی اسکرین عام آئی فون کے مقابلے میں روزمرہ کے فوری کاموں کے لیے کم موزوں محسوس ہو سکتی ہے۔
اگرچہ ’آئی فون ڈو‘ نے توجہ حاصل کی ہے، لیکن ہر صارف کے لیے اس کی خریداری موزوں ہونا ابھی طے نہیں۔
رپورٹ کے مطابق مارکیٹ ریسرچ کے ادارے آئی ڈی سی (IDC) کو توقع ہے کہ آئی فون ڈو 2027ء میں فولڈ ایبل فونز کی مارکیٹ میں سب سے زیادہ فروخت ہونے والی ڈیوائس بن سکتا ہے، تاہم یہ صرف پیش گوئی ہے، حتمی نتیجہ نہیں۔
ایپل کے لیے اصل چیلنج صرف صارفین کی دلچسپی حاصل کرنا نہیں بلکہ پیچیدہ فولڈنگ ڈیزائن کو بڑی تعداد میں تیار کرنا، ترسیل کے وقت کو کم کرنا اور صارفین کو قائل کرنا بھی ہے کہ روایتی اسمارٹ فون کے مقابلے میں اس فولڈ ایبل فون کی اضافی قیمت فائدہ مند ہے۔
یوں آئی فون ڈو کی ابتدائی طلب نے ایپل کے نئے تجربے کو نمایاں تو کر دیا ہے، لیکن اس کی طویل مدتی کامیابی کا انحصار قیمت، دستیابی اور حقیقی استعمال کے تجربے پر ہو گا۔