آر 4 ملکوں (پاکستان، ترکیہ، مصر اور سعودی عرب) نے مشرقِ وسطیٰ کی صورتِ حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے امن کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے، چاروں ممالک نے فلسطین میں دو ریاستی حل پر جلد عمل درآمد کا مطالبہ کر دیا۔
استنبول میں پاکستان، ترکیہ، مصر اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ کا اجلاس ہوا جس کا مشترکہ اعلامیہ جاری کر دیا گیا۔
مشترکہ اعلامیے میں اسرائیلی قبضے کو خطے اور اس سے باہر عدم استحکام کی بنیادی وجہ قرار دیتے ہوئے فلسطین میں دو ریاستی حل پر فوری عمل درآمد کا مطالبہ کیا گیا۔
اعلامیے میں چاروں ممالک نے 1967ء سے پہلے کی سرحدوں کے مطابق آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا، جس کا دارالحکومت مشرقی بیت المقدس ہو۔
اعلامیے میں غزہ میں انسانی امداد کی فراہمی اور آبنائے ہرمز میں محفوظ بحری آمد و رفت کی بحالی پر بھی زور دیا گیا، سعودی عرب پر حوثی ملیشیا کے حملوں، خصوصاً شہریوں اور شہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کی مذمت کی گئی، جبکہ بحیرۂ احمر اور باب المندب میں تجارتی جہازوں پر حملے بند کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔
چاروں ممالک نے یمن کی حکومت اور سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار بھی کیا۔
اعلامیے کے مطابق امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان تنازع کا حل صرف مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے ممکن ہے۔