• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

یہ گورے کتنے دلچسپ لوگ ہیں، اپنے کام سے کام رکھتے ہیں، کسی دوسرے کے معاملات میں قطعی ٹانگ نہیں اڑاتے، خاص طور پر کسی کی پرائیویسی کا شدید حد تک احترام ہے، ساتھ بیٹھے ہوں یا پاس سے گزریں آئی کنٹیکٹ تک نہیں کریں گے، کوئی ناآشنالڑکی آپ کو کتنی ہی اچھی لگی ہے آپ ہلکی سی ترچھی نظر ڈال کر آنکھیں آگے لے جائیں گے، چند سیکنڈز سے زیادہ اگر آپ نے نظریں ٹکانے کی کاوش کی تو اسے ہراسمنٹ گردانا جائیگا جو قابل تعزیر جرم ہے،آپ کسی کی توہین نہیں کر سکتے؟ حقارت سے کالے کو کالا بھی نہیں کہہ سکتے ورنہ ریسسٹ گردانے جائیں گے، ذرا سی کوتاہی پر ڈیفامیشن کا کیس ہو سکتا ہے لیکن اسی چیز کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے، آپ کسی بھی عاقل بالغ لڑکے یا لڑکی کے پاس جا کر ایکسکیوز می کہتے ہوئے احترام اور وقار کے ساتھ کوئی بھی بات کر سکتے ہیں سوال پوچھ سکتے ہیں اور نہیں تو رستہ ہی پوچھ لیں۔

وہ سمائیلنگ فیس کے ساتھ اس طرح پیش آئےگا یا آئےگی جیسے کوئی آپ کا بہت ہی ہمدرد انسان پیش آ سکتا ہے بلکہ اس سلسلے میں ایک بہت ہی اعلی ٰ روایت بارہا درویش نے تجربہ کی، پہلے بھی اور حالیہ ٹور میں بھی بالخصوص نوجوان نسل میں چاہے وہ لڑکا ہے یا لڑکی، آپ سے تعاون اتنے انہماک سے کریں گے، رستہ باریکی سے سمجھائیں گے، نزدیک ہے تو خود چھوڑ کر آئیں گے کہ آپ کے دل سے ان کیلئے دعا نکلے گی، لندن سے لیسٹر یا کیٹرنگ جاتے ہوئے ایک ریل اسٹیشن پر پلیٹ فام نمبر 4 کا پوچھا تو وہ معصوم ساتھ چل کر خود آئی پلیٹ فارم نمبر4 کے ایک بنچ پر بٹھا کر گئی، ساتھ یہ بھی کہا کہ اتنے منٹ بعد فلاں گاڑی آئے گی آپ نے صرف اسی میں بیٹھنا ہے۔ غلطی یا مجبوری سے اگر آپ کچھ دیرکیلئے رستہ روک کر بھی کھڑے ہو گئے ہیں تو وہ لوگ خاموش رہ کر انتظار کر لیں گے مروت اور شائستگی دکھائیں گے شاؤٹ نہیں کریں گے، آپ سے بھی یہی توقع رکھیں گے، دوسروں کی موجودگی میں اپنے یا اپنی دوست سے بات اتنی آہستہ کریں گے مبادا آپ کو خلل محسوس نہ ہو۔

پورا مہینہ ہو چکا، کہیں کوئی ہارن بجتے نہیں سنا، نہ کسی کو لڑتے دیکھا، نہ کہیں کوئی ایکسیڈنٹ نظروں کے سامنے آیا، اتنی محتاط ڈرئیونگ، پیدل چلنے والوں کی بے پناہ عزت، عمومی رویہ مبنی بر انسان نوازی، امیر غریب، چھوٹے بڑے، کالے گورے سب برابر، بات بات پرسوری اور تھینک یو۔گوروں کی ایک دلچسپ بات یہ لگی کہ یہ لوگ پانچ دن سخت محنت کرتے ہیں اور دو دن جی بھر کے انجوائے کرتے ہیں، دوستوں کی محفلوں سے لطف اندوز ہوتے اور خوشیاں بانٹتے ہیں، اس حوالے سے سوہو سٹریٹ میں ملاحظہ کی گئی کئی مثالیں پیش کی جا سکتی ہیں ۔ قدم قدم پر اس قدرہریالی و خوبصورتی ہے کہ یہاں پیدل گھومنا بھی اچھا لگتا ہے، سب علاقے بہت اچھے ہیں اور ہوں گے مگر اس سادہ لوح دیہاتی کو سوہو سٹریٹ سب سے بارونق لگی بالخصوص ویک اینڈ پریہاں اتنی خوبصورتی ہوتی ہے جس کی لطافت کو لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ جی چاہتا ہے کہ اپنا سارا قیمتی وقت اس خوبصورتی کی نذرکر دیا جائے،لیکن نہیں، یہاں ایک سے بڑھ کر ایک پرکشش مقامات ہیں۔

باقی تو چھوڑیں یہاں کے میوزیمز میں ہسٹری کی دلکشی چھائی ہوئی ہے،دن کیا مہینے بھی ان کیلئےناکافی ثابت ہوں گے، ناچیز نے پورے انہماک سے جی بھر کے انہیں دیکھا مگر تفصیلات اگلے دن کا تقاضا کر رہی تھیں۔ بسوں اور ٹرینوں کا سسٹم اس قدر باکمال ہے کہ حیرت ہوتی ہے،یہاں کی زندگی کس قدر منظم ہے ہر چیز وقت پر کوئی گنجائش ہی نہیں کہ کہیں کوئی بے پروائی کر سکے ۔ دکانوں، مارکیٹوں، پارکوں، تعلیمی و کاروباری اداروں، ہسپتالوں، تاریخی عمارتوں ہر جگہ بھرپور ڈسپلن ملاحظہ کیا۔ درویش کو انگلینڈ کے دلچسپ موسم، خوبصورت ماحول، سرسبز و شاداب پارکوں اور ہر مقام پر بھرپور ہریالی اور پھولوںنے ہی متاثر نہیں کیا، یہاں کی ملاوٹ کے بغیر خالص خوراک، تازہ پھلوں اور سبزیوں کے معیار سے بھی خوشی ہوئی، خالص دودھ دہی نے تو اپنے گاؤں کا زمانہ یاد دلا دیا۔ البتہ لندن میں ایک بہت بڑا ایشو ہے اپنی گاڑی کی پارکنگ۔ لندن ہی نہیں انگلینڈ کے دیگر شہروں میں بھی یہ پریشان کن ایشو ہے اور اگر کہیں خالی پارکنگ مل بھی جائے تو بھی وقت کے مطابق پاؤنڈز کٹیں گے۔ شاید اسی لئے ان کی ڈبل ڈیکر بسیں اور ٹرینیں خوب چلتی ہیں۔ سفر کرتے ہوئے اور ویسے بھی امیر غریب کا کوئی فرق محسوس نہیں ہوتا، ان کی سوسائٹی میں قیمتی زیورات اور شاہانہ پہناوے کی کوئی مقابلہ بازی نہیں، مرد خواتین زیادہ یا تھوڑے مگرسمارٹ لباس میں بھاگم بھاگ، سارا دھیان کام پر ہے، دوسروں کا برا سوچنے کیلئےشاید کسی کے پاس ٹائم ہی نہیں ۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ یہاں امیروں کو بھی اپنے کام خود کرنے پڑتے ہیں اور غریبوں کو اپنی محنت کا اچھا خاصا معاوضہ گھنٹوں کے حساب سے مل جاتا ہے۔ورکروں کےحوالے سے ہمارےکئی عادی لوگوں کو اچھی خاصی پرابلم تو بہرحال محسوس ہوتی ہے، جس کا گلہ ڈاکٹر صاحب نے بھی کئی بار کرتے ہوئے جلد واپسی کا تقاضا کیا، سچ تو یہ ہے کہ ان کے سماج کی ہمارے سماج میں موجود امیر غریب ،اونچ نیچ یا دکھاوے اورہپوکریسی سے جان چھوٹ گئی ہے ۔

تازہ ترین