• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مکہ دفاعی معاہدے کی توثیق ہر ملک کا اپنا طریقہ کار، بھارت سے جنگ مسائل کا حل نہیں، دفتر خارجہ

اسلام آباد (ماریانہ بابر ، نیوز ایجنسیاں) ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ مکہ دفاعی معاہدے کی توثیق کا ہر ملک کا اپنا اپنا طریقہ کار ہے،ترک پارلیمنٹ میں پیش کئے گئے مکہ معاہدے کے متن کی توثیق کرتے ہیں،حوثی حملوں کے حوالے سے مکہ معاہدے کے مطابق تینوں ممالک مل کر فیصلہ کریں گے،بھارت سے جنگ مسائل کا حل نہیں، انڈیا ایک اور فالس فلیگ آپریشن کرسکتا ہے ،پاکستان مکمل طور پر تیار اور اپنی سرحدوں کی حفاظت کرنا جانتا ہے، ترجمان نے بھارت میں مودی حکومت کی جانب سے ایک اور مسجد کو بے دخلی کا نوٹس جاری کئےجانے کی اطلاعات پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا،انہوں نے کہا کہ یہ بھارت بھر میں مسلمانوں کی عبادت گاہوں اور وقف جائیدادوں کو باضابطہ طور پر نشانہ بنانے کا ایک اور قابلِ مذمت عمل ہے، جو بھارت میں بڑھتی ہوئی اسلامو فوبیا کی عکاسی کرتا ہے۔ تفصیلات کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان سجاد حیدر خان نےکہا کہ بھارت سے جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں،امن و استحکام کے خواہاں ہیں،مقبوضہ کشمیر اور سندھ طاس معاہدے سمیت تمام مسائل کو پرامن اور عالمی قانون کے مطابق حل کرنا چاہتے ہیں،ہفتہ وار بریفنگ کے دوران انٹرنیشنل کرائسز گروپ کی تازہ ترین رپورٹ "مقبوضہ جموں و کشمیر میں تناؤ کا سبب،بھارتی حکومت کی طرف سے عسکریت پسندانہ تشدد" کے حوالے سے’’دی نیوز‘‘ کی رپورٹ کا معاملہ بھی دفتر خارجہ کی ہفتہ وار میڈیا بریفنگ میں اٹھایا گیا،ترجمان نے خبردار کیا کہ انڈیا کی طرف سے ایک بار پھر فالس فلیگ آپریشن کے امکان کو رد نہیں کیا جاسکتا تاہم پاکستان اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کیلئے مکمل طور پر تیار ہے،انہوں نے E3 اجلاس کے حوالے سےبتایا کہ، پہلا اجلاس بنیادی طور پر R4 ممالک،مصر، ترکیہ، پاکستان، اور سعودی عرب کے درمیان ہوگا، اس اجلاس کے بعد، R4 کا E3 کے ساتھ اجلاس ہوگا، یہ ساتوں ممالک کا مشترکہ اجلاس ہوگا، اور یہ پہلی بار منعقد ہو رہا ہے۔انہوں نے کہا:"مباحثے میں پورے خطے کو متاثر کرنے والے مسائل کا احاطہ کیا جائے گا، بشمول سمندری بحری راستوں کا محفوظ گزرگاہ ہونا، یمن کی صورتحال، حوثی، اور بابِ المندب/آبنائے ہرمز کا معاملہ شامل ہے، انہو ں نے بتایا کہ اس بنیادی مقصد امن و استحکام کو فروغ دینے اور مجموعی صورتحال میں کشیدگی کو کم کرنے کے راستے اور وسائل تلاش کرنا ہے،ہم نے ایسی رپورٹس دیکھی ہیں کہ اٹلی کو بھی شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔ تاہم، E3 بنیادی طور پر برطانیہ، فرانس اور جرمنی پر مشتمل ہے۔ اس لیے، یہ اجلاس بنیادی طور پر E3 کی مصروفیت ہے، اگرچہ اٹلی کی شرکت کا بھی حالیہ اضافے کے طور پر ذکر کیا گیا ہے۔وزیر خارجہ اسحاق ڈار آر فور اجلاس میں شرکت کے لیے ترکیہ پہنچ چکے ہیں،آر فور کے بعد آر فور پلس ای تھری اجلاس ہوگا۔ یہ اس فارمیٹ کا پہلا اجلاس ہوگا۔اس سوال پر کہ کیا پاکستان کو بھارت کی جانب سے ایک اورفالس فلیگ آپریشن (جعلی کارروائی) کا خطرہ نظر آتا ہے،دفتر خارجہ کے ترجمان سجاد حیدر خان نے جواب دیا:"موجودہ صورتحال سے پیدا ہونے والے خطرے کے حوالے سے، مئی 2025 کے تنازع کے بعد سے، بھارت مسلسل یہ دعویٰ کرتا آ رہا ہے کہ اس کا نام نہاد’’آپریشن سندور‘‘ جاری ہے۔ اگرچہ یہ مسائل دونوں ممالک کے درمیان تنازع کے ممکنہ خطرے کا باعث بنے ہوئے ہیں، لیکن ہمارا خیال ہے کہ بھارت پاکستان کے ساتھ کسی اور تنازع میں نہیں الجھے گا۔ پاکستان اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لئے مکمل طور پر تیار ہے، اور ہمارے لیے اس حوالے سے پریشان ہونے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔"تاہم، انہوں نے خبردار کیا کہ فالس فلیگ آپریشن ہمیشہ سے ایک طریقہ کار رہا ہے اور اس طرح کے ایک اور آپریشن کے امکان کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ترجمان نے کہا کہ او آئی سی کے اجتماعی موقف کے بارے میں بھارت کا اندازِ بیان گمراہ کن اور بین الاقوامی برادری کے مشترکہ جائز خدشات کو نظر انداز کرنے کے مترادف ہے۔ جائز خدشات پر سوال اٹھانے کے بجائے بھارت کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کو پورا کرے، کشمیری عوام کے بنیادی حقوق کا احترام کرے۔

اہم خبریں سے مزید